پاکستان

مریم نواز نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کیوں کردیا؟

پاناما پیپرز کی رپورٹنگ کرنےوالے صحافیوں سے ٹوئٹر پر تکرار کےبعد اہلخانہ نے مریم نواز کو محتاط ہونے کا مشورہ دیا، ذرائع

لاہور: اپوزیشن جماعتوں پر تنقید اور پاناما پیپرز کے معاملے پر بین الاقوامی صحافیوں سے تکرار کے بعد وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنی ٹوئیٹس کے حوالے سے خاصی محتاط دکھائی دیتی ہیں۔

مریم نواز نے نہ صرف مختلف مسائل کے حوالے سے اپنے 'بلاجھجھک ردعمل' کو کم کیا ہے بلکہ ان کی جانب سے اپوزیشن بالخصوص پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کے چیئرمین عمران خان کے خلاف تنقید میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

ڈان اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ ماہ تک مریم نواز ٹوئٹر پر خاصی فعال تھیں تاہم 2 مئی کو انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغامات میں پاناما پیپرز کو 'کچرا' قرار دیتے ہوئے ان کا تعلق کرپشن سے نہ ہونے کا دعویٰ کیا۔

ساتھ ہی وزیراعظم کی صاحبزادی نے پاناما پیپرز کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ 'پاناما کے معاملے کو سامنے لانے والے صحافیوں کی حالت زار ناقابل فہم ہے، ان صحافیوں کی حکومت گرانے کی ظاہر و خفیہ کوششیں بےسود رہیں'۔

جس کے بعد مریم نواز کی ان ٹوئیٹس کا جواب دیتے ہوئے پلٹزر ایوارڈ جیتنے والے صحافی بیس تیئن ابرمیئر نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں انہیں آگاہ کیا تھا کہ 'افسوس کے ساتھ آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ پاناما پیپرز کا تعلق کرپشن سے تھا'۔

مزید پڑھیں: پاناما لیکس: مریم نواز کی ٹوئیٹس پر غیرملکی صحافی کی وضاحت

یس تیئن ابرمیئر کے ساتھ کام کرنے والے اور پلٹزر ایوارڈ جیتنے والے فریڈرک ابرمیئر نے بھی اس بحث کا حصہ بنتے ہوئے نواز شریف کی صاحبزادی کی تصحیح کی اور انہیں بتایا تھا کہ 'یہ لیکس دنیا بھر کے 80 سے زائد ممالک میں 150 سے زائد تحقیقات، تفتیش اور آڈٹ کا سبب بنیں'۔

شریف خاندان سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ 'بین الاقوامی صحافیوں کے ساتھ ہونے والی اس تکرار کے بعد مریم نواز کو ان کے اہل خانہ کی جانب سے محتاط ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ سوشل میڈیا پر جاری ہر معاملے پر تبصرہ کرنا ضروری نہیں'۔

ذرائع کے مطابق نواز شریف اور معروف بھارتی بزنس ٹائیکون کے درمیان ملاقات کے حوالے سے کی گئی مریم نواز کی ٹوئیٹ بھی سیاسی مخالفین کو وزیراعظم کی بھارتی دوستیوں پر تنقید کا موقع فراہم کرنے کا سبب بنی۔

خیال رہے کہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مریم نواز نے لکھا تھا کہ ’سجن جندال وزیر اعظم کے پرانے دوست ہیں اور ان کی وزیر اعظم سے ملاقات خفیہ نہیں، اس لیے اس بات کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیئے'۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ 'مریم بی بی اب بہت محتاط ہوچکی ہیں، اب آپ کو بمشکل ان کی جانب سے کوئی بنا سوچے سمجھے کی گئی ٹوئیٹ دکھائی دے گی'۔

یہ بھی پڑھیں:جرمن اخبار نے مریم نواز کا پاناما پیپر سے تعلق ظاہر کردیا

پلٹزر ایوارڈ جیتنے والے صحافیوں کی جانب سے کی جانے والی تصحیح کے بعد مریم نواز کی ذاتی ٹوئیٹس کی تعداد میں واضح کمی سامنے آئی ہے۔

اس واقعے سے قبل 2 اپریل سے 2 مئی کے درمیان ان کی ذاتی ٹوئیٹس کی تعداد 130 کے قریب تھی، جو 3 مئی سے 3 جون کے دوران 40 ہوچکی ہے۔

اب وہ سوشل میڈیا کا استعمال کم کرچکی ہیں اور زیادہ تر پی ٹی آئی اور چیئرمین پی ٹی آئی پر ناقدین کی ٹوئیٹس اور تصاویر کو ری ٹوئیٹ کرتی ہیں۔

2012 میں ٹوئٹر کا حصہ بننے والی مریم نواز 2013 کے وسط میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے زیراقتدار آنے کے بعد سوشل میڈیا پر فعال ہوئیں، تاکہ حکومت کے خلاف پی ٹی آئی کی تنقید کا جواب دیا جاسکے۔

اس سے قبل سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی ہی موجود دکھائی دیتی تھی۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم کا آپریشن: مریم نواز بنیں ترجمان

ذرائع کے مطابق 'مریم کے سوشل میڈیا پر فعال ہونے کا مقصد ان کے والد کی حکومت کے خلاف سیاسی مخالفین کو جواب دینا تھا اور ان ہی کی وجہ سے اب ن لیگ سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے سامنے کھڑی ہے'۔

اس حوالے سے ڈان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی رائے حاصل کرنے کی بھی کوشش کی، جو مریم نواز سے خاصی قریب ہیں، تاہم انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

ن لیگ کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ نے ڈان کو بتایا کہ یہ تاثر کہ مریم نواز نے سوشل میڈیا کا استعمال کم کردیا ہے درست نہیں۔

واضح رہے کہ حنا پرویز بٹ خود بھی سوشل میڈیا پر خاصی فعال ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'مریم نواز اب بھی سوشل میڈیا پر فعال ہیں اور ملک میں جاری مختلف ترقیاتی منصوبوں کو سامنے لاتی رہتی ہیں، اس کے علاوہ وہ مختلف علاقوں میں لوڈشیڈنگ کے اوقات سے بھی خود کو باخبر رکھتی ہیں'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'مریم نواز کا اکاؤنٹ عام شہریوں کے لیے موجود ہے، جو اپنے مسائل بیان کرنا چاہتے ہیں اور وہ ان مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن کوشش کرتی ہیں'۔

حنا پرویز بٹ کے مطابق 'ملک میں کچھ بھی ہو مریم اس پر اپنا ردعمل ضرور دیتی ہیں، وہ بہت بہادر خاتون ہیں جو کبھی ہار نہیں مانتیں'۔


یہ خبر 6 جون 2017 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔