نقطہ نظر

ہمالیہ کا سندھو سانپ

اُس سانپ کا قصہ جو سندھ سمندر تک پہنچا مگر اب انڈس ڈیلٹا کی کہانی اُلٹے رخ پر ہے۔

کراچی کے ساحل پر انگریز سپاہ نے قدم رکھے تو اُن کے سالار نے گوری سرکار کو تار بھیجا۔ سرچارلس نیپئر نے لکھا تھا: 'میں سندھ میں ہوں۔' آپ کو اطلاع دیتا ہوں بحریرہ عرب کے ساحل کا یہ قصہ اسکردو سے شروع ہوا۔

پاکستان کا انتہائی شمالی خطّہ دیو مالائی سرزمین ہے۔ یہیں بلتستان کا صدر مقام اسکردو واقع ہے، جہاں سے سندھو گزرتا ہے۔ دیومالائی داستانوں سرزمین پردریا سے منسوب کئی کہانیاں کہی جاتی ہیں، ایک میں نے بھی سنی۔

کہنے والے سُناتے ہیں کہ بہت دور، پاکستان کے انتہائی شمال میں برف کی اونچی اونچی چوٹیوں والے پربتوں کے دُور اُفتادہ اُن قصبوں، گاؤں اوردیہاتوں میں، جہاں سے دریائے سندھ گزرتا ہے، آج بھی ایک لوک کتھا کہی جاتی ہے۔

انسانی بستیوں سے دنوں نہیں بلکہ مہینوں کے فاصلے پر واقع دشوار گذار ہمالیہ پہاڑی سلسلے کی تنگ گھاٹیوں میں، کن پھٹے جوگیوں کا ایک ڈیرہ تھا۔ یہ ریاضت کی ایک بہت اعلیٰ منزل پر پہنچ جانے والے جوگیوں کا لقب ہے۔ اُس بار بھی کچھ جوگی ریاضت کی اُس منزل تک پہنچنے کی جستجومیں وہاں جمع تھے۔

ایک دن وہ سارے جوگی ریاضت میں مصروف تھے کہ کسی کا دھیان بھٹکا۔ اس نے اپنے بہت قریب ایک بہت ہی بڑے سانپ کو دیکھا۔ سانپ نظر آئے اور جوگی بین نہ بجائے، اُسے پکڑنے کے لیے نہ لپکے، یہ تو ہوہی نہیں سکتا۔

سانپ چھوٹا ہو یا بڑا،جوگیوں کے لیے اسے پکڑنا کھیل جیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ وہ ریاضت، عبادت سب بھول کر اٹھا۔ اس کے کئی اور ساتھی بھی اٹھے، بین لبوں سے لگائی اور سانپ کی طرف لپکے۔

تھوڑی سے بھاگ دوڑ ہوئی، کچھ دیر تک بین بجائی گئی، کسی منتر کا راگ اَلاپ کیا ۔۔۔ اورپھر سانپ ان کے پنجوں کی گرفت میں۔

سانپ قابو آیا توجوگیوں نے بین اٹھا کر ایک طرف رکھیں اور اسے ایک بڑی سی پٹاری میں بند کرنا چاہا۔ یہ دیکھ کر تو سانپ کے اوسان بھی خطا ہوگئے، جان بچانے کے لیے اُس نے اپنی پوری قوت لگادی۔

ایک توسانپ بہت بڑا، اوپر سے مہینوں سے روزہ دار جوگیوں کی کمزور جسمانی قوت۔ بس! پھر کیا تھا۔ سانپ ان کے ہاتھوں سے کھسکا اور پنجوں کا گھیرا توڑ کر بھاگ نکلا۔ جوگیوں کا خوف اور قید سے بچنے کے لیے اس بے چارے پر اتنی ہیبت سوار ہوئی کہ وہ سر پٹ رینگتا ہی چلا گیا۔

لہراتا، بل کھاتا سانپ اتنا تیز رینگا کہ جوگی تھک ہار کر کافی پیچھے رہ گئے مگر وہ کہاں برداشت کرسکتے تھے کہ سانپ جُل دے کر بچ نکلے۔ وہ بھی ہانپتے کانپتے، گرتے پڑتے، اس کے بَل کھاتے نشانات کا پیچھا کرتے دوڑتے رہے۔ دوڑ بھاگ، پکڑ بچاؤ کا کھیل جاری تھا۔۔

قصہ گو کہتے ہیں کہ بہت آگے جاکرسانپ کو سندھ سمندر نظر آیا اور وہ جان بچانے کے لیے اُس کی آغوش میں سماتا چلا گیا۔

قصہ گو حیرت سے بتاتے ہیں کہ سانپ جہاں جہاں سے بھی گذرا، جس جس انداز میں لہراتا ہوا رینگا ، اُسی انداز میں، اُنہی راستوں پر، اس کے پیچھے پیچھے ایک بہت بڑا دریا نمودار ہوتا چلا گیا ۔

وہ دریا بھی تیزی سے انہی راستوں پربہتا، آگے جا کر اُسی 'سندھ سمندر' میں غائب ہونے لگا، جہاں پر جوگیوں کا بھگوڑا ہمالیے کا سانپ غائب ہوا تھا۔

کہنے والے تو یہ کہتے ہیں کہ دریا جس جگہ سے نمودار ہوا، یہ وہی مقام تھا جہاں سے بھگوڑے سانپ نے جان بچانے کے لیے رینگنا شروع کیا۔

کہتے ہیں کہ لوک کتھائیں عقل کی میزان پر تولی نہیں جاسکتیں، انہیں تو دل کی کسوٹی پر پرکھا جاتا ہے۔ عقل اور دل، دونوں کو ساتھ ساتھ لیے پھرنے والے مجھ جیسے بے چین جب یہ کتھا سنتے ہیں تو کئی سوال کرڈالتے ہیں، میں نے بھی کیے تھے مگرجواب لوک داستان سنانے والو ں کوکہاں معلوم تھا۔

سوال تھا کہ کہیں یہ دریا، وہی جوگی تو نہیں جن کے ہاتھوں سانپ پکڑا گیا اوریہ کہ کیا وہ اب بھی دریا کی صورت بہتے ہوئے، سانپ کا تعاقب جاری رکھے ہوئے ہیں؟

اسکردو میں پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے خوبصورت موٹیل میں، دریائے سندھ کے عین سامنے، قراقرم پہاڑوں کی آغوش میں واقع دلکش سبزہ زار پر، صبح سویرے جعفر حسین نے مجھے سانپ اور دریا والی یہ داستان اُس وقت سنانا شروع کی، جب ہم ناشتے کے بعد چائے پی رہے تھے۔

اگست کا مہینہ اورسن دو ہزار چار کی اُس سہانی صبح وہ مجھے دیوسائی کے بُلند میدانوں تک لے جانے کے لیے آیا تھا۔ وہ اسکردو کے نواح کا باشندہ ہے ۔ بقول جعفر حسین 'میرے بزرگ تبّت سے بَلتی یول آئے تھے۔'

جعفر حسین کرائے پر جیپ چلاتا ہے۔ تھوڑی بہت رسمی تعلیم بھی حاصل کرچکا ہے۔ اس نے گلگت سے آگے تک کا کبھی سفر نہیں کیا۔ چالیس سال کی عمر میں اس کی سوچ بالغ ہوچکی لیکن وہ کششِ ثقل کے اصول پرپانی کے بہاؤ کا قدرتی اصول ماننے پر تیار نہیں۔ میرے ایک سوال کے جواب میں وہ یقین سے کہہ رہا تھا۔ 'اب بھی سانپ والا دریا سندھ سمندر میں غائب ہوتا ہے۔'

گزشتہ کئی روز کی ہمراہی کے سبب ہمارے درمیان تکلفات کا پردہ اٹھ چکا تھا۔ اس لیے وہ بلا جھجک اپنی روایات کے صادق ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔

کیا تم نے سندھ سمندر دیکھا ہے، جہاں سانپ غائب ہوا اوروہ سندھ دریا اب بھی وہیں پر، سمندر میں غائب ہوجاتا ہے؟ جواب میں جعفر کے ہونٹ نہیں ،سرہلا تھا اوروہ بھی نفی میں دائیں سے بائیں اور پھر بائیں سے دائیں ۔

'مگر میں نے دیکھا ہے، بارہا دیکھا' اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا لیکن جان بوجھ کر بات ادھوری رہنے دی۔

خاموش ہوا تو اُس نے نہایت توجہ سے میرے چہرے پر اپنی نظریں گاڑدیں۔ ہم دونوں خاموش تھے لیکن اس کی خاموشی میں اشتیاق اور تجسس چھپا تھا اور میں مزید کچھ کہہ کر اُس کا معصوم دل نہیں توڑنا چاہتا تھا۔

وہ اپنے بزرگوں کی لوک کتھا کی تصدیق سننے کے لیے یکسوئی سے چند لمحوں تک میری شکل تکتارہا مگر میں خاموشی سے سگریٹ کے کش لیتا رہا۔ اُس وقت جان بوجھ کر اپنی بات مکمل نہیں کرنا چاہتا تھا۔ نفی میں جواب دے کرجعفر کو ایسا بد دل نہیں کرناچاہتا تھا کہ وہ اولاد کی اولادوں تک یہ لوک کتھا منتقل نہ کرسکے۔

جعفر حسین کے تجسس کو میں سمجھ رہا تھا لیکن اسے یہ نہیں بتانا چاہتا تھا کہ جوگیوں کے سانپ والے راستے پر بہنے والا دریا اب سندھ سمندرمیں غائب نہیں ہوتا۔

جعفر حسین کو تو میرا جواب نہیں مل سکا تھا ، مگرآپ سنتے چلیے۔

جعفرحسین کی بیان کردہ صدیوں پرانی لوک کتھا کے مطابق 'جوگی اور سانپ' کے تعاقب کا یہ سفر ہزاروں برس سے جاری و ساری ہے لیکن میرے لفظوں میں پڑھیں یا جا کر خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔۔۔ لگتا ہے کہ جوگی، سانپ اوردریا۔۔۔ تینوں اب تھکنے لگنے ہیں۔

اب سندھو دریا کا پانی 'سندھ سمندر' یا بحیرۂ عرب سے ہم آغوش ہونے کے بجائے، اس سے لگ بھگ سو میل دور ہی کہیں غائب ہوجاتا ہے۔۔۔

کہانی کا سفر اُلٹا شروع ہوچکا ہے۔ اب دریا پیچھے ہٹ رہا ہے اور سمندر اُنہی راستوں پر، اُس کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھنا شروع ہوگیا، جن پر کبھی لہراتا ہمالیہ کا سندھو سانپ 'سندھ سمندر' کی آغوش میں سما جاتا تھا۔

قصہ ابھی ختم نہیں ہوا، کہانی بہتی جارہی ہے دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ۔


 

مختار آزاد
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔