Email


Your Name:


Recipient Email:


سہون: لعل شہباز قلندر کی غیر متنازع سلطنت

فاروق سومرو

فاروق سومرو، جو 'دی کراچی والا' اور 'اوورلینڈ کراچی' کے روح رواں ہیں، پاکستان کے پراسرار اور حیرت انگیز مقامات کو دریافت کرنے کے عادی ہیں۔

سہون کراچی والوں کے لیے ایک مثالی ویک اینڈ مقام ثابت ہوسکتا ہے خاص طور پر موسم سرما میں یا یوں کہہ لیں کہ سردیاں وہاں جانے کے لیے زیادہ اچھا موسم ہیں کیونکہ گرمیوں میں وہاں درجہ حرارت آپ کے لیے ناقابل برداشت ثابت ہوسکتا ہے۔

حیدرآباد سے وہاں تک جانے والی سڑک بہت اچھی ہے اور ٹریفک کافی منظم نظر آتا ہے، جبکہ ہائی وے کے ارگرد سورج مکھی کے کھیت اس راستے کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

حیدرآباد سے سہون کی دوری ڈیڑھ سو کلو میٹر ہے اور وہاں پہنچنے میں لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹہ لگ جاتا ہے۔

سہون یا سیوستان جو صدیوں پہلے اسے کہا جاتا تھا، ماضی میں اس خطے کا اہم تجارتی مرکز تھا جہاں سے تاجر دور دراز مقامات سے آتے تھے، مگر اب اس کی قسمت بدل چکی ہے۔

تجارتی راستے تبدیل ہوچکے ہیں اور اقتدار کی گدی اب نئے شہری مراکز میں منتقل ہوچکی ہے، اب یہاں کی پرانی کشش کے درمیان جب آپ شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اداسی کا احساس آپ سے ٹکراتا ہے۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

آگ اگلتے سورج کے نیچے گاڑیاں، بیل گاڑیاں اور لوگ کچی سڑکوں پر جگہ کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں، آپ قریبی دیہات کے رہائشیوں کو یہاں سوزوکی پک اپ گاڑیوں میں آتے جاتے دیکھ سکتے ہیں جو کہ اس علاقے میں ٹرانسپورٹ کا مقبول ذریعہ ہے۔

یہاں شجرکاری بہت کم ہے اور یہاں کی زمین میں تھور یا نمکیات کی زیادہ مقدار جدید تعمیرات کے رنگ و روغن کو کھا کر منظر کو بدنما بنا دیتی ہے، جبکہ حالیہ ترقی غیر واضح اور مختلف سیاسی جماعتوں کے نعرے اور پوسٹرز کنفیوژن میں مزید اضافہ کر دیتے ہیں۔

متعدد سیاستدان آج کے سہون کی ترقی کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ متعدد ماضی میں بہت کچھ کر چکے ہیں، تاہم یہ سب ایک درویش کا کرشمہ ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ اپنا قد بڑھاتا جا رہا ہے یعنی لعل شہباز قلندر، ان کے قد و قامت کے سامنے باقی سب بونے لگتے ہیں، ان کا مزار دیگر ہر تعمیرات کو بونا بنا دیتا ہے اور ان کا سہون پر راج کا دعویٰ آج بھی چیلنج نہیں ہو سکا ہے۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

سید محمد عثمان مروندی جنھیں عام طور پر لعل شہباز قلندر کے نام سے جانا جاتا ہے، بارہویں صدی عیسوی صدی کے صوفی بزرگ ہیں جو مروند میں پیدا ہوئے جو آج کے افغانستان کا حصہ ہے، انہوں نے مدینہ، کربلا اور مشہد کے دورے کیے تاکہ روحانی گائیڈنس حاصل کرسکیں اور معروف روایات کے مطابق انہیں برصغیر جا کر خدا کا پیغام پھیلانے کی ہدایت کی گئی تھی۔

وہ اوچ شریف کے سید جلال الدین بخاری کے ہم عصر تھے اور وہ سہون موجودہ عہد کے پنجاب، سندھ اور اجمیر کا سفر کر کے پہنچے۔

ان کے پسندیدہ مرید بودلا بہار تھے جن کا مزار پرانے قلعے کے قریب ہے اور یقیناً دیکھنے لائق ہے، وہاں آپ گلوکاروں کا ایک گروپ دیکھ سکیں گے جو ان دونوں بزرگوں کی روایات کو مناتے نظر آتے ہیں اور لوگوں سے آپ کو اس معروف کہانی کا پتا چلے گا کہ کس طرح بودلا بہار اپنی موت کے بعد بڑھے اور قلعہ کیسے نیچے چلا گیا۔

کہانی میں بتایا جاتا ہے کہ کس طرح سہون کے حکمران، لعل شہباز قلندر اور بودلا بہار کی بڑھتی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر، بودلا بہار کے ٹکڑے کرنے کا حکم دیا جس پر فوجیوں نے اس حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس بزرگ کو شہید کر دیا۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

جب شہباز قلندر کو اس سانحے کا پتا چلا تو انہوں نے اپنے پسندیدہ مرید کا نام پکارا تو ان کی ٹکڑوں میں تقسیم لاش جوڑ کر پھر سے بودلا بہار کی شکل اختیار کر کے اپنے پیر کے نعرے کا جواب دینے آگئی، اس کے باوجود حکمران لعل شہباز کی تبلیغ پر اثرانداز ہوا تو بودلا بہار نے لعل شہباز قلندر کے حکم پر پورے قلعے کو الٹا کر دیا، لوگوں کا دعویٰ ہے کہ اس کے کھنڈرات میں الٹے قلعے کو دیکھا جاسکتا ہے۔

بودلا بہار سے لعل شہباز کے مزار کی جانب تنگ راستے پر چلنے کے دوران آپ ارگرد ہر طرح کی دکانوں کو دیکھ سکتے ہیں جن میں چادروں سے لے کر پلاسٹک کے کھلونے اور چینی الیکٹرونکس وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے، یہاں زندگی کبھی سست نہیں ہوتی۔

رات بھر لوگ چائے کے مزے لیتے ہیں، حقہ نوشی، خریداری اور دیگر سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں، سب سے اہم چیز یہاں خواتین کی موجودگی ہے۔

وہ ہر جگہ ہوتی ہیں چاہے شاپنگ کی بات ہو یا موسیقی سے لطف اندوز ہونے کی یہاں تک کہ مزار پر دھمال کی شکل میں کچھ خواتین رقص کرتی نظر آتی ہیں، یہاں ان پر کسی قسم کی سماجی پابندی نہیں کیونکہ یہ شہباز کی نگری ہے۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

مغرب کے وقت کے دھمال میں شرکت کرنا کبھی نہ بھولیں جہاں آپ سازندوں کو دیوقامت ڈرمز بجاتے دیکھ سکیں گے۔ بچے، بڑے اور خواتین کسی کی پروا کیے بغیر رقص کرتے نظر آتے ہیں، کچھ کی آنکھوں میں آنسو اور دیگر مسکراتے نظر آتے ہیں، دھمال کا اختتام ایک گھنٹے بعد ہوتا ہے، مگر موسیقی اور ڈھول بجنے کا سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے۔

آپ یہاں پاکستان بھر سے آنے والے خاندانوں کو مزار کے مختلف کونوں میں آرام کرتے دیکھ سکتے ہیں، کچھ اپنا کھانا خود بناتے ہیں جبکہ دیگر مزار کے ارگرد کھانے پینے کے مراکز کا رخ کرتے ہیں۔

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

— فوٹو فاروق سومرو
— فوٹو فاروق سومرو

یہ پارٹی کبھی ختم نہیں ہوتی، کوئی واپس جانے کا سوچ تو لیتا ہے مگر مزار میں فاتحہ سے پہلے ایسا نہیں کرتا، مگر اس کے لیے آپ کو وہاں موجود ہجوم کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے تاکہ آگے جانے کے لیے جگہ بنا سکیں۔

کچھ روتے نظر آتے ہیں اور اپنا سر ریلنگ پر رکھ دیتے ہیں، لعل شہباز قلندر انہیں ہر قسم کے رنگ و نسل، ذات اور دیگر چیزوں سے قطع نظر امید دیتے ہیں اور شکر گزاری و احترام کی ایک لہر آپ کے جسم و جاں میں دوڑنے لگتی ہے۔


فاروق سومرو کراچی کے رہائشی ہیں جو کراچی کی زندگی (یا اس کی عدم موجودگی) سامنے لاتے ہیں۔ انہیں ونائل ریکارڈز اور کتابیں جمع کرنے کا شوق ہے۔

انہیں فیس بک پر فالو کریں، اور ان کی ویب سائٹ دی کراچی والا وزٹ کریں۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔