• KHI: Partly Cloudy 29.9°C
  • LHR: Partly Cloudy 31.5°C
  • ISB: Clear 28°C
  • KHI: Partly Cloudy 29.9°C
  • LHR: Partly Cloudy 31.5°C
  • ISB: Clear 28°C

متحدہ قومی موومنٹ - ایم کیو ایم

شائع April 6, 2013 اپ ڈیٹ April 6, 2013 02:21pm

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)کو اس کی موجودہ شکل میں، سب سے بہتر انداز میں، سیکولر جماعت کے طور پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

اس کے غالب ارکان کا تعلق اُردو بولنے والوں سے ہے جن کے بزرگ قیامِ پاکستان کے وقت ہندوستان سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ یہ جماعت غالب طور پر پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی اور حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ملازمت پیشہ، شہری متوسط طبقے اور تاجر برادری کی نمائندگی کرتی ہے۔

ایم کیو ایم کی ابھی حال تک پارلیمنٹ میں مجموعی طور پر بتیس نشستیں تھیں، جن میں قومی اسمبلی کی پچیس اور سینیٹ کی سات نشستیں شامل ہیں۔

تاریخ

ایم کیو ایم کے قیام کی درست ترین تاریخ قابلِ بحث ہے۔ ایم کیو ایم کا جڑیں تلاش کی جاسکتی ہیں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)سے، جس کا قیام جامعہ کراچی میں عمل میں آیا۔

تنظیم نے جامعہ کی سطح پر شہری طلبہ تنظیم کی حیثیت سے نہایت سرگرم کردار ادا کیا۔ اے پی ایم ایس او کے بطن سے، ایم کیو ایم کا بطور سیاسی جماعت کے جنم ہوا، جس کا بنیادی مقصد قیام پاکستان کے بعد ہجرت کر کے یہاں آنے والے، اُردو داں طبقے کے حقوق کی جدو جہد کرنا تھا۔

(عام طور پر اس طبقے کو مہاجر کے نام سے جانا جاتا ہے، جو کراچی اور حیدرآباد میں اکثریتی ہونے کے ساتھ ساتھ، اندرونِ  سندھ کے چند دوسرے شہروں میں بھی آباد ہے۔)

کمیونٹی کی نمائندگی کرنے والی سیاسی جماعت کا خیال اُس وقت مزید ٹھوس ثابت ہوا جب جامعہ کراچی کے دو طالب علموں الطاف حسین اور عظیم طارق نے سن اُنیّسو اٹھہتّر میں، جنرل ضیاء کی آمریت کے دوران 'مُلا ۔ جاگیردار گٹھ جوڑ' کی مخالفت میں بطور طلبا تحریک، اے پی ایم ایس او قائم کی۔

اُس گٹھ جوڑ کو جماعتِ اسلامی کی طلبا تنظیم اسلامی جمیعتِ طلبا (آئی جے ٹی)کی پشت پناہی حاصل تھی۔ آئی جے ٹی کو اس سے قبل جامعہ کراچی کے کیمپسز میں اکثریت حاصل تھی۔

سن اُنیّسو چوراسی میں اے پی ایم ایس او کے سینئر ارکان نے بطور سیاسی جماعت ایم کیو ایم تشکیل دی اور اے پی ایم ایس او، اس کی سینئر شراکت دار کے طور پر کام کرتی رہی۔

سندھی دانشور خالق جونیجو کے مطابق جنرل ضیا کی آمریت کے دوران، کراچی کے غیر پنجابی تاجر پیشہ برادری کے گٹھ جوڑ سے ایسی  جماعت قائم کرنے پر سرمایہ کاری کی گئی تھی جو مضبوط 'اسٹریٹ پاور' رکھتی ہو اور وہ بنی ایم کیو ایم۔

ایم کیو ایم نے سن اُنیّسو اٹھاسی کے عام انتخابات میں سندھ کے شہری علاقوں سے مکمل کامیابی حاصل کی اور پیپلز پارٹی کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کے تحت وہ حکومت کا حصہ بن سکتی تھی۔

تاہم بعد ازاں ان دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے چلے گئے اور آخرِ کار اُنیّسو نواسی میں اتحاد ٹوٹ گیا۔

بعد کے عرصے میں، ایم کیو ایم سے ایک حصہ علیحدہ ہوا اور الگ دھڑے کے طور پر 'ایم کیو ایم ۔ حقیقی' کہلایا۔ اگرچہ یہ نیا دھڑا جماعت کے ووٹ بینک پر قبضہ کرنے میں تو ناکام رہا، تاہم اسی باعث کراچی میں بڑے پیمانے پر بے چینی پھیلی۔

کہا جاتا ہے کہ یہی دھڑا اُنیّسو بانوے کے بدنامِ زمانہ 'کراچی آپریشن' کی وجہ بنا۔

کہا جاتا ہے کہ مشہور آپریشن کلین اپ شہری سندھ میں بڑھتی ہوئی سیاسی و لسّانی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کیا گیا تھا۔ ایم کیو ایم نے آپریشن کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی ریلیوں اور ہڑتالوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس کا مقابلہ کرنے کے لیے اُس وقت پی پی پی کی وفاقی حکومت نے بھی بڑے پیمانے پر ان کے کارکنوں کی گرفتاریاں کیں۔

پیپلز پارٹی کے بعد  پاکستان مسلم لیگ نون کی وفاقی حکومت قائم ہوئی، جس نے آپریشن کلین اپ فوج کو سونپ دیا۔

اس دوران بڑے پیمانے پر کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے کئی رہنما یا تو روپوش ہوئے یا ملک سے باہر چلے گئے۔

سن اُنیّسو ترانوے میں ایم کیوایم کے شریک بانی عظیم طارق کو قتل کردیا گیا جبکہ جماعت کے قائد الطاف حسین لندن چلے گئے۔ تب سے اب تک، وہ لندن میں خود ساختہ جلاوطنی کاٹ رہے ہیں۔

حکومت بدلی اور اقتدار نواز شریف کے ہاتھ سے ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے پاس چلا گیا۔ اس کے بعد فوجی آپریشن تو ختم ہوا تاہم اب اس کی ذمہ داری رینجرز اور پولیس نے سنبھال لی، جس کی نگرانی براہ راست اُس وقت کے وزیرِ داخلہ نصیراللہ بابر کررہے تھے۔

مختصراً یہ کہ سن اُنیّسو نوّے کی لگ بھگ پوری دہائی میں ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

سیاسی موقف

آخر جون سن اُنیّسو ستانوے میں مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے نظریات اور تنظیم میں اُس وقت ایک بہت بڑی تبدیلی رونما ہوئی، جب اس کی قیات نے لفظ 'مہاجر' کو 'متحدہ' سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔

اس اہم تبدیلی کا سبب اُس احساس کو قرار دیا جاتا جس سے جماعت میں یہ تصور ابھرا کہ وہ اپنے طاقت کے سرچشمہ کراچی، حیدرآباد اور اندروںِ سندھ کے بعض علاقوں سے، اپنی نسلی و لسّانی شناخت سے آگے بڑھ کر بھی، تبدیلی کے لیے ترقی پسند کردار ادا کرسکتی ہے۔

اس منطقی دلیل سے یہ بھی واضح ہورہا تھا کہ اب جماعت علاقائی سطح سے نکل کر قومی سطح پر بھی اپنا سیاسی کردار ادا کرسکتی ہے۔

ایم کیو ایم واضح طور پر سیکولر جماعت ہے اور اس نے کھل کر شدت پسندی اور مذہبی عسکریت پسندی کی مخالفت کی۔ اسی موقف کے نتیجے میں، حال ہی میں انہیں تحریکِ طالبان پاکستان کی دھمکیوں اور حملوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ایم کیو ایم کے کم از کم دو ارکانِ اسمبلی اور متعدد کارکن اب تک تحریک طالبان پاکستان اور دیگر (مذہبی شدت پسند) گروہوں کے خونی حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔

تاریخی (اور نظریاتی) طور پر جماعت ملک میں جاگیرداری کی مخالف اور زرعی زمین اصلاحات کی حامی ہے۔

منشور کے مطابق ایم کیو ایم کے مقاصد میں شامل ہیں: جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ، ثقافتی رواداری و ہم آہنگی کا فروغ، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور 'عام آدمی کو طاقت کے اختیاراتی ڈھانچے (پاور اسٹرکچر) میں شامل کرنا۔'

ایم کیو ایم کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ وہ ملک کی ان (صرف) چند سیاسی قوتوں میں شامل ہے، جس نے بشمول قیادت کے، (سیاسی) اشرافیہ طبقے سے جنم نہیں لیا۔ جماعت کے متعدد رہنما متوسط (مڈل) یا نچلے متوسط (لوئر مڈل) طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔

ماہ و سال

سن اُنیّسو ننانوے میں نواز شریف حکومت کی برطرفی کے بعد، سن دو ہزار دو میں عام انتخابات منعقد ہوئے اور اس کے نتیجے میں مشرف کی پشت پناہی سے قائم وفاق کی مخلوط حکوت میں ایم کیو ایم نے شمولیت اختیار کرلی۔

اور اس وقت یہ بھی ہوا کہ پارلیمنٹ میں اس کی نئی نسل سے تعلق رکھنے والے اراکین پہنچے۔  کراچی کے سابق ناظم مصطفٰی کمال سمیت متعدد دیگر نوجوان ارکان کو جماعت کے محاذ پر، صفِ اول میں متعارف کرایا گیا۔ سن دو ہزار سات میں حکومت کے خاتمے تک وہ مشرف کے حامی اتحاد میں شامل رہی۔

تاہم نام کی تبدیلی اور جماعت کی تنظیم نو کی تقریباً ایک دہائی گذرنے کے بعد بھی آپریشن، مقابلوں، نسلی اور سیاسی تشدد (سے جُوڑا گیا) ماضی بدستور اس کا پیچھا کرتا چلا آرہا ہے۔

مئی سن دو ہزار سات میں (اُس وقت کے برطرف)چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی بار سے خطاب کے لیے شہر میں آمد کے موقع پر، ہنگامہ آرائی کا الزام مشرف مخالف سیاسی جماعتوں اور میڈیا کے بعض حصوں کی طرف سے، ایم کیو ایم پر لگایا جاتا ہے۔

سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے نتیجے میں ایم کیو ایم ایک بار پھر وفاق اور سندھ کی سطح پر اقتدار کا حصہ بنی۔ اس بار یہ پھر پی پی پی کی اتحادی تھی۔

اگرچہ گذشتہ پانچ سال میں ایم کیو ایم کا زیادہ تر وقت اقتدار میں گذرا تاہم حکمراں اتحاد کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل بھی جاری رہا۔ کئی بار اس نے حکومتی اتحاد چھوڑنے اور پھر دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا۔

پی پی پی اور ایم کیو ایم، بالترتیب سندھ کی  پہلی اور دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت، کے درمیان  سب سے بڑا اختلاف کراچی میں بلدیاتی انتخابات اور اس کے نظام پر رہا ہے۔

صوبے کی ان دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان دیگر بڑے تنازعات میں شامل تھا شہر میں مسلح گروہوں کا سر ابھارنا، جیسا کہ امن کمیٹی۔، جسے مبینہ طور پر پی پی پی کی پشت پناہی حاصل رہی تھی۔

سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار تیرہ پر مشتمل پارلیمنٹ کی مدت پوری ہونے سے چند روز قبل، ایم کیو ایم نے (ایک بار پھر) صوبائی اور وفاقی سطح پر پی پی پی کے حکومتی اتحاد سے 'اختلافات' کی بنیاد پر علیحدگی اختیار کرلی۔

گذشتہ تین سالوں کے دوران ایم کیو ایم کے تین رہنما قتل کیے گئے۔ ان میں، لندن میں، پُراسرار حالات میں قتل کیے جانے والے ڈاکٹرعمران فاروق بھی شامل ہیں۔

اہم شخصیات

الطاف حسین، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، فیصل سبزواری، رضا ہارون، حیدر عباس رضوی، بابر غوری، وسیم اختر۔

تحقیق و تحریر: سجاد حیدر

انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026