اوسط آمدنی میں اضافے کے باوجود پاکستانی پہلے سے زیادہ غریب کیوں ہو گئے؟

شائع January 9, 2026

یکم جنوری کو حکومت نے ہاؤس ہولڈ انٹیگریٹڈ اکنامک سروے 2024–25 کے نتائج ’Data-driven insights for inclusive growth‘ کے ذیلی عنوان کے تحت جاری کیے تاہم خود ایچ آئی ای ایس کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہم جامع ترقی کی مخالف سمت میں بڑھ رہے ہیں۔

آگے بڑھنے سے پہلے ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ ایچ آئی ای ایس 25-2024 مکمل کیا گیا اور تکنیکی اعتبار سے یہ بہتر انداز میں کیا گیا ہے۔ یہ شماریاتی طور پر مضبوط اور نمائندہ سروے ہے کیونکہ اس میں ملک بھر کے 32 ہزار گھرانوں کو شامل کیا گیا ہے اور یہ شہری و دیہی پاکستان کے پانچ سماجی و معاشی درجوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ مزید یہ کہ یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ آئی ای ایس ڈیجیٹل طریقے سے کیا گیا، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس تعریف کا مستحق ہے۔

سرکاری پریس ریلیز میں جن چھ نکات کو سنگِ میل کے طور پر پیش کیا گیا، وہ یہ ہیں: شرح خواندگی میں تین فیصد اضافہ، اسکول سے باہر بچوں میں دو فیصد کمی اور صاف ایندھن کے استعمال میں تین فیصد اضافہ۔ گھریلو سطح پر انٹرنیٹ تک رسائی 34 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی جبکہ انٹرنیٹ استعمال کرنے والے افراد کا تناسب 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد ہو گیا۔ یہ واقعی بہترعلامات ہیں۔

لیکن بچوں کی مکمل ویکسینیشن میں پانچ فیصد اضافہ ہو کر 68 فیصد سے 73 فیصد تک پہنچنا دراصل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اب بھی 27 فیصد بچے مکمل طور پر حفاظتی ٹیکے نہیں لگوا سکے۔

ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ ان بچوں کی اکثریت کہاں ہے، سابقہ فاٹا ایجنسیوں (اب اضلاع) میں 57 فیصد بچے اور بلوچستان میں تقریباً دو تہائی بچے مکمل طور پر ویکسین شدہ نہیں ہیں۔ یوں ایچ آئی ای ایس25-2024 کے نمایاں نکات سطحی ہیں، اصل خطرات گہرائی میں موجود ہیں۔ تاہم ایچ آئی ای ایس واقعی ’’حقیقی ڈیٹا کے ذریعے حقیقی زندگیوں کو محفوظ کرنے‘‘ میں کامیاب رہا ہے۔

اس سروے کا ایک اہم انکشاف یہ ہے کہ 19-2018 سے 25-2024 کے درمیان پاکستان میں اوسط ماہانہ گھریلو آمدن 41 ہزار 545 روپے سے بڑھ کر 82 ہزار 179 روپے ہو گئی، یعنی 97.81 فیصد اضافہ۔

یہ سننے میں خوش آئند لگتا ہے کہ اوسطاً گھرانے اب زیادہ کما رہے ہیں۔ آمدن کی تقسیم کے لحاظ سے 25-2024 میں غریب ترین پانچواں حصہ اوسطاً 41 ہزار 851 روپے کماتا ہے جبکہ امیر ترین طبقہ 1 لاکھ 39 ہزار 317 روپے ، یعنی تقریباً تین گنا زیادہ۔

شہری علاقوں میں عدم مساوات زیادہ نمایاں ہے جہاں امیر ترین گھرانے 1 لاکھ 46 ہزار 920 روپے سے بہت زیادہ کماتے ہیں جبکہ غریب ترین گھرانے 42 ہزار 412 روپے سے بھی کم پر گزارا کرتے ہیں۔

تاہم اسی عرصے میں اوسط گھریلو اخراجات میں 113 فیصد اضافہ ہوا۔ 19-2018 میں ایک اوسط گھرانہ ماہانہ 37 ہزار 159 روپے خرچ کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ خرچ بڑھ کر 79 ہزار 150 روپے ہو گیا۔ مجموعی طور پر19-2018 کے مقابلے میں غریب ترین طبقے کے اخراجات میں 84 فیصد اضافہ ہوا جبکہ امیر ترین طبقے کے اخراجات میں 131 فیصد اضافہ ہوا جو امیر اور غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق کو ظاہر کرتا ہے۔

آمدن میں اس نام نہاد اضافے اور اخراجات میں اس سے کئی زیادہ اضافے کا مجموعی نتیجہ یہ ہے کہ گزشتہ چھ برس میں ایک اوسط پاکستانی گھرانہ مزید غریب ہو گیا ہے اور زیادہ مشکل زندگی گزار رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کتنا زیادہ غریب؟

اصل کہانی حقیقی آمدن میں چھپی ہے، یعنی مہنگائی کے اثرات نکال کر 25-2024 کی آمدن کو 19-2018 کی قیمتوں میں دیکھنے سے، اس موازنے سے واضح ہوتا ہے کہ اوسطاً لوگ آج 19-2018 کے مقابلے میں زیادہ غریب ہیں۔ دیہی علاقوں کے امیر ترین 20 فیصد کو چھوڑ کر باقی تمام شہری اور دیہی طبقے غریب اور امیر حقیقی آمدن میں نقصان اٹھا چکے ہیں۔

سب سے زیادہ متاثر غریب شہری طبقہ ہے جس کی حقیقی آمدن میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔ 19-2018 میں ایک غریب شہری گھرانہ اوسطاً 24 ہزار 365 روپے کماتا تھا جبکہ 25-2024 میں وہی گھرانہ 19-2018 کی قیمتوں کے مطابق صرف 18 ہزار 820 روپے کما رہا ہے۔ اس عرصے میں ایک اوسط شہری 19 فیصد اور ایک اوسط دیہی فرد 7 فیصد مزید غریب ہو گیا۔

اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً غربت حقیقی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہی ہے۔ گھریلو آمدن کا بڑا حصہ 36.72 فیصد بنیادی غذائی اشیا پر خرچ ہو رہا ہے، جو 19-2018 کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہے مگر اس کے باوجود لوگ چھ سال پہلے کے مقابلے میں کم خوراک استعمال کر رہے ہیں۔ ایچ آئی ای ایس 25-2024 کا ٹیبل 37-سی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے۔

تقریباً تمام بنیادی غذائی اشیا کی فی کس کھپت میں کمی آئی ہے۔ مثال کے طور پر 19-2018 میں ایک اوسط شہری پاکستانی 6.12 کلو گرام گندم استعمال کرتا تھا جبکہ 25-2024 میں یہ مقدار کم ہو کر 5.67 کلو گرام رہ گئی۔ چاول، دالیں، دودھ، مٹن، بیف، چکن، انڈے، آلو، پیاز، چینی اور چائے سمیت تمام ضروری غذاؤں کی فی کس کھپت شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں کم ہو گئی ہے۔ اس افسوسناک رجحان سے صرف ٹماٹر اور کوکنگ آئل مستثنیٰ ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ پاکستانی آج چھ سال پہلے کے مقابلے میں زیادہ خرچ کر رہے ہیں مگر کم کھا رہے ہیں۔ سروے کے مطابق غذائی عدم تحفظ کی شرح 19-2018 میں 15.9 فیصد سے بڑھ کر 25-2024 میں 24.4 فیصد ہو گئی ہے۔ تعلیم پر گھریلو اخراجات بھی کم ہو گئے ہیں۔ چھ سال پہلے تقریباً 4 فیصد خرچ تعلیم پر ہوتا تھا جو اب گھٹ کر تقریباً 2.5 فیصد رہ گیا ہے۔ صحت پر خرچ نسبتاً غیر لچکدار ہونے کے باعث معمولی سا بڑھ کر 3.22 فیصد سے 3.34 فیصد ہو گیا ہے۔

موجودہ حکومت کو اس افسوسناک صورتحال کی ذمہ داری اٹھانی ہو گی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہماری معاشی بدحالی کی جڑیں اس استحصالی معاشی نظام میں ہیں جس پر ہم عمل پیرا ہیں، ہمارے مستقل گورننس کے مسائل اور تمام مسائل کی ماں ہماری دائمی طور پر غیر مستحکم سیاست ہے۔

پاکستان کو فوری طور پر مستقل اور پائیدار اصلاحات کی ضرورت ہے، جن کے لیے تمام فریقین کے درمیان قومی مکالمے کے ذریعے اتفاقِ رائے قائم کرنا ناگزیر ہے۔

ہمارے سماجی، معاشی اور سیاسی مسائل کی سنگینی ایسی ہے کہ انہیں کسی ایک حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تمام سیاسی جماعتوں اور ریاستی اداروں کو مل کر ایک طویل المدتی ترقیاتی منصوبہ بنانا ہوگا اور اسے کسی بھی حکومتی تبدیلی یا سیاسی ہلچل سے محفوظ بنانا ہوگا۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا عوام کی مشکلات برقرار رہیں گی۔ قومی کامیابی کا پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ ایک غریب گھرانہ حقیقی معنوں میں کتنا خوشحال ہوتا ہے بجائے اس کے کہ ہم آئی ایم ایف سے قرض کی ایک اور قسط حاصل کرنے میں کتنے کامیاب ہیں۔

ظفر مرزا

لکھاری سابق معاون خصوصی وزیراعظم برائے صحت ہیں اور اس وقت عالمی ادارہ صجت سے بطور مشیرِ 'یونیورسل ہیلتھ کوریج' منسلک ہیں

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
مفتاح اسمٰعیل

لکھاری پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 9 جنوری 2026
کارٹون : 8 جنوری 2026