بلوچستان کے قدیم خزانوں کا ذکر

شائع November 19, 2013 اپ ڈیٹ November 19, 2013 09:48pm

کراچی: بلوچستان سے ملنے والے آثارِ قدیمہ بتاتے ہیں کہ یہ تہذیب کا مرکز رہا ہے اور بھرپور ثقافتی تاریخ رکھتا ہے۔

یہ بات جرمنی کی ممتاز ماہرِ آثارِ قدیمہ ( آرکیالوجسٹ) ڈاکٹڑ اوٹے فرانکے نے کراچی میں جرمن سفارتخانے میں ایک پریزینٹیشن کے دوران کہی۔

انہوں نے کہا کہ وہ 1981 سے موئن جو دڑو پر کام کررہی ہیں اور سال 2007 میں انہیں بلوچستان میں کام کرنے کا موقع ملا ، جہاں ان کا بنیادی کام قدیم برتنوں کی حفاظت اور درجہ بندی تھا۔

ڈاکٹر فرانکے نے کہا کہ بلوچستان کی تاریخ سات ہزار سال قدیم ہے اور وہ وادی سندھ سے پہلے کی ایک تہذیب ہے جو کبھی انڈو ایرانین سرحد کا حصہ ہوا کرتی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ 1956 کے بعد سے مختلف غیرملکی ٹیموں نے بلوچستان میں تین اہم آثار دریافت کئے جن میں مہر گڑھ، صوبے کے شمالی حصے یعنی تربت اور مکران اور خضدار شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مختلف مقامات پر کھدائی سے ظاہر ہوا ہے کہ بلوچستان دراصل تہذیب کا گہوارہ ہے کیونکہ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے کہ آکر وہاں کس طرح آبادیاں بنیں جبکہ اطراف میں کوئی بڑا دریا بھی نہ تھا۔

ڈاکٹر فرانکے نے کہا کہ مہرگڑھ ( ساڑھے سات ہزار سے ڈھائی ہزار قبل مسیح) میں جانوروں کو پالنے اور اس طرح کے ایسے آثار ملے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک مصروف اور سرگرم علاقہ تھا۔ انہوں نے اس دوران تصاویر بھی دکھائیں جہاں مردوں کو دفنایا جاتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ( مہرگڑھ) ایک تجارتی مرکز بھی تھا۔

انہوں نے بلوچستان سے کھدائی میں برآمد ہونے والے مٹی کے برتنوں کا ذکر کیا جو پانچ ہزار قبل مسیح سے تعلق رکھتے ہیں یعنی سات ہزار سال قدیم ہیں۔ بعض مقبرے ملے ہیں جو تباہ ہونے سے بچ رہے ہیں اور خوبصورتی کیلئے سیپیاں ، خول اور لیپس لیزولی ( سنگِ لاجورد) سے سجائے گئے ہیں۔

تیسری قبل مسیح میں مٹی کے برتن بنانے کا طریقہ بدل گیا تھا اور اس کے بعد ان پر ایک رنگ بھی کیا جانے لگا اور تصویری آرٹ بنائے جانے لگے۔ اس وقت یہ علاقہ آبادی سے بھرپور تھا۔

ڈاکٹر فرانکے نے اپنا سوال دوہرا کر دوبارہ جواب دینے کی کوشش کی کہ آخراتنی بڑی آبادیاں کیسے اس ماحول میں پروان چڑھیں کیونکہ حالات، موسم اور ماحول اتنا سازگار نہ تھا۔ پھر انہوں نے خود جواب دیتے ہوئے کہا کہ شاید یہاں پالے جانے والے جانوروں کا گوشت ان آبادیوں کو گوشت اور سفر کی سہولت فراہم کرتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ماہرین کو اس جگہ سے بھورے ریچھ کی ہڈیاں ملی ہیں۔ اس کے ساتھ ہر طرح کے پھلوں اور سبزیوں مثلاً انگور، انجیر وغیرہ کے آثار ملے ہیں اور ان سے ظاہر ہے کہ یہاں رہنے والے زندگی گزارنے کیلئے ایک سے زائد ذرائع اور چیزوں پر انحصار کرتے تھے۔

وہ پانی کو سنبھالنے اور اس کے انتظام کے بھی ماہر تھے اور اس کیلئے چھوٹے بڑے ڈیم بھی بنائے گئے تھے۔ لیکن 2600 قبل مسیح ( تقریباً 4600 سال پہلے) کئی بستیاں خالی ہوگئیں اور کئی افراد دوسرے علاقے تک چلے گئے اور نہیں معلوم کہ یہ کیوں ہوا؟ لیکن دیگر جنوبی حصے سال 600 عیسوی تک آباد رہے۔

انہوں نے برتنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چند برس قبل کراچی کسٹم نے آٹھ سو سے زائد برتن اسمگلروں سے برآمد کرکے انہیں نیشنل میوزیم میں پہنچایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ برتین ساڑھے تین ہزار سال کی تاریخ بیان کرتے ہیں اور ان کے مطالعے سے ہمیں برتن بنانے کی قدیم ٹیکنالوجی سے آگاہی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ کا مقصد ان قیمتی اشیا کو محفوظ کرکے ان کی دستاویز تیار کرنا تھا۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ اور ان کی ٹیم اگلے سال نومبر میں ان برتنوں کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی کوشش کریں گی۔

ڈاکٹر یوٹے فرانکے کی پریزینٹیشن کے بعد ڈیرہ بگٹی کے فنکاروں سچو خان اور دیگر نے طنبورہ ، ڈھول اور سارنگی پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا جسے سامعین نے بہت سراہا۔ اس کے بعد خادم حسین نے تین بلوچی گیت پیش کئے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026