گاڑیوں کے شیشے توڑنے والا پہلا پاکستانی نہیں ہوں، گلوبٹ
لاہور: انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں ماڈل ٹاؤن واقعے میں توڑ پھوڑ کرنے والے ملزم گلو بٹ کو پیش کیا گیا، جہاں مقدمے کے آخری گواہ انسپیکٹر اعجاز رشید نے اپنا بیان قلمبند کروایا۔
بیان میں کہا گیا کہ گلو بٹ نے گاڑیوں کے شیشے توڑے اور منع کرنے پر پولیس پارٹی پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہوا۔
اس موقع پر عدالت کے استفسار پر انسپکٹر نے بتایا کہ گلو بٹ کی فائرنگ سے کوئی شخص زخمی نہیں ہوا اور نہ ہی گاڑیوں کے مالکان نے شکایت کی۔
یاد رہے کہ گلو بٹ پر پولیس پر حملے کرنے کا الزام بھی عائد ہے اور عدالت نے 19 ستمبر کو گلو بٹ پر اس حوالے سے فرد جرم عائد کی تھی۔
پیر کو یعنی آج دورانِ سماعت گلو بٹ کے وکیل عباس زیدی نے انکشاف کیا کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں ان کے موکل کا نام ایف آئی آر میں شامل نہیں ہے، لہٰذا ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔
گلو بٹ نے عدالت کو بتایا کہ وہ بے قصور ہیں کیونکہ نا تو انہوں نے پولیس پر حملہ کیا اور نہ ہی گاڑیوں کے شیشے توڑے۔
انہوں نے عدالت میں پیش کیے گئے ڈنڈے سے بھی لاتعلقی کا اظہار کیا۔
عدالت نے کیس کی سماعت کو اٹھائس اکتوبر یعنی کل تک کے لیے ملتوی کرتے سرکاری ٹی وی کے کیمرہ مین سے واقعہ کی فوٹیج طلب کرلی۔
شیشے توڑنے والا پہلا شخص نہیں ہوں، گلوبٹ
سماعت کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے گلو بٹ کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان میں پہلے شخص نہیں ہیں، جنہوں نے گاڑیوں کے شیشے توڑے۔
انہوں نے طاہر القادری سے معافی مانگتے ہوئے کہا کہ اس قبل بھی اس قسم کے واقعات ہوئے، لیکن کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ سترہ جون کو لاہور میں پیش آنے والے اس واقعہ میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں سمیت 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔
شیر لاہور کے نام سے مشہور گلو بٹ کو ٹی وی چینلز کی فوٹیج میں 17 جون کو لاہور کے ماڈل ٹاؤن علاقے میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران گاڑیوں کے شیشے توڑتے ہوئے واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔












لائیو ٹی وی