Email


Your Name:


Recipient Email:


بانو قُدسیہ: سرائے موجود ہے، داستان رخصت ہوئی


داستان سرائے کو جانے والی سڑک ویران ہوئی۔ داستان سرائے کے دروازے پر اب کوئی دستک نہیں ہوا کرے گی کیونکہ وہ مکین، جو اس گھر کا ادبی حوالہ تھے، رخصت ہوئے۔ پہلے اشفاق احمد گئے اوراب بانوقدسیہ بھی چلی گئیں۔

داستان سرائے صرف ایک گھر کا نام نہیں تھا بلکہ اردو ادب میں جداگانہ عہد کی علامت بھی تھی، جس سے جذباتی طور پر جڑے ہوئے لوگوں کی تعداد بے شمار ہے۔ کئی اس اسلوبِ ادب کے ناقد بھی بنے، مگر اہم بات یہ ہے کہ بانو قُدسیہ کے تخلیق کیے ہوئے ادب کو کئی نسلیں اب موضوع گفتگو بنائیں گی۔

نئی صدی کا پہلا برس تھا، جب میں نے بانو قُدسیہ کا شہر آفاق ناول ’’راجہ گدھ‘‘ پڑھا، جسے پڑھنے کے بعد عجیب سی بے چینی ہوئی۔ یہ وہ زمانہ ہے، جب میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا۔ ذہن کچا پکا تھا، مگر اس ناول کو پڑھ کر احساس ہوا کہ اس میں کوئی بات ہے جو اپنی طرف کھینچتی ہے۔

بانو قدسیہ اور اشفاق احمد
بانو قدسیہ اور اشفاق احمد

اسکول کے طالب علم کا دل نیا نکور ہوتا ہے، نہ سمجھ آنے والی اُداسی بھی دل کو گھیرے رکھتی ہے، بانو قدسیہ کی کتابیں پڑھتے ہوئے یہ اُداسی اور بڑھ جایا کرتی تھی۔ بالخصوص بانو قُدسیہ کا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ اور مسافر خانے میری اداسی کو بڑھاتے ہیں، کیونکہ ان تینوں کا تعلق ایک ہجرت زدہ مسافرت سے ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بانوقدسیہ کے گھر کا نام بھی داستان سرائے تھا۔ سرائے موجود ہے، داستان رخصت ہوئی۔

بانو قدسیہ نے سب سے زیادہ ناول لکھے، جن کی تعداد 30 سے زیادہ ہے، پاکستان ٹیلی وژن کے لیے لکھے گئے ڈرامے اور نان فکشن تصانیف کی تعداد علیحدہ ہے۔ فکشن میں ان کا بنیادی حوالہ ’’راجہ گدھ‘‘ اس لیے بنتا ہے کہ اس کے ذریعے پاکستان میں ایک نئے اسلوب ادب نے جنم لیا۔ یہ ناول بانو قُدسیہ کی عالمی شہرت میں اضافے کا باعث بھی بنا۔

امریکا میں جب پوری دنیا کے مقامی ادب کا احاطہ کر کے ایک عالمی انسائیکلو پیڈیا مرتب کیا گیا، تو اس میں اردو ادب کے صرف دو نام تھے، جن میں سے ایک بانو قدسیہ کا تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جس طرح امرتا پریتم نے اپنی جنم بھومی سے کوچ کیا، اسی طرح بانو قدسیہ بھی قیام پاکستان کے وقت، ہجرت کر کے لاہور آن بسیں۔

1981 میں لکھے جانے والے ناول’’راجہ گدھ‘‘ کی مقبولیت کا سفر آج بھی جاری ہے، جس کا اندازہ آپ اس بات سے ہی لگا سکتے ہیں کہ انہی دنوں ایک مصنف غلام حسین غازی نے بانو قدسیہ کے ناولوں پر تنقیدی جائزہ پیش کیا، جو کتابی صورت میں دستیاب بھی ہے، یہ اس بات کی گواہی ہے کہ ناقد ہو یا مداح، کوئی بھی اس ناول کے اثر سے بچ نہ پایا۔

حتیٰ کہ اشفاق احمد نے بھی ایک موقع پر کہہ دیا کہ بانو قدسیہ مجھ سے بہتر لکھتی ہیں۔ بانو قُدسیہ کے کرداروں کی سب سے اعلیٰ مثال یہ تھی کہ وہ بانو قُدسیہ کی شخصیت سے جدا تاثر دیتے تھے، اس تناظر میں ناول راجہ گدھ ان کے فن کی بلندی کا ثبوت ہے۔

راجا گدھ کی مرکزی کردار’’سیمی شاہ‘‘ تھی، جس کا تعلق اشرافیہ سے تھا۔ ایک کردار آفتاب تھا، وہ بھی اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتا تھا، جس پر سیمی شاہ مر مٹی تھی۔ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا ایک کردارنعیم کا تھا، جو اپنی سوچوں کے ملبے تلے دفن تھا، پھر پروفیسر سہیل کا وہ کردار تھا جو ناول کے آغاز پر اپنی کلاس میں یونیورسٹی کے نوجوان لڑکے لڑکیوں سے فرد اورمعاشرے کے تعلق پر نفسیاتی پہلوؤں سے تجزیانہ گفتگو کرتے ہوئے قاری کے دل کو موہ لیتا ہے۔

اس طرح کے بے شمار کردار اور موضوعات اس ناول میں بکھرے ہوئے ہیں، جن کو پڑھتے ہوئے آپ کہیں گم ہوجائیں گے۔ مجھ پر اس ناول کا اتنا اثر تھا کہ میں بانو قدسیہ سے ملنے کے لیے لاہور چل پڑا۔ میں نے اپنی اس اُلجھن کو دور کرنے کا ارادہ کیا اور دسمبر کے مہینے میں، چھٹیاں گزارنے کراچی سے گوجرانوالہ آ پہنچا۔ وہاں کی ایک صاحب ادب شخصیت جہانگیر میر سے بانو قدسیہ کے گھر کا پتہ حاصل کیا اور لاہور پہنچ گیا۔

بانو قُدسیہ سے ملاقات


یہ دسمبر2003 کی بات ہے۔ میں اپنے ایک دوست کے توسط سے داستان سرائے پہنچا۔ چوکیدار نے بتایا کہ خان صاحب سے ابھی ملاقات ممکن نہیں ہے۔ میں نے کہا، مجھے بانو قُدسیہ سے ملنا ہے۔ پیغام ملنے پر بانو قُدسیہ دروازے پر آئیں اور مجھے کہا ’’میں گھر میں صرف ایک خاتون خانہ ہوں۔ مجھے اپنی روٹیاں خود پکانی ہوتی ہیں اورسارے کام بھی کرنے ہوتے ہیں، اگر آپ آنے سے پہلے پوچھ لیتے تو بہتر ہوتا۔‘‘

میں نے ان کو بتایا کہ میں دوسرے شہر سے آیا ہوں، جس پر انہوں نے مجھ سے اپنارابطہ نمبر لکھنے کو کہا اور تاکید کی، مقررہ وقت پر دوبارہ ان سے ملنے آؤں۔ اس طرح دوبارہ جب ملاقات ہوئی تو اس میں تفصیلی بات چیت ہوئی، جس میں راجہ گدھ سے سمیت ان کے دیگر ناولوں کا تذکرہ ہوا۔

میں آج بھی داستان سرائے کے مہمان خانے کی خاموشی کو بھول نہیں سکتا، اس میں ایک اپنائیت اورگہرائی تھی۔ بانو قدسیہ نے اسی دن شام کو دوبارہ دعوت دی تھی، وہاں مجھ سمیت اشفاق احمد سے ملنے کے لیے آنے والے کئی طالب علم تھے، جنہوں نے اپنے دل کے نہاں خانوں سے اپنے پوشیدہ سوالات کا ڈھیر لگا دیا۔

دسمبر کی سرد شام میں مہمان خانے میں ہیٹر کی گرمی سے زیادہ گرمی اورجستجو، نوجوانوں کے سوالات میں تھی، جس کا بہت تحمل سے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ جواب دے رہے تھے۔ یہ داستان سرائے اپنی معنویت میں گھل گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ہم کسی داستان سرائے میں نہیں، کسی مسافر خانے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جہاں سے اب وقت کی دھول چھٹنے پر دیکھتا ہوں، وہ دونوں مسافر اپنی منزل کو گامزن ہوئے۔

انہوں نے ایک زمانہ دیکھا، اپنے ہم عصروں میں قدرت اللہ شہاب، ممتازمفتی، ابنِ انشا اور دیگر کئی ادیبوں کے ساتھ ادبی دنیا میں حکمرانی کی۔ حکومتی و نجی اعزازات سمیٹے۔ سب سے بڑھ کر قارئین کے دل میں اپنے ہنر سے محبت کے رنگ بکھیرے، جن سے اٹھنے والی خوشبو کئی نسلوں تک مہکتی رہے گی۔

اس شام کو میں نے داستان سرائے کے مہمان خانے میں کسی مسافر کی طرح بسر کیا، جہاں نئی نسل، پرانی نسل سے محو مکالمہ تھی۔ ان نوجوانوں میں بھی کوئی سیمی شاہ تھی تو کوئی پروفیسر سہیل تھا۔ میں نے اشفاق صاحب سے بالخصوص ممتاز مفتی کے بارے میں گفتگو کی۔ میں لاشعوری طور پر اپنی زندگی کا پہلا انٹرویو کر رہا تھا، مگر مجھے اس کا احساس بھی بہت بعد میں ہوا۔

سردی کی حدت، ہیٹر کی گرمی، چائے کی بھاپ، جوان خون کے مچلتے ہوئے سوالات میں یہ شام کئی گھنٹوں کی گفتگو پر محیط تھی۔ سب نے اپنے اپنے دل کے سوالات پوچھے۔ میں نے بھی بے سبب اداسی کو خوب کھول کر لپیٹا۔ مہ و سال کا سفر جاری ہے، اشفاق احمد اور بانو قدسیہ جا چکے ہیں، لیکن میرے دل میں دسمبر کی وہ شام اب تک رُکی ہوئی ہے۔


بلاگر فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔