• KHI: Cloudy 29.4°C
  • LHR: Clear 33.2°C
  • ISB: Partly Cloudy 28.3°C
  • KHI: Cloudy 29.4°C
  • LHR: Clear 33.2°C
  • ISB: Partly Cloudy 28.3°C

جنوبی پنجاب صوبے پر قرارداد منظور

شائع اپ ڈیٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی کے اجلاس کا ایک منظر۔—اے پی پی فائل فوٹو

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں مسلم لیگ ن کے شدید احتجاج کے باوجود حکومت نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر اعتماد اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق دو قراردادیں منظور کروا لیں۔

قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا۔

آج اجلاس اڑھائی گھنٹےتاخیر سے شروع ہوا تو ن لیگ کے اراکین اسپیکر کے ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور نعرے بازی شروع کر دی تاہم ایوان کی کارروائی معمول کے مطابق چلتی رہی۔

ن لیگ کے اراکین نے احتجاج کے دوران ایجنڈے کی کاپیاں بھی پھاڑ دیں۔

وقفہ سوالات کے اختتام پر وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے وزیر اعظم پر اعتماد اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کی قراردادیں ایوان میں پیش کیں جنہیں منظور کر لیا گیا۔

قراردادوں کی منظوری کے بعد حکومتی اور حزب اختلاف کے اراکین آپس میں گھتم گھتا ہو گئے اور دو ارکان میں مکوں کا بھی تبادلہ ہوا۔

ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے حالات کی نزاکت دیکھتے ہوئے اجلاس ملتوی کردیا۔

مسلم لیگ ن نے الزام لگایا ہے کہ نئے صوبے کے قیام کی قرارداد پیش کرنا ان کی توجہ وزیر اعظم ہٹاو تحریک سے ہٹانے کے کوشش ہے۔

پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چوہدری نثار علی خان نے کہا کہ قومی اسمبلی میں نئے صوبہ جنوبی پنجاب کے لئے منظور کی جانے والی قرارداد کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

۔انہوں نے قراردادوں کو غیر آینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قراردادیں قوانین کے مطابق پیش نہیں ہوئیں

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ بہاولپور اور ہزارہ کو بھی صوبہ بنانے کی حامی ہے مگر اس کے لئے پہلے کمیشن تشکیل دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اس وقت وہی غلطیاں دوہرا رہی ہے جو ذوالفقار علی بھٹو نے آخری دور میں کی تھیں۔

ادھر حکومتی اتحاد میں شامل متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے قرارداد کی منظوری پر جنوبی پنجاب کے عوام کو مبارکباد پیش کی۔

وزیراعظم نے الطاف حسین کوفون کرکے قرارداد کی حمایت اور منظوری پرمبارکباد پیش کی اور شکریہ اداکیا۔

دوسری طرف مسلم لیگ ق نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہزارہ صوبے پر اپنا موقف واضع کرے بصورت دیگر حکومت سے الیحدہ ہوجائینگے۔

پالیمنٹ ہاوس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب صوبے کا مطالبہ دیرنہ تھا جو اب پورا کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہزارہ صوبے کے قیام کے سلسلے میں حکومت نے یقین دہانی کروائی ہے کہ کل اس حوالے سے اہم پیش رفت ہوگی۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026