وہ پھول والا
یہ کئی برس پہلے کی گرمیوں کی ایک شام کا ذکر ہے۔ اُس روز ہفتہ وارچھٹی تھی۔ جولائی کی اُس اَبر آلود شام میں کراچی کی ٹھنڈی ٹھنڈی ساحلی ہوا بہت دل لُبھا رہی تھی۔ میں گھومتا گھماتا گھر لوٹ رہا تھا۔
آج توجیل چورنگی پر بالائی گزرگاہ قائم ہے مگر اُن دنوں ایسا نہ تھا۔ چوراہا اور پھر گاڑیوں کا ہجوم، اکثر یہاں ٹریفک جام رہا کرتا تھا۔ گاڑیاں کافی دیر تک اس چوراہے پہ رینگتی آگے بڑھتی تھیں۔
اس وجہ سے اکثر کھلونے بیچنے والے اور گُل و گُلدستہ فروش یہاں پر اپنی چلتی پھرتی دُکانوں کا بار کاندھوں پہ اٹھائے، گاڑیوں کے شیشوں سے اندر جھانکتے گاہک تلاش کرتے اور سودا بیچ کر آگے بڑھ جاتے تھے۔ اُس روز بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔
میں مزارِ قائد کی طرف سے یونیورسٹی روڈ کی طرف جارہا تھا۔ جب جیل چورنگی پہنچا تو سڑک اور چوراہے پہ گاڑیاں تو کم تھیں مگر آگے کسی موٹر سائیکل سوار کو حادثہ پیش آچکا تھا۔ اُس وجہ سے ٹریفک جام تھا۔
اسی دوران ایک کم عمر ، پتلے دُبلے اور سانولے لڑکے نے میری کھڑی گاڑی کی کھلی کھڑکی میں جھانکا ۔ عمر ہوگی اُس کی یہی پندرہ سولہ برس۔ سفید مکمل کا کلی دار کُرتا اور شلوارپہنے تھا۔
'پھول لے لو۔' اُس نے سُرخ اور سفید گلابوں کا ایک چھوٹا سا گلدستہ بڑھاتے ہوئے کہا۔ اُس کے ہاتھ میں چار پانچ اور گُلدستے بھی نظر آرہے تھے۔
'نہیں۔' میں نے گردن ہلا کر صاف انکار کیا۔
'لے لیں صاحب۔۔۔' اُس نے اصرار کیا۔
'نہیں۔' میرا لہجہ تھوڑا سا سخت اور شاید آواز ذرا سی اونچی ہوگئی تھی۔
'مرضی ہے جی۔۔۔' اُس نے کہا اور آگے بڑھ گیا مگر وہ آگے کیا بڑھا کہ قیامت ڈھا گیا۔
میری گا ڑی جہاں کھڑی تھی، اس کے برابر دو رویہ سڑک میں حدِ تقسیم کے لیے پتلی سی فٹ پاتھ تھی۔ وہ گُلدستہ فروش لڑکا کچھ ایسا اُداس ہوا کہ جب پلٹا تو گنگناتا ہوا آگے بڑھا ااور فٹ پاتھ پہ جا کھڑا ہوا۔
وہ خوش گُلو بدستور گنگنا رہا تھا۔ اُس کے گنگنانے کی لََے اتنی اونچی تھی کہ گاڑی کے اندر بیٹھا بھی سُن رہا تھا۔ مجھ سے رہا نہ گیا، فوراً دروازہ کھول کر نیچے اُترا۔
'ٹریفک چلے تو گاڑی چوک کے پار لے جا کر کھڑے ہوجانا، میں آتا ہوں۔' ڈرائیور سے یہ کہتا ہوا میں لڑکے کی طرف بڑھا۔
'اے سنو۔۔۔ گلدستہ بیچو گے۔' میں نے اُس کے قریب جا کر کہا۔ وہ چونکا۔ اُس کا گنگنانا بند ہوچکا تھا۔
'کیوں۔۔' اس کی آنکھوں میں حیرانی اور لہجے میں اَنا صاف جھلک رہی تھی۔ 'ابھی تو آپ نے۔۔۔' میں نے قطع کلامی کرتے ہوئے جملہ مکمل کردیا 'انکار کردیا تھا، یہی کہنا چاہ رہے ہو نا۔'
اُس نے کچھ نہ کہا، خاموشی سے ایک گلدستہ آگے بڑھادیا۔ 'سارے دے دو۔' میں نے یہ کہتے ہوئے بٹوے میں سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر اُس کی طرف بڑھایا۔
'میرے پاس ٹوٹے روپے نہیں ہیں۔' اُس نے نوٹ کی طرف ہاتھ بڑھانے کے بجائے شائستہ لہجے میں جواب دیا۔ یہ سن کر میں نے کہا۔ 'مجھے بقایا کی ضرورت نہیں، بس ایک سوال کا جواب دے دو۔'
اس نے چند لمحے حیرانی سے مجھے دیکھا اور پھر توقف کے بعد کہنے لگا۔ 'جی کہیے۔۔۔'
'ابّا کہاں کے ہیں؟' یہ سن کر فوراً بولا۔ 'یہیں کے جی، کراچی کے۔۔۔'
میں نے پھر اپنا سوال دہرایا ذرا بدل کر۔ 'میرا مطلب کہ اُس سے پہلے۔۔۔' وہ کچھ ہچکچایا اور پھر جواب دیا۔ 'یوپی' یہ کہہ کر وہ لمحہ بھر کے لیے رکا۔ 'وہ تویہی بتاتے ہیں۔'
'جواشعار ابھی تم گنگنارہے تھے، وہ کس سے سُنے؟'
'ابّا سے، انہیں شاعری کا بہت شوق ہے۔ ان سے کئی بار سنا، مجھے اچھا لگا، اب تو یاد ہوچکا ہے۔'
'ضرور ہونا چاہیے تھا یوپی کے جو ہیں مگر سنو۔۔۔' میں نے اُس لڑکے کی آنکھوں میں جھانکتے ہو کہا۔
'کہیے۔۔۔' وہ چونکا۔ اس کی آنکھیں سوالیہ انداز میں تھوڑا سا پھیل گئی تھیں۔ 'یہ اشعار آئندہ نہ پڑھنا۔ ابّا پڑھتے ہیں تو اُنہیں پڑھنے دو۔'
'مگر کیوں؟' اس کی آنکھوں، چہرے اور لہجے میں سوال تھا۔
'اس لیے کہ تمہارے واسطے یہ بہت بعد کے شعر ہیں، تم انہیں وقت سے پہلے پڑھ رہے ہو، یہ تمہاری عمر نہیں۔' میری بات سُن کر اس نے کچھ نہیں کہا۔ خاموشی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔ میرے ہاتھ سے گلدستے واپس لیے، پیٹھ موڑی اور پھر گنگنانے لگا؛
~ جس روز ہمارا کُوچ ہوگا ۔۔۔ پھولوں کی دُکانیں بند ہوں گی
پانچ سو کا نوٹ میرے ہاتھ میں تھا۔ ٹریفک کھل چکا تھا۔ میرے لیے پھولوں کا سودا ناممکن تھا۔ دُکان تھی، دُکان دار بھی تھا، گاہک بھی اور پیسے بھی مگر میرے لیے اُس کے پھولوں کی دُکان بند تھی۔ پلٹا اور ہجوم میں اجنبی بن کر اُس سمت بڑھنے لگا جہاں میرے اندازے کے مطابق گاڑی کھڑی ہوسکتی تھی۔
اب کیا کہوں کہ کوئی جا کر افتخار عارف سے پوچھے کہ بھائی یہ شعر کیوں کہے تھے۔ جواب میں ان کی آنکھوں سے نمی ضرور جھلکے گی۔ میں تو اتنا جان سکا کہ پھولوں کی دُکانیں نہ بند ہوں گی۔ انمول اشعار کے دلفریب مہک والے پھول، ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوچکے۔
مختار آزاد کہانی کار، کالم نگار، دستاویزی فلم ساز اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔












لائیو ٹی وی
تبصرے (2) بند ہیں