بچوں کی اموات۔ تین ہیلتھ ورکروں پر قتل کا الزام
پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمۂ صحت نے جمعہ کے روز یہ اعلان کیا کہ وہ حال ہی میں صوبے کے اندر انسدادِ خسرہ مہم کے دوران چار ہلاکتوں پر اپنے تین ٹیکنیشز کو جان بوجھ کر قتل کرنے کا کیس درج کرائے گا۔
اس کے علاوہ اس معاملے غفلت برتنے پر پشاور کے ہسپتالوں سے تعلق رکھنے والے دس ڈاکٹروں اور ہیلتھ ٹیکنیشنز کی معطلی کا اعلان بھی کیا گیا۔
جمعہ کے روز وزیرِ صحت شہرام خان ترکئی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ صوبے میں خسرہ کے خلاف ویکسینیشن کی بارہ روزہ مہم کے بعد چار بچوں کی ہلاکتوں اور درجنوں کے پشاور کے ہسپتالوں میں داخل کیے جانے کے واقعات کے حوالے سے کی گئی ایک اعلٰی سطح کی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں اس معطلی کا حکم دیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ انسدادِ خسرہ کی یہ مہم صوبے بھر میں 19 مئی کو شروع ہوئی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انکوائری کمیٹی نے ٹیکنیشن طارق، سپروائزر ماجد اور ہیلپر ظریف کو انسدادِ خسرہ ویکسین کا غلط طریقے سے انتظام کرنے کا مرتکب پایا، جس کے سبب یہ اموات ہوئیں اور اسی وجہ سے ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے تحت ارادتاً قتل کا کیس درج کرایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ لگ بھگ چھیانوے لاکھ بچوں کو اس مہم کے دوران ویکسین دی گئی تھی اور ہندوستان میں زیرِاستعمال یہ انسدادِ خسرہ ویکسین وفاقی حکومت نے خریدی تھی۔
چار بچوں کی ہلاکت اور بڑی تعداد کے ہسپتال میں داخلے کے بعد صوبائی حکومت نے اس سلسلے میں انکوائری کا حکم دیا تھا۔
اس حکم کی پیروی میں پشاور کے ڈپٹی کمشنر ظہیرالاسلام کی سربراہی میں سینئر ڈاکٹروں اور عالمی ادارۂ صحت کے ایک نمائندے پر مشتمل ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔












لائیو ٹی وی