آم کی برآمدات پر یورپی پابندی سے کیسے بچیں؟

شائع August 4, 2014 اپ ڈیٹ August 4, 2014 07:11pm

پاکستان کی یورپی یونین کو آم کی برآمد اچانک ہی مشکلات کا شکار ہوگئی اور اب صرف ایک گڑبڑ کا نتیجہ بھی ہندوستانی آموں کی قسمت جیسا نکل سکتا ہے۔

بدلتے منظرنامہ میں یورپی بلاک کو آموں کی برآمد میں تیزی سے کمی آئی ہے یہاں تک کہ یہ تعداد گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں صرف ستر فیصد ہے مگر نظر نہیں آتا کہ کسی کو کوئی پروا ہے۔

یورپی یونین پہلے ہی فروٹ مکھی سے متاثرہ آموں کی پانچ کھیپوں کو زرد کارڈ دکھا چکی ہے اور مزید برآمد پر بھی پابندی کا امکان ہے جس کا اطلاق دیگر زرعی مصنوعات پر بھی ہوسکتا ہے۔ مجموعی طور پر یورپی یونین گزشتہ تین برسوں میں پاکستانی آموں کی تین سو شپ منٹس مسترد کرچکی ہے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اب ساری توجہ مقدار نہیں بلکہ معیار پر مرکوز ہے اور آموں کا گرم پانی میں ٹریٹمنٹ، جسے ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے لازمی قرار دے دیا ہے، سے منہ نہیں موڑا جاسکتا۔

یہ ٹریٹمنٹ اس وقت لازمی قرار دیا گیا جب یورپی یونین کو جون میں آموں کی دو کھیپں فروٹ فلائیز سے متاثرہ ملیں، اب نئے طریقہ کار کے تحت آم صفائی کے نظام سے گزرتے ہیں اور پھر ان کا ایک گھنٹے تک 48 سینٹی گریڈ درجہ حرارت پر ابلتے گرم پانی میں ٹریٹمنٹ ہوتا ہے، جس سے آموں کی زندگی 35 روز تک بڑھ جاتی ہے۔

مگر اس سے ایک اور مسئلہ سامنے آگیا ہے، وہ یہ کہ اہم شہروں یا مقامات میں گرم پانی کے ٹریٹیمنٹ کے مراکز کو کس طرح توسیع دی جائے، یہ پلانٹس ماضی میں بھی آموں کی تجارت کرنے والے برآمد کنندگان اور سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے جنھیں روایتی طریقہ کار میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہوتا۔

اب پھلوں کے اس بادشاہ کو نو اقسام کی بیماریاں اپنا ہدف بنارہی ہیں، اس وقت ملک میں صرف تین پلانٹس ہی کام کررہے ہیں اور وہ سب کراچی میں واقع ہیں، جبکہ گرم پانی میں ٹریٹمنٹ کے بارہ پلانٹس ہیں تاہم یورپی یونین صرف گرم پانی کے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی ہی منظوری دیتی ہے۔

اس چیز نے آموں کی پیدوار کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں محرومی کا احساس پیدا کیا ہے اور لاہور میں بڑے پلانٹ کی تنصیب میں مزید تاخیر نہیں کی جاسکتی، اس وقت اس صوبے کے برآمد کنندگان کو اپنے مال کے ساتھ کراچی کا سفر کرنا پڑتا ہے، جبکہ ٹریٹمنٹ کے بعد اس کی پیکجنگ اور دیگر کارروائی کو پورا کرنا پڑتا ہے۔

کراچی میں واقع ایک پلانٹ کا افتتاح وفاقی وزیر برائے فوڈ سیکیورٹی سکندر حیات خان بوسن نے یکم جولائی کو کیا تھا، اس موقع پر وفاقی وزیر نے قومی زرعی تحقیقاتی ادارے(این اے آر سی) کو پندرہ سے بیس گرم پانی کے چھوٹے ٹریٹمنٹ پلانٹس ماہانہ بنیادوں پر اگلے تین ماہ تک لگانے اور کاشتکاروں میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی۔

یہ چھوٹے یونٹ موجودہ مسائل کا بہترین حل ثابت ہوسکتے ہیں، این اے آر سی کے ایک سنیئر انجنئیر نے یکم جولائی کی تقریب میں بریفننگ دیتے ہوئے کہا کہ کیڑے مار ادویات سے پاک آموں کی برآمد کے لیے سب سے بڑا خطرہ مطلوبہ تعداد میں ٹریٹمنٹ پلانٹس نہ ہونا ہے، جبکہ کراچی میں موجود پلانٹس اتنے بڑے نہیں کہ وہ تمام برآمد کنندگان کی طلب پوری کرسکیں۔

تاہم وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی کے باعث صورتحال تاحال الجھی ہوئی نظر آتی ہے، محکمہ زراعت پنجاب کے حکام نے وزارت فوڈ سیکیورٹی کے ذیلی ادارے پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ(ڈی پی پی) پر الزام عائد کیا ہے کہ کراچی کے پلانٹس کے ذریعے اجارہ داری قائم کرنے اور آم کے کاشتکاروں کو برآمد کے لیے سہولیات فراہم کرنے میں زیادہ سنجیدہ نہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ڈی پی پی کے اعلیٰ حکام انفرادی سطح پر فارمز کو گرم پانی کے پلانٹس لگانے کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں جس سے انہیں اپنی آموں کی فصل یورپی یونین کو برآمد کرنے میں سہولت مل سکے، اس رویے نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کے ساتھ آموں کی برآمدات میں اضافے کو بھی مشکل بنادیا ہے۔

مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ آموں کے فارمز کے لیے یورپی یونین کے طے کردہ سخت معیار کے مطابق پلانٹ لگانا کوئی آسان کام نہیں، فارمرز ایسوسی ایشن پاکستان، جس میں پنجاب کے کاشتکاروں کی نمائندگی زیادہ ہے، گزشتہ تین برسوں سے آم کاشت کرنے والے افراد کو اس طرح کے پلانٹس کے لگانے کے لیے حوصلہ افزائی کررہی ہے۔

ہندوستانی آموں پر پابندی جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوا اور وہ دسمبر 2015ءتک برقرر رہے گی، اس وقت نافذ ہوئی جب یورپی یونین نے ان آموں پر فروٹ فلائیز سے متاثر ہونے کر خدشات کا اظہار کیا، اس پابندی کا اطلاق آموں کے ساتھ بینگن، کریلے اور دیگر کچھ سبزیوں پر بھی ہوا۔

یہ فیصلہ اسوقت ہوا جب ہندوستان سے یورپی یونین درآمد ہونے والی پھلوں اور سبزیوں کی 207 کھیپوں کو کیڑے مار ادویات سے آلودہ پایا گیا۔

برطانیہ ہندوستان سے سالانہ سولہ ملین آم برآمد کرتا ہے اور اس برآمد سے ہندوستانی مارکیٹ سالانہ ساٹھ لاکھ پاﺅنڈز کماتی ہے، جبکہ ہندوستان سے ہر سال یورپی یونین کو چالیس سے پچاس ہزار ٹن آم برآمد کیے جاتے تھے۔

یورپی یونین کے ساتھ آسٹریلیا نے بھی ہندوستانی آموں پر پابندی عائد کردی ہے، تاہم یہ پابندی نہ صرف ہندوستان بلکہ برطانیہ اور یورپ میں بھی ایک تنازعے کا سبب بن گئی کیونکہ متعدد درآمد کنندگان، ریٹیلرز اور سیاستدانوں نے اسے ضرورت سے زیادہ سخت اقدام قرار دیا۔

پاکستان نے گزشتہ چار سے پانچ برسوں کے دوران اپنے آموں کے لیے گیارہ نئی مارکیٹیں تلاش کی ہیں، جن میں جنوبی کوریا، آسٹریلیا، موریشش، لبنان، اردون، ایران اور چین وغیرہ شامل ہیں۔

پاکستان نے گزشتہ سال بیس سے پچیس ہزار ٹن آم ایران کو بارٹر سسٹم کے سیب، انگور، تارکول اور دیگر کیمیکلز کے بدلے میں برآمد کئے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026