Dawn News Television Logo

سی پیک سیاحت: شاہراہِ قراقرم پر بشام سے چلاس تک (تیسری قسط)

بشام تک شاہراہِ قراقرام کا سفر آسان بھی ہے اور حسین بھی، لیکن بشام کے بعد شاہراہِ قراقرم کی بلندی ہیبت ناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔
شائع 30 جون 2022 05:06pm

اس سلسلے کی بقیہ اقساط یہاں پڑھیے۔


پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں میں رہنے والے تو دریائے سندھ کو ہمیشہ ایک وسیع پاٹ میں خاموشی سے بہتا دیکھتے ہیں، لیکن کوہِ قراقرم، ہمالیہ اور ہندو کش کے سلسلوں میں اس دریا کا جوش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔

کوہِ ہمالیہ کی بلندیوں سے ایک ننھے پہاڑی نالے کی صورت میں اپنا سفر شروع کرنے والا یہ دریا اسکردو کے قریب پاکستان میں داخل ہوتا ہے اور پھر دنیا کے عظیم ترین پہاڑوں کے درمیان سفر کے دوران لاتعداد ندی نالے، چشمے اور جھرنے اپنا وجود اس میں شامل کرکے اسے 'شیر دریا' بنا دیتے ہیں۔

اسکردو، گلگت، چلاس اور کوہستان کے خطوں سے گزر کر یہ یہاں تھاکوٹ تک پہنچتا ہے اور یہاں سے کچھ ہی آگے بڑھ کر دنیا کی ایک عظیم جھیل تربیلہ کی تشکیل کرتا ہے اور جب تربیلہ ڈیم سے گزر کر یہ پنجاب کے میدانوں میں داخل ہوتا ہے تو اس کی عظیم وسعت دیکھ کر کوئی یقین نہیں کرسکتا کہ اس مقام سے صرف چند سو کلومیٹر اوپر اس عالیشان دریا کا وجود ایک تیز رفتار نالے سے زیادہ نہیں۔

تھاکوٹ کا چینی ساختہ پُل دریائے سندھ پر شاہراہِ قراقرم کا پہلا پُل ہے۔ دریا کے دونوں کناروں پر اونچے اونچے مینار نما ستون سر اٹھائے کھڑے ہیں۔ ان ستونوں کی بلندیوں سے بندھے آہنی رسے دریا کے دونوں کناروں کے درمیان الٹی کمانوں کی طرح لٹکے ہوئے ہیں اور ان رسوں سے یہ خوبصورت اور ہموار پُل معلق ہے۔ جب گاڑی اس پُل پر سے گزرتی ہے تو یہ رسے جھک کر بس کی کھڑکیوں میں جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں اور پُل کی ریلنگ پر نصب شیروں کے ننھے منے سنگی مجسمے دبی دبی آواز میں گرجتے محسوس ہوتے ہیں، حالانکہ یہ گرج ان سنگی شیروں کی نہیں دریائے سندھ کی ہے جس کا مٹیالا پانی موجیں مارتا ہوا اس پُل کے نیچے سے گزر رہا ہے۔

شاہراہِ قراقرم کی افتتاحی تقریب 1978ء میں اسی پُل کے اوپر منعقد ہوئی تھی جس میں پاکستان کے صدر جنرل ضیاالحق اور چین کے نائب وزیرِاعظم کانگ پیاؤ شریک ہوئے تھے۔

پُل کو عبور کرتے ہی سفر کی ایک نئی دنیا شروع ہوگئی۔ اب دریا ہمارے دائیں طرف رواں تھا اور سڑک کے بائیں طرف آسمان کی بلندیوں کو چُھوتا ہوا کوہِ ہندو کش کا سلسلہ تھا۔

تھاکوٹ کا پُل
تھاکوٹ کا پُل

1978ء میں ہونے والی شاہراہِ قراقرم کی افتتاحی تقریب
1978ء میں ہونے والی شاہراہِ قراقرم کی افتتاحی تقریب

ہم ضلع سوات کی حدود میں داخل ہوچکے تھے۔ سڑک پستہ قد درختوں میں گھری ہوئی ہے، ہوا میں سبزے کی خنک مہک ہے، فضا میں دریائے سندھ کی گونج ہے اور پہاڑوں کی چوٹیاں لحظہ بہ لحظہ بلند ہوتی جا رہی ہیں۔ سڑک کے اطراف میں سبزے کی فراوانی نے ایک ایسی خوشگوار ٹھنڈ پھیلا رکھی تھی جو حلق میں اترتی محسوس ہو رہی تھی۔

پُل سے کچھ ہی آگے آکر بس ایک جگہ پہاڑ کے سایہ دار دامن میں رُک گئی۔ شاید وقفۂ سفر تھا۔ ہم بس سے اتر آئے۔ اِدھر اُدھر دیکھ کر رکنے کی وجہ ڈھونڈی تو وہ سامنے ہی تھی۔ سڑک کے کنارے ایک بہت بڑی سنگی یادگار ایستادہ تھی جس میں نصب سنگِ مرمر کی تختیوں پر ایک طرف یہاں سے چین کے دارالحکومت بیجنگ تک کے فاصلے کندہ تھے اور دوسری طرف کراچی تک پاکستان کے اہم شہروں کے۔ یہ سنگِ میل دیکھ کر اچانک ہمیں اندازہ ہوا کہ ہم کیسی عظیم گزر گاہ پر کھڑے ہیں۔ یعنی اس شاہراہ پر جو گلگت و ہنزہ سے ہوتی ہوئی 16 ہزار فٹ بلند درہ خنجراب تک پہنچتی ہے جس کو عبور کرتے ہی چین کا صوبہ سنکیانگ شروع ہوجاتا ہے اور جس کا پہلا شہر کاشغر ہے۔ وہی کاشغر جو ’نیل کے ساحل’ تک کی ایک اکائی کا حصہ ہے۔ میں نے فوراً کیمرا نکال کر یادگار کی تصویر بنالی۔

تھاکوٹ اور بشام کے درمیان شاہراہِ قراقرم کی یادگار اور فاصلے
تھاکوٹ اور بشام کے درمیان شاہراہِ قراقرم کی یادگار اور فاصلے

شاہراہِ قراقرم پر بشام کی جانب جاتے ہوئے
شاہراہِ قراقرم پر بشام کی جانب جاتے ہوئے

بس دوبارہ چلی اور تھوڑی ہی دیر میں بشام آگیا۔ ایک بڑا سا گاؤں یا ایک چھوٹا سا شہر۔ یہاں دریا ذرا پرے ہٹ گیا اور ہم ایک پہاڑی قصبے میں داخل ہوتے چلے گئے۔ یہاں شاہراہِ قراقرم ایک مختصر سی سڑک بن گئی جسے دونوں طرف سے ملکی و غیر ملکی سامان سے بھری دکانوں نے گھیر لیا۔

بشام کا اصل نام بشام قلعہ ہے جس کا انگریزی تلفظ ‘بے شام قلعہ Besham Qila‘ ہے، اور یہ واقعی ایک ‘بے شام’ قلعہ ہے کیونکہ یہاں شام نہیں ہوتی، رات ہوجاتی ہے۔ سورج ابھی پوری طرح ڈھلا بھی نہیں ہوتا کہ بشام کے اردگرد فصیلوں کی طرح ایستادہ پہاڑ اسے شام کے بجائے رات میں دھکیل دیتے ہیں۔ اس وقت بھی سورج ڈھلنے والا تھا، یعنی رات ہونے والی تھی۔

بس سڑک کنارے ایک غریبانہ سے ہوٹل کے سامنے رک گئی۔ یہاں لمبا وقفہ سفر تھا۔ کچھ دیر پہلے تک تو ہمارے ذہن میں بشام آخری اسٹاپ تھا، لیکن اب چونکہ ہم نے یہاں سے درّہ شانگلہ کے راستے سوات جانے کا ارادہ ختم کردیا تھا اور اسی بس میں گلگت تک جانے کا ٹکٹ لے لیا تھا، اس لیے سامان بس میں ہی رہنے دیا اور نیچے اتر کر بشام کی خوشگوار ٹھنڈک میں شاہراہِ قراقرم پر مٹرگشت کرنے لگے۔

بشام میں ہر سو ایک مدھم سی گونج، ایک دبی دبی سی گرج سنائی دیتی ہے جو دریائے سندھ کی قریب موجودگی کا پتا تو دیتی ہے لیکن دریا نظر نہیں آتا۔ سڑک کے دونوں جانب نگاہیں دوڑائیں تو دکانیں اور مکان راستہ روک لیتے ہیں۔ سڑک پر پیچھے کی طرف چلیں تو آہستہ آہستہ کھیت اور سرسبز باغات دکانوں اور مکانوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ دائیں طرف کی ڈھلوانوں پر کھیت ہیں جنہیں قدرتی چشمے سیراب کررہے ہیں،اور دریا؟ دریا شاید بائیں طرف نیچے کی ڈھلوانوں پر درختوں کی آڑ میں چھپ کر بہہ رہا ہوتا ہے۔

تھوڑا سا اور آگے بڑھیں تو سڑک کے کنارے نیلے رنگ کا ایک بورڈ نظر آتا ہے جس پر پاکستان ٹؤرازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (پی ٹی ڈی سی) کے موٹل میں قیام و طعام کے الفاظ کے ساتھ تیر کا نشان ایک طرف کو اشارہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ یہاں شاہراہِ قراقرم سے بائیں طرف ایک چھوٹی سی سٹرک نکل کر ڈھلوان پر ایک مختصر سے جنگل میں گم ہورہی ہے۔ اس سڑک پر جھکے درختوں میں اندھیرا مانگتی چھاؤں اور فضا میں آزاد خاموشی کا راج ہے اور اس خاموشی کو توڑتی ہوئی صرف ایک آواز ہے، اور وہ دریا کی گرج ہے جو لحظہ بہ لحظہ قریب آتی جاتی ہے۔ ہم دریائے سندھ کو قریب سے دیکھنے کی خواہش میں اس سڑک پر اتر گئے۔

سڑک کے اختتام پر دریا کے بلند کنارے پر درختوں میں گھرا ہوا ایک میدان سا تھا جس میں پی ٹی ڈی سی موٹل کی سفید عمارت خاموش کھڑی تھی۔ دریائے سندھ کا پانی ایک عمودی دیوار کے بہت نیچے گہرائی میں بہہ رہا تھا۔ دریا کا مٹیالا پانی اس دیوار سے ٹکراتا، گونجتا اور گرجتا چلا جارہا تھا۔ ایسی گرج جس میں تسلسل تھا، ایسا تسلسل جس میں ہیبت تھی اور ایسی ہیبت جس میں حُسن تھا۔ ہم محویت سے نیچے جھانکتے ہوئے انڈس کی قربت میں بیٹھ گئے۔

بشام میں پی ٹی ڈی سی کا موٹل
بشام میں پی ٹی ڈی سی کا موٹل

بشام کا ایک ہوٹل
بشام کا ایک ہوٹل

یوں تو شاہراہِ قراقرم پر اور بھی کئی دلکش مقامات آتے ہیں، لیکن بشام کی خاص بات یہ ہے کہ یہ عظیم دریا انڈس کے کنارے واقع ہے۔ جن لوگوں نے دریائے سندھ کو صرف میدانی علاقوں میں ایک وسیع پاٹ کے اندر دھیرے دھیرے بہتے دیکھا ہے وہ کبھی بشام جاکر اس کا نظارہ کریں تو انہیں اندازہ ہوگا کہ دنیا بھر کے سیاح آخر کیوں اس دریا کے دیوانے ہیں۔ وہ کیوں اسے ’شیر دریا‘ اور ’طاقتور انڈس‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں اور ان علاقوں کو ’جہاں انڈس جوان ہے‘ کا رومانوی اور افسانوی نام کیوں دیتے ہیں۔

بشام کو زیادہ اہمیت اس وقت حاصل ہوئی جب 1959ء میں شاہراہِ سندھ طاس کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ یہ شاہراہ بشام کو چلاس سے ملانے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس سڑک کی ضرورت یوں پڑی کہ اس زمانے میں راولپنڈی سے گلگت تک تو فوکر طیارہ جاتا تھا لیکن چلاس جانے والوں کو گلگت میں اتر کر پیچھے کی طرف تقریباً سوا سو کلومیٹر مزید سفر کرنا پڑتا تھا۔ یہ ایک تکلیف دہ سفر ہوتا تھا اور اس کو اختیار بھی صرف وہی لوگ کرسکتے تھے جو راولپنڈی سے آرہے ہوں۔ دشواری ان لوگوں کے لیے تھی جو بشام سے چلاس جانا چاہتے تھے۔ آج بشام سے چلاس تک یہ 5 گھنٹے کا سفر ان دنوں خطرناک پگڈنڈیوں پر موت سے مقابلہ کرتے ہوئے کہیں ہفتوں میں جاکر مکمل ہوتا تھا۔ چنانچہ بشام سے چلاس تک 200 کلومیٹر طویل شاہراہِ سندھ طاس کی تعمیر شروع ہوئی اور پھر یہی سڑک عظیم شاہراہِ قراقرم کی تعمیر کا بہانہ بن گئی۔ 1979ء میں شاہراہِ قراقرم کی تکمیل کے بعد پچھلے دور کا ہفتوں کا سفر آج ہم گھنٹوں میں طے کرلیتے ہیں۔

شاہراہِ قراقرم سے پہلے کا راستہ
شاہراہِ قراقرم سے پہلے کا راستہ

زیرِ تعمیر شاہراہِ قراقرم
زیرِ تعمیر شاہراہِ قراقرم

بشام ایک بارونق مارکیٹ بھی ہے۔ یہاں کی دکانیں ملکی و غیر ملکی، خصوصاً چینی ساختہ ساز و سامان سے بھری ہوئی ہیں۔ آپ کو یہ سن کر شاید حیرت ہو کہ پہاڑوں میں چھپے اس دُور دراز قصبے کی اکثر دکانوں پر نیون سائن بھی جگمگاتے ہیں۔ بشام پہاڑوں کی آغوش میں گم ہونے کے باوجود خشک مزاج نہیں۔ یہاں زندگی میں ایک خوشگوار ہلچل نظر آتی ہے۔ بازار میں خوانچہ فروشوں کی پشتو زبان میں طرح طرح کی صدائیں، ہوٹلوں کی چارپائیوں پر بیٹھے خوش باش نوجوانوں کے بے فکر قہقہے اور شربت فروشوں کے گلاسوں میں بجتے جلترنگ، یہ سب بشام کے مختلف رنگ ہیں۔

ہم پی ٹی ڈی سی موٹل سے واپس آئے تو بس روانگی کے لیے تیار تھی۔ کچھ ہی دیر میں بس بشام سے نکل آئی۔ بشام تک تو شاہراہِ قراقرم کا اطراف بڑا دلکش و دلفریب رہتا ہے مگر بشام سے آگے بڑھتے ہی مسافر کو ‘لگ پتہ جاتا ہے’۔ بشام تک شاہراہِ قراقرام کا سفر آسان بھی ہے اور حسین بھی، لیکن بشام کے بعد شاہراہِ قراقرم کی بلندی ہیبت ناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔ ہر لمحے کسی حادثے کا خدشہ دل کو دھڑکاتا ہے اور بشام تک کی عافیت یاد آنے لگتی ہے کیونکہ بشام سے نکلتے ہی شاہراہِ قراقرم قدم بقدم خوفناک بلندیوں کی طرف مائل ایک ایسی پہاڑی سڑک بن جاتی ہے جسے کہیں دُور سے دیکھا جائے تو بالکل یوں نظر آئے جیسے پہاڑوں کی عمودی دیوار میں سے پتھر کی ایک تکونی پٹی نکال دی گئی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی معمولی سی جھری میں گاڑیوں کو چابی والے کھلونوں کی طرح دوڑا دیا گیا ہے۔

دریائے سندھ اس جھری سے ہزاروں فٹ نیچے گہرائی میں چاندی کی ایک پتلی سی لکیر کی طرح بہتا نظر آتا ہے۔ ڈرائیور کی ذرا سی لغزش اور ٹائروں کی معمولی سی بے راہ روی مسافروں کو لمحہ بھر میں موت کے حوالے کرسکتی ہے۔ ہر نیا مسافر ہر نئے موڑ پر آیات قرآنی کا ورد کرتا ہے، مگر خطرناکیوں کا یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لیتا۔ حتیٰ کہ گھبرا کر مسافر باہر دیکھنا ہی چھوڑ دیتا ہے، بس کبھی کبھی کنکھیوں سے، چور نظروں سے تھوڑا سا جھانکتا ہے اور فوراً نظریں ہٹا لیتا ہے۔

بشام کے بعد شاہراہِ قراقرم ایک انتہائی خطرناک سڑک بن جاتی ہے
بشام کے بعد شاہراہِ قراقرم ایک انتہائی خطرناک سڑک بن جاتی ہے

شاہراہِ قراقرم پر گاڑیاں پہاڑ در پہاڑ فاصلے سمیٹتی، دوڑتی چلی جاتی ہیں۔ ایک پہاڑ کے گرد چکر مکمل نہیں ہوتا کہ دوسرا شروع ہوجاتا ہے۔ ہر دو پہاڑوں کے مقام اتصال پر ایک نہ ایک آبشار، جھرنا یا نالا ضرور ملتا ہے، جس پر یا تو کوئی محراب نما پل معلق ہوتا یا پھر اس کا شفاف پانی سڑک کے اوپر ہی سے بہتا ہوا دائیں ہاتھ پر ڈھلوان میں گر کر نیچے دریائے سندھ تک چلا جاتا۔ سڑک پر بہتے پانی میں سے بس گزرتی تو ٹھنڈے پانی کی پھواریں اڑ کر وقتی طور پر بارش کا سا سماں پیدا کر دیتیں، اور بس اگلے پہاڑ کی مسافت طے کرنے کے لیے پھر تازہ دم ہوجاتی۔

دریا کے دوسرے کنارے والے پہاڑوں سے بھی اسی طرح چشمے اور جھرنے نکل کے دریا میں شامل ہوتے نظر آتے تھے، مگر ان کی راہ میں کوئی شاہراہ حائل نہ تھی۔ ان ندی نالوں کا سبزی مائل نیلا پانی سفید جھاگ اڑاتا نیچے جاکر جب دریائے سندھ کے سیمنٹ رنگ میلے پانی میں گرتا تو دریا کی سطح پر نیلی لکیروں کا ایک نقشہ سا بن جاتا۔ اس نقشے کی بیرونی لکیریں دریا کے پانی میں مدغم ہوکر مٹتی جاتیں مگر پیچھے سے آنے والا نیا پانی نیا نقشہ بنا دیتا۔

گاڑی آسمان کو چھونے والے پہاڑوں کے دامن میں چکراتی ہوئی موڑ در موڑ دیوانہ وار دوڑتی ہے، اس امید پر کہ شاید یہ خطرناک راستہ جلد ختم ہوجائے، لیکن یہاں یہ خوفناکیاں مسافروں کا مقدر ہوتی ہیں۔ شاہراہِ قراقرم پر گاڑیوں کے کھائی میں لڑھک کر دریا برد ہونے والے حادثات 90 فیصد اسی خطے میں ہوتے ہیں جن میں موت البتہ 100 فیصد ہوتی ہے۔

سڑک پہاڑوں کی گولائیاں ناپتی جا رہی تھی۔ ایک پہاڑ سے جان چھوٹتی تو دوسرا شروع ہوجاتا۔ ہم جس جگہ پر ہوتے وہاں سے اگلے پہاڑ پر نظر آنے والی شاہراہِ قراقرم ایک لکیر کی طرح اور بڑی قریب محسوس ہوتی تھی۔ بڑے بڑے ٹرک اس پر کھلونوں کی طرح رینگتے نظر آتے۔ لیکن جب ہم اس ذرا سا محسوس ہونے والے فاصلے کو طے کرکے اس مقام تک پہنچتے تو 5، 6 کلومیٹر بن جاتے۔ یہاں شاہراہِ قراقرم پر سفر ایک ہوائی سفر کی طرح ہوتا ہے۔ یہاں بھی ہوائی سفر کی طرح اونچائی ہزاروں فٹ ہوتی ہے، بڑی بڑی چیزیں چھوٹی چھوٹی نظر آتی ہیں اور میلوں کے فاصلے انچوں میں محسوس ہوتے ہیں۔ اور ہاں، جہاز کے حادثے کی طرح شاہراہِ قراقرم پر حادثے کا مطلب بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ یقینی موت۔

یہاں موڑ در موڑ سفر کی وجہ سے فاصلہ بہت آہستگی سے طے ہو رہا تھا۔ نقشوں میں معمولی نظر آنے والے فاصلے یہاں گھنٹوں اور دنوں میں طے ہوتے ہیں۔ راستے کی خوفناکی مسافروں کی قوت گویائی سلب کرلیتی ہے۔ گاڑیاں پہاڑوں کے گرد گولائیوں میں گھوم گھوم کر موت کے کنویں والی موٹرسائیکلیں بن جاتی ہیں۔ جا بجا مال و اسباب سے لدے ’گُھوں گُھوں‘ کرتے سُست رفتار ٹرکوں سے واسطہ پڑ رہا تھا اور بڑی مشکل سے اوور ٹیک ہوتے ہیں۔ یہ خوفناکیاں چلتی رہتی ہیں حتیٰ کہ رات ہوجاتی ہے اور سنگلاخ پہاڑ سیاہ روپ ڈھال کر سیاہ آسمان کا حصہ بن جاتے ہیں۔

خطرناک مناظر نظر آنا بند ہوجاتے ہیں تو سفر بھی کچھ پُرسکون ہوجاتے ہیں۔ دن بھر کے سفر کی تھکن میں گاڑی کے انجن کی ابھرتی ڈوبتی آواز نیند کے غلبے میں لوری کا کام کرتی ہے۔ جیسے ہی ذہن پر غنودگی طاری ہونے لگتی ہے، داسو اور کومیلا آتے ہیں۔ داسو اور کومیلا 2 جڑواں بستیاں ہیں جو ضلع کوہستان کا حصہ ہیں۔ ان دونوں کے درمیان دریائے سندھ ایک مختصر پاٹ میں بہتا ہے۔ یہاں دریا پر ایک پُل ہے جس سے گزر کر شاہراہِ قراقرم دائیں کنارے پر آجاتی ہے۔ بس کچھ دیر داسو میں رکی اور سفر پھر شروع ہوگیا۔

داسو شہر کا منظر
داسو شہر کا منظر

داسو میں دریائے سندھ پر بنا پُل
داسو میں دریائے سندھ پر بنا پُل

اب ہم دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر ایک وسیع اور ویران لینڈ اسکیپ میں سفر کر رہے تھے۔ مناظر رات کے پردے میں روپوش ہوچکے تھے کہ سامنے کے اندھیرے میں سے چند ٹمٹماتی بتیاں قریب آتی محسوس ہوئیں۔

یہ چلاس تھا۔ شاہراہِ قراقرم کے افتتاح سے پہلے 1978ء تک چلاس گلگت کے راستے کا ایک اہم پڑاؤ ہوا کرتا تھا کیونکہ اس وقت تک گلگت آنے کا واحد زمینی راستہ وہی تھا جو بالاکوٹ، کاغان، ناران اور درّہ بابوسر سے گزر کر پہلے یہاں چلاس پہنچتا تھا اور پھر یہیں سے گلگت اور اسکردو کے راستے نکلتے تھے۔ اصل شہر چلاس شاہراہِ قراقرم سے دائیں طرف پہاڑوں میں کچھ بلندی پر آباد ہے۔ یہاں سڑک پر تو بس چند ہوٹل اور دکانیں ہیں۔

بابِ چلاس
بابِ چلاس

چلاس میں شاہراہِ قراقرم
چلاس میں شاہراہِ قراقرم

چلاس کا ایک ہوٹل
چلاس کا ایک ہوٹل

چلاس اور رائے کوٹ کے درمیان قدیم شاہراہِ قراقرم
چلاس اور رائے کوٹ کے درمیان قدیم شاہراہِ قراقرم

چلاس سے آگے نکلے تو ہر سُو تاریکی کا راج تھا۔ پہاڑوں کے بلند ہیبت ناک ہیولوں سے بچا کھچا آسمان نیلاہٹ مائل سیاہی لیے ہوئے نظر آ تا تھا۔ دریا اندھیرے میں روپوش تھا۔ مسافر اونگھ رہے تھے یا سو رہے تھے۔ سناٹے میں بس کے انجن کی آواز گونج رہی تھی۔ پہاڑوں کے دامن میں کچھ روشن قندیلیں بار بار جھلک دکھاتی اور غائب ہوجاتی تھیں۔ روشنیوں کی یہ آنکھ مچولی دراصل شاہراہِ قراقرم کے پیچ درپیچ وجود میں الجھتی گاڑیوں کی ہیڈلائٹس کی تھی۔ بس چلتے چلتے گاڑی اچانک سُست رفتار ہوئی، بلکہ رک سی گئی۔ سامنے پہاڑ کے کونے میں سڑک ختم ہوگئی تھی اور وہاں ایک پُل شروع ہو رہا تھا۔

یہ رائے کوٹ پُل تھا۔ بشام اور داسو کے بعد یہ دریائے سندھ پر شاہراہِ قراقرم کا تیسرا پُل تھا۔ اسے عبور کرکے شاہراہِ قراقرم دریائے سندھ کے بائیں طرف آجاتی ہے اور پھر بائیں طرف ہی رہتی ہے۔

رائے کوٹ کا پُل
رائے کوٹ کا پُل

دریائے سندھ پر شاہراہِ قراقرم کا یہ آخری پُل ہے۔ اس پُل کی ایک بڑی اہمیت یہ بھی ہے کہ یہاں نانگا پربت کے بیس کیمپ اور فیری میڈوز کا راستہ بھی یہیں اسی پُل کے سامنے دائیں طرف کے پہاڑوں کی طرف بلند ہوتا ہے۔ فیری میڈوز جانے والے یہاں اتر جاتے ہیں۔ یہاں بس ایک ہوٹل ہے جس کی پارکنگ میں اپنی گاڑیاں کھڑی کرکے سیاح اور کوہ پیما، سطح سمندر سے 11 ہزار فٹ بلند اور 16 کلومیٹر دُور فیری میڈوز کی طرف پیدل ہی بڑھتے ہیں یا پھر جیپ میں سوار ہوکر پہلے تتو نامی گاؤں تک جاتے ہیں اور وہاں سے پیدل چڑھائی شروع کردیتے ہیں، کیونکہ تتو سے آگے راستہ اس قدر تنگ اور خطرناک ہے کہ جس پر صرف پیدل یا گھوڑے پر بیٹھ کر ہی سفر کیا جاسکتا ہے۔


عبیداللہ کیہر پیشے کے لحاظ سے میکینیکل انجینیئر، مگر ساتھ ہی سیاح، سفرنامہ نگار، پروفیشنل فوٹوگرافر اور ڈاکومنٹری فلم میکر ہیں۔ آپ کی اب تک 7 کتابیں بھی شائع ہوچکی ہیں۔ آبائی تعلق سندھ کے شہر جیکب آباد سے ہیں۔ عمر کا غالب حصہ کراچی میں گزارا اور اب اسلام آباد میں رہتے ہیں.


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔