• KHI: Partly Cloudy 31.3°C
  • LHR: Heavy Rain 21°C
  • ISB: Heavy Rain 17.2°C
  • KHI: Partly Cloudy 31.3°C
  • LHR: Heavy Rain 21°C
  • ISB: Heavy Rain 17.2°C

انسانیت سانحہ پشاور کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گی، کیلاش ستھیارتی

شائع December 24, 2014

ملالہ یوسف زئی کے ساتھ امن کا مشترکہ نوبیل انعام حاصل کرنے والے اور بچوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہندوستان کے معروف سماجی رہنما کیلاش ستھیارتی کا کہنا ہے کہ پشاور کے اسکول میں جس طرح معصوم بچوں کو حیوانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے قتل کیا گیا اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ملتی۔

ڈان نیوز کے پروگرام جائزہ میں گفتگو کرتے ہوئے کیلاش ستھیارتی نے مقتول بچوں کے والدین کے ساتھ تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دعا ہے کہ خدا ان کو اتنی طاقت دے کہ وہ اس حادثے کو سہہ سکیں۔

نوبیل انعام یافتہ سماجی کارکن کا کہنا تھا کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ طویل اور مشکل ہے جس کا مقابلہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے، اس لئے تعلیم پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرنا چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے اس عمل سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی زمین کھو رہے ہیں اور اسلئے وہ بچوں کی طاقت سے خوفزدہ ہیں۔

کیلاش نے کہا کہ تمام مذہاب کی بنیاد محبت پر ہے اور کوئی بھی مذہب کسی کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا، اس قسم کی دہشت گردی نہ صرف مذہب کے مخالف ہے بلکہ یہ انسانیت کے بھی خلاف ہے۔ اسلام کا مطلب بھی محبت کرنا اور اور ایک دوسرے کی مدد کرنا ہے اور جو لوگ اس قسم کے کام کررہے ہیں وہ نہ تو اسلام کی خدمت کررہے ہیں اور نہ ہی خود کو فائدہ پہنا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطیبن میں اکثر اسکولوں پر بمباری کے واقعات سامنے آتے ہیں لیکن سانحہ پشاور جیسا واقعہ کی کوئی مثال نہیں ملتی، انسانیت اس کو کبھی فراموش نہیں کرسکے گی۔

کیلاش ستھیارتی نے دہشت گردی کو ایک عالمی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے خلاف سب کو مل کر لڑنا ہوگا، اگر ہم اپنے بچوں کی تعلیم اور پرورش پر خصوصی توجہ دیں گے تو دہشت گردوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہوسکے گا کہ وہ ہماری نئی نسل کو انتہا پسندی کی طرف مائل کرسکے۔ انہوں نے پاکستان آنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پشاور سانحے کے وقت ان کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اسی وقت وہاں چلے جائیں اور غمزدہ والدین کے دکھ میں شریک ہوسکیں۔

کیلاش کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی بھی پاکستانی اور ہندوستانی بچوں میں فرق نہیں کیا اوہ گزشتہ 26 ستائیس سالوں سے پاکستان جاتے رہے ہیں اور وہاں چائلڈ لیبر کے حوالے سے انہوں نے کام بھی کیا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 15 مارچ 2026
کارٹون : 14 مارچ 2026