• KHI: Sunny 34.3°C
  • LHR: Heavy Rain 22.1°C
  • ISB: Heavy Rain 16.3°C
  • KHI: Sunny 34.3°C
  • LHR: Heavy Rain 22.1°C
  • ISB: Heavy Rain 16.3°C

وکلاء فوجی عدالتوں کی تشکیل کے مخالف کیوں؟

شائع January 30, 2015

پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے سینئر وکیل رہنما احمد اویس ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ ملک بھر کے وکلاء ملکی مفاد میں فوجی عدالتوں کے قیام کے مخالف ہیں۔

ڈان نیوز کے پروگرام ' نیوز آئی' میں گفتگو کرتے ہوئے احمد اویس نے کہا کہ ایک نام نہاد جمہوری حکومت نے غیر آئینی اور غیر جمہوری اقدام اٹھاتے ہوئے آئین میں ترمیم کی جسے وکلاء کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔

احمد اویس کا کہنا تھا کہ ملٹری کورٹس کا فیصلہ ایک بیرونی ایجنڈا ہے جو کہ آج نہیں تو کل سامنے آجا ئے گا،کیونکہ اس عمل سے کسی صورت ملکی مفاد وابستہ نہیں ہے۔

تحریک انصاف کے سینیئر رہنما نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پشاور کا سانحہ بہت بڑا تھا لیکن یہ فوجی عدالتوں کے قیام کی دلیل نہیں ہوسکتا،سوال تو یہ ہے کہ یہ سانحہ ہوا کیوں؟

سینیئر وکیل رہنما نے پشاور سانحے سمیت دہشت گردی کے دیگر بڑے واقعات کو انٹیلی جینس کی ناکام قرار دیتے ہوئے انٹیلی جینس کا مربوط نظام بنانے پر زور دیا

تحریک انصاف کی جانب سے اے پی سی میں فوجی عدالتوں کے قیام کی حمایت کے سوال پر احمد اویس نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی اپنی مجبوریاں ہیں تاہم وکلا ء قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔

خیال رہے کہ لاہور میں منعقدہ پاکستان بار کونسل کے زیر انتظام آل پاکستان وکلا کنونشن میں فوجی عدالتوں کے متفقہ قرارداد منظور کی گئی ہے۔

کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر نےحکومت کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جنگلا بس جیسے منصوبوں کی بجائے انصاف کی فراہمی پر اربوں روپے لگائے جاتے توآج ملک کے حالات اتنے ابتر نہ ہوتے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے مرکزی رہمنا حامد خان نے سانحہ پشاور کی انکوائری کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ آمر حکومت کا مقابلہ کرنے والے وکلاء ایک اور مقابلے کے لیے تیار ہیں ۔

کنونشن نے ہر جمعرات کو فوجی عدالتوں کے قیام کے خلاف یوم سیاہ منانے کا اعلان بھی کیا۔

کارٹون

کارٹون : 15 مارچ 2026
کارٹون : 14 مارچ 2026