'ایم کیو ایم کے خلاف مقدمات فوجی عدالتوں میں بھیجے جائیں'

شائع February 10, 2015

جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد کے انتخابات منسوخ کرکے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے خلاف مقدمات کو فوجی عدالتوں میں بھیجا جائے۔

رینجرز کی جانب سے سندھ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن میں ملوث ایک ملزم کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔

گیارہ ستمبر 2012 کو کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کی ایک فیکٹری میں آگ لگنے سے ڈھائی سو سے زائد افراد زندہ جل کر ہلاک ہو گئے تھے۔

رینجرز کی رپورٹ کے بعد ایم کیو ایم کو اس وقت سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا ہے جب کہ ایم کیو ایم مؤقف ہے کہ کسی فرد واحد کے فعل کو پوری جماعت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے ایم کیو ایم کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

لیاقت بلوچ نے ایم کیو ایم کے مینڈیٹ کو جعلی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی اور حیدر آباد کے انتخابات منسوخ کر کے ایم کیو ایم کا جعلی مینڈیٹ ختم کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ بھتہ خوری اور بوری بند لاشوں کی موجد ہے۔

لیاقت بلوچ نے الزام عائد کیا کہ الطاف حسین غیر ملکی آلہ کار بن کر پاکستان کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ایم کیوایم رینجرزاور پولیس اہلکاروں کی بھی قاتل ہے۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حکومت بلیک میل ہونے کی بجائے ایم کیو ایم کے حقائق سامنے لائے ۔

اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے امیر نعیم الرحمن نے کہا کہ ایم کیوایم کراچی میں فرقاوارانہ اور لسانی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا کہ بولٹن مارکیٹ آتشزدگی اور سانحہ بارہ مئی کی ذمہ دار بھی ایم کیو ایم ہے۔

تبصرے (1) بند ہیں

الیاس انصاری Feb 10, 2015 09:03pm
اسلام کے نام پر سیات کرنے والی جماعت کے رہنماؤں کی گفتگو سے سے لگتا ہے کہ یہ اسلامی اخلاقیات کی الف بے سے بھی واقف نہیں ہیں

کارٹون

کارٹون : 14 مارچ 2026
کارٹون : 13 مارچ 2026