نائن زیرو پر چھاپہ: 'معاملہ وزیراعظم کلیئر کریں'

شائع March 11, 2015

اسلام آباد: کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کے مرکز نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کی بازگشت وفاقی دارلحکومت میں سینیٹ کے اجلاس میں بھی سنی گئی اور اپوزیشن نے اس واقعے کے خلاف ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

پارلیمنٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں ایم کیو ایم کے سبکدوش ہونے والے سینیٹر بابر غوری نے کہا کہ وزیراعظم نواز شریف پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس بات کو کلیئر کریں کہ کیا سینیٹ چیئرمین شپ کے لیے رضا ربانی کی حمایت کرنے کی وجہ سے نائن زیرو پر چھاپہ مارا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : نائن زیرو سے نیٹو اسلحہ برآمد، ولی بابر کا قاتل گرفتار

بابر غوری نے مزید کہا کہ رینجرز نے صبح 5 بجے ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مارا اور توڑ پھوڑ بھی کی۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ رینجرز بھی ایک پارٹی بن گئی ہے اور ایم کیو ایم کے خلاف جھوٹے بیانات دے رہی ہے۔

رینجرز ترجمان کے مطابق نائن زیرو پر چھاپے کے دوران پانچ اہم ملزموں کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں غیرقانونی اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جو کہ نیٹو کنٹینرز سے چوری ہوا تھا۔

اس حوالے سے بابر غوری نے دعویٰ کیا کہ نائن زیرو میں کوئی غیر قانونی اسلحہ نہیں تھا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ کشمیر میں بھی اتنا ظلم نہیں ہو رہا جتنا کراچی میں ہو رہا ہے، مسلمانوں کے محافظ مسلمانوں کو مار رہے ہیں۔

ایم کیو ایم کے سینیٹر نے مطالبہ کیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف رینجرز کے چھاپے کا نوٹس لیں اور فائرنگ میں ملوث اہلکاروں کا کورٹ مارشل کریں۔

ایم کیو ایم کے ایک اور سینیٹر طاہرمشہدی نے کہا کہ کراچی میں رینجرز متنازع ہو چکی ہے جب کہ نائن زیرو پر چھاپہ ظلم اور دہشت گردی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اردو بولنے والوں کے بچوں کو حراست میں لے کر ہراساں کیا جاتا ہے۔

ایم کیو ایم کے نومنتخب سینیٹر بیرسٹرسیف نے کہا کہ رینجرز سیکیورٹی اہلکاروں کو مارنے والوں کو پکڑے۔

قبل ازیں پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹ میں چیئرمین کے امیدوار رضا ربانی نے کہا تھا کہ رینجرز کے پاس کوئی اطلاع تھی تب بھی لیڈر شپ کو اعتماد میں لینا چاہیے تھا، رینجرز کے چھاپے کو جمہوری قوتیں سپورٹ نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کےمرکز نائن زیرو پر کارروائی افسوسناک ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک اور سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ رینجرز کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی ایک کمیٹی بنائی جائے اور اس معاملے کو اس کے سپرد کیا جائے۔

دوسری جانب سینیٹ میں موجودہ قائد ایوان اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما راجا ظفرالحق کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ کی ایم کیو ایم سے رضا ربانی کی حمایت یا کسی اور معاملے پر کوئی رنجش نہیں ہے۔

راجا ظفر الحق نے ایم کیو ایم کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ نائن زیرو پر رینجرز کا چھاپہ سینیٹ انتخابات میں حمایت نہ ملنے کی وجہ سے مارا گیا۔

سینیٹ میں قائد ایوان کا کہنا تھا کہ وہ نائن زیرو پر چھاپے کی وزیراعلی سندھ سے تفصیلات لے کر ایوان میں پیش کریں گے۔

تبصرے (1) بند ہیں

راضیہ سید Mar 11, 2015 02:22pm
ایک بہت عجیب سی بات یہ ہمیشہ ذہن میں کھٹکتی رہتی ہے کہ ایم کیو ایم کے ایک طرف واویلے جاری رہتے ہیں کہ نہیں جناب ہم پر حکومت نے یہ کیا یہ کیا ، دوسری جانب کچھ ہی دیر میں حکومت کے ساتھ معاملات سیٹ بھی ہو جاتے ہیں جیسا کہ استعفی کے معاملات کو تو اب بچہ بچہ جان گیا ہے ، دوسرا فورا ہی ایک دن بعد تردید ٓآجاتی ہے کہ نہیں جناب یہ حکومت کا کیا دھرا ہے بلکہ کسی نادیدہ ہاتھ کا ہے اور یہ نادیدہ ہاتھ واقعی نادیدہ ہی رہتا ہے ، ابھی کل ہی ایک خاتون سے میری ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ مہاجر قومی موومنٹ ہو یا متحدہ قومی موومنٹ جب سب پاکستان میں آبسے تو کس بات کے اور کہاں کے مہاجر ؟بلکہ یہ سب پاکستانی ہیں ، اب ایک ایسا ملک جہاں آپ کو اتحاد کو فروغ دینے کی ضرورت ہے سب اپنی ڈیڑھ انیٹ کی مسجد بنا کر رہ گئے ہیں کوئی موومنٹ چلا رہا ہے تو کوئی انصاف کے حصول کے لئے تحریک ، جبکہ ایم کیو ایم کبھی بھی خود پر سے دہشتگردی کے الزامات کو نہیں مٹا سکے ، کراچی میں رینجرز پرجتنا اعتماد وہاں کے عوام کو ہے شاید کسی اورپر نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔

کارٹون

کارٹون : 13 مارچ 2026
کارٹون : 12 مارچ 2026