پاکستان سے ہندوستان ہجرت کرنے والے ہندو پریشان
پاکستان سے ہندوستان جانے والے 20 سالہ امر رام کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان میں ہندو کی حیثیت سے رہتا تھا جہاں سے وہ تحفظ اور وقار کے لئے ہندوستان آیا، تاہم اسے یہاں پاکستانی ہونے کی وجہ سے بے رخی کا سامنا ہے۔
جب یہ پاکستانی ہندو ہندوستان میں داخل ہوتے ہیں تو ان پر شک کیا جاتا ہے اور حکومت کی جانب سے انھیں سنگدلی کا سامنا ہوتا ہے جبکہ رہائش کے حوالے سے بھی کوئی خاص مدد نہیں کی جاتی۔
رواں ہفتے کے آغاز میں ہندوستانی سرکار نے اعلان کیا تھا کہ بنگلہ دیش اور پاکستان سے آنے والے ہندو جو کہ گزشتہ سال 31 دسمبر سے قبل ہندوستان میں داخل ہوئے تھے ،یہاں رہائش اختیار کرسکتے ہیں، چاہے ان کے سفری دستاویزات نامکمل ہی کیوں نہ ہو۔
اس سرکاری اعلان نے پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع مٹیاری سے تعلق رکھنے والے رام اور دیگر 24 افراد کو تسلی دی جو کہ زیارت کے ویزے پر دہلی آئے تھے اور اس کی مدت ختم ہوچکی ہے۔
تاہم ان افراد کو ہندوستان میں رہنے کا حق دینا کافی نہیں ہوگا، ہندوستانی حکومت کو ان کی سماجی اور اقتصادی امداد بھی کرنا ہوگی۔
ایک پاکستانی ہندو سیت رام کا کہنا ہے کہ ’پاکستانی ہونے کی وجہ سے پڑوسی ہم سے بات نہیں کرتے اور نہ ہی کوئی مجھے ملازمت دیتا ہے۔‘
مذہبی ظلم وستم
![]() |
پاکستان سے آنے والے بیشتر تارکین وطن راجھستان آئے کیونکہ ان کے لیے تھر ایکسپریس کے ذریعے یہاں آنا آسان تھا، لیکن کچھ لوگ دہلی کے قریب واقع بجواسن کے علاقے میں مقیم ہوگئے۔
پاکستان سے آنے والے 32 سالہ کشن رام کے مطابق ہندوستان آنا ایک مشکل فیصلہ تھا جس کے لیے اسے اپنی نومولود بچی کو پیچھے چھوڑنا پڑا کیونکہ وہ اس کا پاسپورٹ حاصل نہیں کرسکا تھا۔
کشن رام کا کہنا تھا کہ حکام نے بچی کا پاسپورٹ بنانے سے انکار کردیا جس کے باعث اس کو اپنے بھائی کے ہاں چھوڑنا پڑا۔
پاکستان میں اپنی ساری زندگی گزار دینے والی 50 سالہ جمنا دیوی بہت زیادہ توقعات کے ساتھ ہندوستان منتقل ہوئی، مگر اب وہ کہتی ہیں کہ پاکستان میں ہم خوفزدہ رہتے تھے تاہم یہاں آنا بھی کچھ اچھا ثابت نہیں ہوا، لوگ ہمارے ساتھ اچھا سلوک نہیں کررہے اور ایسا ہی وہاں (پاکستان میں) بھی ہوتا تھا۔
ان کا کہنا تھا ’ہمیں معاشرے اور سرکار کی جانب سے نظر انداز کیا جارہا ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے اور پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست ڈاکٹر رمیش کمار وانکوامنی نے گزشتہ سال قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ ہر سال پاکستان سے 5000 ہندو مذہبی منافرت کے باعث ہندوستان چلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں 1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے مطابق ملک میں 25 لاکھ ہندو آباد تھے۔
پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیشن کے مطابق سال 2013ء میں 1000 ہندو خاندان ہندوستان چلے گئے۔
سال 2011ء سے پاکستان سے آنے والے 900 ہندو دہلی کے اطراف میں اسکول عمارتوں میں مقیم ہوئے اور وہاں یہ حال ہے کہ ایک ہی کمرے میں 20، 20 افراد رہائش پزیر ہیں۔
![]() |
پاکستان سے ہندوستان آنے والے ہندو نوجوانوں کو انتہائی مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کی پاکستانی تعلیمی اسناد کو یہاں قبول نہیں کیا جاتا اور ان کو نوکریاں حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ، ستم یہ کہ ان کو خاکروب کی نوکریاں قبول کرنے کو کہا جاتا ہے۔
26 سالہ راجہ کا کہنا ہے کہ اس نے پاکستان سے 12ویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تاہم وہ یہاں اپنے مستقبل کے حوالے سے بہت پریشان ہے۔
اس کا کہنا تھا کہ ’نہ تو میں یہاں پڑھ سکتا ہوں اور نہ ہی مجھے یہاں پر کوئی نوکری مل رہی ہے۔‘ اس نے کہا کہ کوئی بھی مدد نہیں کررہا، وہ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود سٹرکوں پر چیزیں بیچ رہا ہے۔
ان تارکین وطن کے نگران سابق کسٹم افسر اور پولیس اہلکار نہار سنگھ کا کہنا تھا کہ ان تارکین وطن کو گھر فراہم کرنا اور کھلانے کو مختلف ہندو گروپس، جن میں ویشوا ہندو پریشد اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ شامل ہیں، کی جانب سے تنگ نظری سے دیکھا جارہا ہے۔
نہار سنگھ کا کہنا تھا کہ ان کی جانب سے کئی بار حکومت کو ان افراد کی شہریت دینے کے حوالے سے درخواستیں بھیجی گئیں تاہم سرکار کی جانب سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
ٹوٹے ہوئے وعدے
پاکستان سے 1971 میں ہندوستان آنے والے سنگھ سودھا کا کہنا تھا کہ ’ہندوستان میں ایسا کوئی قانون نہیں جو کہ پاکستان سے آںے والے ہندو تارکین وطن کے مسائل کا حل ثابت ہو۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے اقوام متحدہ کے مہاجرین کنونشن 1951 پر دستخط نہیں کئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان سے آنے والے ہندوؤں کو مہاجر تسلیم نہیں کیا جارہا۔
سنگھ کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے شہریت کے قانون کے تحت کسی کو بھی یہاں کی شہریت حاصل کرنے کے لئے 7 سال کا انتظار کرنا ہوتا ہے تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ شہریت کتنے عرصے میں ملے گی۔
![]() |
واضح رہے کہ ہندوستان کی حکمران جماعت بھارتیہ اجنتا پارٹی (بی جے پی) نے سال 15-2014 میں 4300 پاکستانی ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دینے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم اس حوالے سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق اس عرصے میں صرف 289 پاکستانی ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دی گئی۔
اس سے قبل 1978 میں 55 ہزار پاکستانی ہندوؤں کو ہندوستانی شہریت دی گئی تھی اور سال 2005 میں یہ تعداد 13 ہزار تھی تاہم ان دنوں دونوں ممالک کے درمیان موجود سرحدی کشیدگی کے باعث مہاجرین کو شک اور دشمنی کی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔
یہ تحریر اسکرول کی ہے جو کہ اجازت کے ساتھ حاصل کرکے یہاں شائع کی جارہی ہے۔















لائیو ٹی وی
تبصرے (2) بند ہیں