کراچی: 96 قتل کے الزام میں ایم کیو ایم لندن کا کارکن گرفتار

اپ ڈیٹ 20 نومبر 2019

ای میل

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کررہے تھے—فوٹو:ڈان نیوز
ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر اپنے دفتر میں پریس کانفرنس کررہے تھے—فوٹو:ڈان نیوز

کراچی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ مبینہ طور پر 96 افراد کے قتل میں ملوث متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن کے کارکن کو سولجر بازار سے گرفتار کرلیا ہے۔

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر کا پریس کانفرنس کے دوران کہنا تھا کہ ‘اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ اور سولجر بازار پولیس نے یوسف عرف ٹھیلے والا کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے ہینڈ گرینیڈ، ٹی ٹی پستول اور موٹر سائیکل برآمد کرلی’۔

ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے اور اس نے 96 افراد کے قتل کا انکشاف کیا ہے۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم نے 1995 میں ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی اور پولیس کو اس نے بتایا کہ ‘جس کے بعد یونٹ انچارج خالد صدیقی نے ٹارگٹ کلر ندیم عرف ماربل سے ملاقات کا انتظام کیا جنہوں نے اسلحہ چلانے کی تربیت دی’۔

مزید پڑھیں:کراچی: میڈیکل کی طالبہ کا قاتل 'کچرا چننے والا' گرفتار

ایس ایس پی ایسٹ نے گرفتار ملزم کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نے 1995 میں مہاجر برادری کے ایک رکن کو معلومات کے تبادلے کے شبہے میں قتل کرکے ٹارگٹ کلنگ شروع کی۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ ‘ملزم اور اس کے دیگر ساتھی 30 افراد کے قتل میں براہ راست ملوث ہیں جبکہ ملزم نے قتل کیے گئے 66 افراد کی لاشوں کو بھی ٹھکانے لگادیا’۔

مقتولین کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ متاثرین میں فوج کے دو عہدیدار، پاک فضائیہ کا ایک عہدیدار، 12 قتل معلومات افشا کرنے کے شبہے میں کیے، ایک پولیس اہلکار، ایم کیو ایم حقیقی کے 5 کارکنان اور 6 دیگر نسلی بنیادوں پر، ایک سرکاری ملازم، ایک راہگیر، بھتے اور دیگر معاملات پر ایک شہری کو قتل کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ملزم نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ اس نے اپنے دیگر ساتھیوں ندیم عرف ماربل، ریاض عرف چچا، عظیم عرف چھوٹا، راشد عرف چھوٹا، عبدالسلام اور دیگر کے ساتھ مل کر آصف اور کاشف نامی دو بھائیوں کو مومن آباد کے علاقے حنیف آباد سے اغوا کیا اور انہیں جاسوسی کے شبہے میں قتل کردیا جس کے بعد مقتولین کی والدہ نفسیاتی طور پر مسائل کا شکار ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: 10 افراد کے قتل کے الزام میں 'پی ایس پی' کارکن گرفتار

ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ ملزم کو پہلی مرتبہ پاکستان رینجرز نے 1996 میں گرفتار کیا جبکہ 1997 میں ضمانت پر رہا ہوگیا تاہم 1998 میں مومن آباد پولیس نے دو افراد کے قتل کے الزام میں دوبارہ گرفتار کرلیا اور 2003 میں پےرول پر رہا ہوا جس کے بعد وہ مفرور تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مفروری کے دوران اس نے خالد صدیقی اور نہال کے ذریعے لندن میں ایم کیو ایم قیادت سے رابطے بنائے جبکہ محکمہ داخلہ سندھ نے بھی اس کی گرفتاری کے احکامات جاری کردیے تھے کیونکہ وہ پےرول پر رہا تھے۔

ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر کا کہنا تھا کہ ‘ملزم نے ضلع غربی میں دہشت گردی کا مرکز بنالیا تھا تاہم اس کے کئی ساتھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مقابلے میں مارے گئے جبکہ دیگر جیلوں میں ہیں اور چند مفرور ہیں’۔

پولیس افسر کے مطابق گرفتار ملزم کی ٹارگٹ کلنگ کی ٹیم 40 افراد پر مشتمل ہے تاہم اس کے قریبی ساتھی عبدالسلام کو سولجر بازار پولیس نے حال ہی میں گرفتار کرلیا تھا جس پر 111 افراد کے قتل کا الزام ہے۔

فاروق ستار سے رابطے میں تھا، ملزم کا دعویٰ

گرفتار ملزم یوسف نے میڈیا کو بتایا کہ وہ ایم کیو ایم کے سابق رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سے بدستور رابطے میں رہتا تھا اور ان سے نائن زیرو میں ملاقات ہوتی تھی۔

اس کا کہنا تھا کہ 2013 میں خالد صدیقی اور نہال نے ڈاکٹر فاروق ستار سے نائن زیرو میں ملاقات طے کی تھی اور فاروق ستار نے اس کی رہائش کے لیے عارضی طور پر ایک کمرے کا بندوبست کیا تھا۔

مزید پڑھیں:کراچی: ’فرقہ وارانہ قتل‘ میں ملوث کالعدم تنظیم کے 4کارندے گرفتار

تاہم ڈاکٹر فاروق ستار نے الزامات کی تردید کردی ہے۔

فاروق ستار کی میڈیا سے گفتگو

کراچی کے علاقے چشتی نگر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ 'میں کسی زمانے میں نائن زیرو کا نگران نہیں رہا، یا تو عامر خان رہے یا کنور نوید رہے یا انیس قائم خانی رہے'۔

انہوں نے کہا کہ 'میں کبھی نائن زیرو کا نگران نہیں رہا، وہاں کون کہاں رہتا تھا کس کمرے میں اور ہوسٹل میں کون رہتا تھا میرا اس سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں تھا، میں پارٹی کے تنظیمی سربراہ کا بھی نگران نہیں تھا'۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘میں پارٹی کے سیاسی ونگ کی سربراہی کرتا تھا اس لیے کون اس سے یہ کہلوا رہا ہے اور میرے خلاف کوئی نئی سازش ہورہی ہے تو وہ سامنے آجائے گی’۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ‘میں اس بات کی تردید کرتا ہوں’۔

اس موقع پر ایم کیو ایم کے سابق کنوینر نے چشتی نگر کے رہائشیوں کے مسائل پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ انسانی مسئلہ ہے اس کو حل کرنا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سارا بلڈر کا کھیل ہے، کل بھی لینڈ گریبرز نے کھلواڑ کیا اور آج بھی وہی کررہے ہیں جو آزاد بلڈر ہیں وہ ایسا کررہے ہیں اس لیے زمین کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی جائے۔

یاد رہے کہ ایس ایس پی ایسٹ اظفر مہیسر نے 9 اکتوبر 2019 کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ‘اینٹی اسٹریٹ کرائم اسکواڈ ڈسٹرکٹ ایسٹ اور سولجر بازار پولیس نے کارروائی کرکے ایم کیو ایم لندن کے ٹارگٹ کلر عبدالسلام کو گرفتار کیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ٹارگٹ کلر نے فوجی جوانوں اور پولیس اہلکاروں سمیت 111 افراد کو قتل کیا تاہم پولیس نے ملزم کو نشتر روڈ سے گرفتار کیا’۔

ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا تھا کہ ایک پورا گینگ ہے جس میں مختلف کارکن اور مجرمان شامل ہیں۔