رومی کون تھے؟ ترک، افغان یا ایرانی

شائع June 30, 2016 اپ ڈیٹ June 30, 2016 08:16pm

کابل: ادب کی دنیا کے معروف ترین شاعروں میں سے ایک 'جلال الدین محمد رومی' کا تعلق کہاں سے تھا؟ وہ ترک تھے، افغان تھے یا ایرانی؟

یوں تو معروف شاعر و فلسفی مولانا رومی افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے تھے اور ان کا مزار ترکی میں ہے تاہم ان کے کئی کلام فارسی زبان میں ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق حال ہی میں ترکی اور ایران نے اقوام متحدہ کو درخواست دی ہے کہ صوفی شاعر مولانا رومی کو ان کے ملک کا ثقافتی ورثہ قرار دیا جائے لیکن ان دونوں ممالک کی اس درخواست نے افغانستان کو ناراض کردیا ہے۔

افغانستان کا کہنا ہے کہ مولانا رومی کسی کے نہیں بلکہ صرف افغانوں کے ہیں۔

ایک افغان بچہ صوبہ بلخ کے شمالی ضلع خواجہ گھولک میں صوفی شاعر رومی کے تباہ حال گھر کے سامنے پانی بھر رہا ہے—فوٹو / اے ایف پی
ایک افغان بچہ صوبہ بلخ کے شمالی ضلع خواجہ گھولک میں صوفی شاعر رومی کے تباہ حال گھر کے سامنے پانی بھر رہا ہے—فوٹو / اے ایف پی

ایران اور ترکی نے مئی میں اقوام متحدہ کے ایجوکیشنل، سائنٹیفک اینڈ کلچرل آرگنائزیشن (یونیسکو) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کے 'عالمی یادداشت کے رجسٹر' میں رومی کو ان کے ثقافتی ورثے کے طور پر درج کرے۔

تاہم افغان حکومت نے ترکی اور ایران کی اس کوشش کی مذمت کی، جس میں انہوں نے مولانا رومی کے معروف کلام 'مثنوی معنوی' کے تقریباً 25 ہزار سے زائد اشعار کو اپنا ورثہ قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

افغانستان کی وزارت اطلاعات و ثقافت کا کہنا ہے کہ 'رومی افغانستان میں پیدا ہوئے اور دنیا بھر میں ہمارا سر فخر سے بلند کیا۔‘

وزارت کے ترجمان ہارون حکیمی کا کہنا ہے کہ یونیسکو نے کبھی بھی ایران اور ترکی کی پیشکش کے حوالے سے ہم سے نہیں پوچھا تاہم انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونسیکو کو اس بات پر آمادہ کرلیا جائے گا کہ رومی سے وابستگی کا درست حقدار صرف افغانستان ہے۔

مولانا رومی کی مثنوی معنوی کو فارسی ادب میں نمایاں مقام حاصل ہے، ان کی تصانیف مشرق میں ہی نہیں بلکہ مغرب کو بھی اپنے سحر میں جکڑے ہوئے ہے اور ان کے کلام امریکا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتابوں میں شامل ہیں۔

مولانا رومی کی تصانیف کا دنیا کی 23 زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا ہے۔

بلخ کا سپوت

افغان باشندے رومی کو 'جلال الدین بلخی، مولانا یا صرف بلخی' کہہ کر پکارتے ہیں، جبکہ بچے اسکول میں ان کی نظمیں پڑھتے ہیں۔

متعدد محققین کا اتفاق ہے کہ مولانا رومی 1207ء میں افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے تاہم بعض محققین کہتے ہیں کہ مولانا رومی افغانستان میں نہیں بلکہ سرحد پار بلخ نام کے ہی علاقے میں پیدا ہوئے تھے جو اب تاجکستان کہلاتا ہے۔

رومی اس وقت چھوٹے تھے اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ ترکی چلے گئے تھے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گذارا، ان کا انتقال ترکی کے شہر قونیہ میں 1273 میں ہوا۔

صوبہ بلخ کے گورنر جنرل عطاء محمد نور نے اقوام متحدہ کے افغانستان میں موجود نمائندے کو طلب کرکے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا، انہوں نے کہا کہ مولانا رومی کو محض دو ممالک تک محدود کرنا اس عالمگیر شخصیت کے ساتھ ناانصافی ہوگی جس سے دنیا بھر میں محبت کی جاتی ہے۔

کابل میں یونیسکو کے نمائندے ریکارڈو گراسی کا کہنا ہے کہ کوئی بھی ملک، وفد یا شخص اس پروگرام کے تحت کسی بھی شے کو خود سے منسوب کرنے کے حوالے سے درخواست دے سکتا ہے اور اس درخواست پر غور کیا جاتا ہے۔

صوبہ بلخ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر صالح محمد خلیق کا کہنا ہے کہ افغانستان کا نام شامل کیے بغیر اس درخواست کی منظوری ناقابل قبول ہوگی۔

افغان صدر اشرف غنی نے حال ہی میں ترک وزیر خارجہ کی میزبانی کی تھی اور اس دوران اپنے بیان میں کہا تھا کہ رومی دونوں ممالک کا مشترکہ فخر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ وہ رومی کے کام کو ترکی اور افغانستان کا مشترکہ ثقافتی ورثہ قرار دینے کیلئے تیار ہیں، انہوں نے ایران کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

2007 میں افغانستان، ایران اور ترکی نے یونسیکو کے تحت مل کر رومی کا 800واں یوم پیدائش منایا تھا، اس موقع پر یونیسکو نے رومی کی یاد میں اعزازی میڈل جاری کرتے ہوئے ان کا یہ جملہ پڑھا تھا کہ 'میں رشتے داروں اور اجنبیوں میں فرق نہیں کرتا'۔


آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔

تبصرے (1) بند ہیں

screenplayer Jul 01, 2016 05:59am
rumi key abba balkh meyn heyn amma aor bhai karaman (Turk shehir) meyn aor khud konya (Turk shehir) meyN-- faisal khud kareyn

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026