پاناما لیکس پر کمیشن کا وقت گزر چکا، پی ٹی آئی رہنما
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اعجاز چوہدری کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت سمجھتی ہے کہ پاناما لیکس پر کمیشن قائم کرنے کا وقت اب گزر چکا ہے، لہذا اب اگر کمیشن بنا تو اس کا مطلب کچھ اور ہوگا۔
ڈان نیوز کے پروگرام 'نیوز وائز' میں گفتگو کرتے ہوئے اعجاز چوہدری کا کہنا تھا کہ کمیشن تو اُس وقت بننا چاہیئے تھا جب سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کا آغاز ہوا تھا۔
انھوں نے کہا کہ گذشتہ ماہ یکم نومبر سے اب تک تقریباً 7 سماعتیں ہوچکی ہیں اور پی ٹی آئی کی جانب سے تمام دستاویزات جمع کروانے اور دلائل مکمل کیے جانے کے باوجود بھی کیس کا حتمی فیصلہ نہیں ہوسکا۔
تاہم، ان کا کہنا تھا کہ اب تک جتنی بھی سماعتیں ہوئی ہیں ان سے انہیں کسی قسم کی بھی مایوسی نہیں ہوئی کیونکہ جتنے حقائق سامنے آئے ہیں وہ ایک عام آدمی کو سمجھانے کے لیے کافی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما نے کہا 'آج ہر پاکستانی آپ کو بتا سکتا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف نے پارلیمنٹ کے اندر جھوٹ بولا اور پھر قطری شہزادے کے خط سے یہ بات اور بھی واضح ہوچکی ہے'۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا پاناما کمیشن کے بائیکاٹ کا فیصلہ، سماعت ملتوی
پروگرام میں موجود حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے رہنما میاں عبدالمنان نے کہا کہ اگرچہ حکومت کو جلسے یا جلوس سے کوئی اعتراض نہیں، لیکن تحریک انصاف نے اگر دوبارہ لاک ڈاؤن کی کال دی تو پھر ان سے 2 نومبر کی طرح ہی نمٹا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے نزدیک آج ملک کے عوام مسائل کا شکار ہیں، لیکن درحقیقت ان ہی کے دھرنوں اور بیانات کی وجہ سے لوگ پریشان ہیں۔
خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت اگلے ماہ جنوری تک ملتوی کردی ہے۔
اگرچہ یکم نومبر سے اب تک اس کیس کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں، تاہم اب تک عدالت نہ تو خود کوئی فیصلہ کرسکی اور ناہی پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے کسی قسم کے کمیشن کا قیام عمل میں آسکا۔
تحریک انصاف پہلے ہی واضح کرچکی ہے کہ اگر کمیشن بنا تو وہ اس کی مخالفت کرے گی، لہذا پاناما لیکس کا فیصلہ بینچ ہی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف پاناما کیس پر نئے بینچ کی خواہاں
واضح رہے کہ پاناما لیکس پر درخواستوں کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کے سربراہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی رواں ماہ 31 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں، ان کے بعد جسٹس ثاقب نثار چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے۔
سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ نئے بینچ کی تشکیل کے بعد کیس کی نئے سرے سے سماعت ہوگی اور وکلاء کو دوبارہ دلائل دینا ہوں گے۔











لائیو ٹی وی