'ہاں میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں'
کراچی: پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ اور سابق ناظم کراچی مصطفیٰ کمال نے ایک بار پھر ان دعووں کی تردید کی کہ ان کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔
کراچی میں ایم اے جناح روڈ پر جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 'ہاں میں اسٹیبلشمنٹ کا آدمی ہوں اور میری اسٹیبلشمنٹ میرا اللہ ہے'۔
سابق سٹی ناظم نے کراچی کی صفائی کیلئے حکومت کو 30 روز کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگراختیارات نہیں تو میئر وسیم اختر مستعفی ہوجائیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہر کا مینڈیٹ پاک سرزمین پارٹی کے ساتھ ہے، مینڈیٹ تقسیم نہ ہونے کادعوی کرنے والے دیکھ لیں کہ عوام کس کے ساتھ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پہلا جلسہ کراچی کے باغ جناح میں ہوگا، مصطفیٰ کمال
پارٹی کے قیام کے بعد پہلے بڑے جلسے سے خطاب میں مصطفیٰ کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی سیاست کودفن کرنے کیلئے میدان میں اترے ہیں۔
سابق سٹی ناظم نےکہا کہ 30 روزمیں مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو پھر جلسہ نہیں لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے دعویٰ کیا کہ 'را' پاک فوج کو کراچی کے شہریوں سے لڑانے کامنصوبہ رکھتی ہے۔
انہوں نے کراچی شہرمیں کیڈٹ کالج کے قیام کامطالبہ بھی کیا اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کردیا کہ کے الیکٹرک شہریوں کی جیبوں سے نکالے گئے 62 ارب روپے واپس کرے اورتوانائی کے منصوبوں سے 20 فیصد بجلی شہرکیلئے مختص کی جائے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 'پی ایس پی کا کارنامہ ہے کہ اس نے کراچی کے لوگوں کے دل آپس میں ملا دیئے، پاکستان میں 'را؛ کے اینجٹس نے شہر قائد کے باسیوں کوآپس میں لڑایا،جیل میں بند کارکن برے نہیں ،انہیں کسی نے گمراہ کردیا تھا'۔
یہ بھی پڑھیں: 'ہم محب وطن لوگ تھے، 'را' کے ایجنٹ ہوگئے'
انہوں نے یہ بھی کہا کہ 'کراچی والے اب اب شعور اور پاکستان کے ساتھ ہیں، اہلیان کراچی نے کئی دہائیوں سے کھڑے بت کوتوڑ دیا ہے'۔
خیال رہے کہ کراچی کے سابق میئر اور ایم کیو ایم کے سابق رہنما مصطفیٰ کمال نے 3 مارچ 2016 کو ایم کیو ایم کے منحرف رہنما انیس قائم خانی کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم قائد پر سنگین نوعیت کے الزامات لگائے تھے۔
اس موقع پر انھوں نے علیحدہ پارٹی بنانے کا اعلان کرتے ہوئے جلد نئی پارٹی کا منشور پیش کرنے اور کراچی سمیت سندھ بھر میں جلسے کرنے کا اعلان بھی کیا تھا۔
بعد ازاں ایم کیو ایم کے مختلف اہم اور سینئر رہنماؤں نے مصطفیٰ کمال کی 'پاک سرزمین پارٹی' میں شمولیت کا اعلان کیا تھا جس کے بعد ایم کیو ایم کی جانب سے مصطفیٰ کمال کو تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا۔












لائیو ٹی وی