رومی اور انسانیت

انسان ازل سے انسانی زندگی کے معنی تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے- ہر انسان اپنی زندگی کے ساتھ کوئی نہ کوئی معنی جوڑنے کی کوشش کرتا رہتا /رہتی ہے- بہرحال ماضی میں، کچھ افراد ایسے گزرے ہیں جنہوں نے انسانیت کے بہت ہی مؤثر تصورات پیش کیے اور اپنے خیالات کا اظہار اپنی تخلیقانہ صلاحیتوں کے ذریعہ کر کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا-
ممتاز صوفی اور فارسی زبان کے شاعر مولانا جلال الدین رومی (1207 - 1273) بھی ایسی ہی شخصیت رہے ہیں جنہوں نے نہ صرف انسانی زندگی کو متاثر کن معنی دیے بلکہ اپنے خیالات کا اظہار شاعری کے ذریعہ کر کے صدیوں سے انگنت لوگوں کو بھی فیضیاب کرتے رہے ہیں-
رومی، جن کی پیدائش بلخ (افغانستان ) میں ہوئی- بعد میں انہوں نے کونیہ (ترکی) میں سکونت اختیار کر لی- اپنے شاعرانہ خیالات اور طرز سخن کے لئے بے انتہا پسند کیے جاتے رہے ہیں- انکی شاعری کو بڑے پیمانے پر فقط مسلم معاشرے ہی میں نہیں، بلکہ دوسری ثقافتوں میں بھی پسند کیا گیا- جیسے 2007 میں، یو ایس میں انہیں سب سے مشہور شعرا میں سے ایک قرار دیا گیا-
حالاں کہ رومی کا پورا ہی کلام قابل تعریف ہے- لیکن شاید انکی مثنوی نے سب سے زیادہ توجہ حاصل کی- اس میں موجود انکا متاثر کن تمثیلی اور استعاری اسلوب، وقت اور اپنے سیاق و سباق کے حوالے سے آج بھی زندہ ہے- کئی صدیاں گزر جانے کے باوجود ان کے شاعرانہ پیغام کو اب بھی بر محل سمجھا جاتا ہے-
ابراہیمی عقائد کی روحانی روایتوں کو بنیاد بنا کر، خاص طور پر اسلام پر توجہ مرکوز کرتے ہوے، رومی نے انسانی زندگی کے عالمی تصورات قائم کیے-
رومی نے اپنی مثنوی کا آغاز، انسانی روح کی علامت کے طور پر ایک بانسری کی کہانی سے کیا- رومی کے مطابق، انسانی روح اس دنیا میں آنے سے پہلے روح ربّانی کا حصّہ تھی- روح ربّانی سے علیحدگی کی وجہ سے، انسانی روح بے چینی محسوس کرتی ہے اور اپنے مخرج سے دوبارہ ملنے کے لئے بے قرار رہتی ہے-
رومی اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اپنے مخرج سے دوبارہ ملنے کے لئے، انسانی روح کو خدا اور اس کے بندوں سے مضبوط رشتہ قائم کرنے کی ضرورت ہے- خالق سے محبت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے اسکی تخلیق سے محبّت کرنا سیکھیں- یعنی انسانوں اور نوع انسانی سے محبّت کیے بغیر، کسی کو فیض الہی حاصل نہیں ہو سکتا- مختصر یہ کہ، رومی کے مطابق، انسانی نجات کے لئے، خدا اور اسکی مخلوق سے محبّت لازمی ہے-
رومی کا کہنا ہے کہ تمام انسانوں کا مخرج ایک ہی ہے لیکن اس مادی دنیا میں وہ سب الگ الگ نظر آتے ہیں- وہ یہ کہتے ہیں کہ انسانوں کے درمیان یہ تمام جھگڑے اور قطبیت کی وجہ، زندگی کے مادی پہلوؤں پر توجہ مرکوز رکھنے کی وجہ سے ہیں-
وہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر انسان تنازعوں سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور معاشرے میں ہم آہنگی لانا چاہتے ہیں تو انہیں مادی تفریق کو تسلیم کرنا ہوگا- انسانیت کی مشترکیت کو ڈھونڈنے کے لئے. اپنی روح کی گہرائیوں میں جھانکنے کی ضرورت ہے، جو تمام نوع انسانی کو ایک بندھن میں باندھتی ہے-
رومی نے بڑی دلچسپ مثالیں دے کر سمجھایا ہے کہ کس طرح سیاق و سبق جیسے زبان و ثقافت وغیرہ میں فرق، عام سی سادہ باتیں سمجھنے میں مشکلات پیدا کرتے ہیں- جو لوگوں کے درمیان جھگڑوں کا باعث بنتے ہیں-
مثال کے طور پر اپنی ایک حکایت میں وہ ذکر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ چار مسافر ایک فارسی، ایک ترکی، ایک عربی اور ایک یونانی سفر کر رہے تھے- انہیں سخت بھوک لگی- جب انہیں پتا چلا کہ ان کے پاس صرف ایک ہی سکّہ ہے تو ان کے درمیان بحث چھڑ گئی کہ اسے کیسے خرچ کیا جاۓ- ہر کوئی انگور خریدنا چاہتا تھا لیکن ہر کوئی اپنی زبان میں اس پھل کا نام لیتا رہا، جس سے اختلاف پیدا ہوا-
ایک ماہر لسانیات وہاں سے گزر رہا تھا اور اس نے انکی بحث سنی- وہ انکا مسلۂ سمجھ گیا اور اس نے ان آدمیوں سے کہا کہ اسے یہ سکّہ دے دیں، تا کہ وہ ان سب کی خواہشات پوری کر سکے- سکّہ لے کر وہ زبان دان قریبی پھل کی دکان پر گیا- وہاں سے انگور کے چار گچھے خریدے اور ہر ایک آدمی کو ایک ایک گچھا دے دیا-
اور پھر ان چاروں کو اس بات کا احساس ہوا کہ وہ سب ایک ہی چیز کے لئے بحث کر رہے تھے- لیکن زبان کے فرق کی وجہ سے اپنی بات کا اظہار صحیح طور سے نہ کر پاۓ-
رومی اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کے لئے کشادگی اور انکساری ہونی چاہیے- وہ عالمانہ خودپسندی کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جو جمود کی طرف لے جاتا ہے- اس کے بجاۓ یہ عظیم بزرگ، اپنے پیروکاروں کو لوگوں کے درمیان مشترکیت تلاش کرنے کی تعلیم دیتے ہیں-
رومی کے مطابق ایسے منفی خیالات، جو کہ نفرت، لالچ اور تشدد وغیرہ کی طرف لے جاتے ہیں اور اپنے اصل تک پنہنچنے کی انسانی صلاحیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں- چناچہ، منفی خیالات کو، جنہیں انسانی قلب کی تاریکی بھی سمجھا جاتا ہے، مٹا دینے کی ضرورت ہے تا کہ انسانی زندگی کے اصل معنی کو سمجھا جا سکے-
آج کل، بہت سے مسلم معاشرے مثلاً پاکستان کو فرقہ واریت اور تشدد کے نام پر ایسے ہی کڑے چلینجوں کا سامنا ہے- کبھی کبھی یہ جھگڑے، مذہب کی الگ الگ ترجمانی کا نتیجہ ہوتے ہیں- یہ دیکھا گیا ہے کہ اکثر اوقات مخالف نظریات کو کم ہی قبول اور برداشت کیا جاتا ہے- چناچہ معاشرہ تشدد اور جھگڑوں کی گرفت میں آجاتا ہے- ایسی صورتحال میں اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ایسے ادب کو روشنی میں لایا جاۓ جو معاشرے میں امن و آشتی کو فروغ دے- اس حوالے سے رومی کی شاعری، تشدد اور فرقہ واریت جیسے چلینجوں کے جواب میں برمحل اور پر اثر ثابت ہو سکتی ہے-
رومی کے خیالات مختلف وجوہات کی بنا پر اھم ہیں- اول تو وہ محبّت کی بنیاد پر انسانی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں- دوسرے یہ قلبی اور بین المذہبی عقائد کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں- تیسرے یہ اس خیال کے تحت کہ تمام انسانوں کا مخرج ایک ہی ہے، یعنی خدا، لہٰذا انسانیت کو عزت و وقار کا احساس دلاتے ہیں- مزید یہ کہ ان کے خیالات، انسانی مساوات کے تصور کو تقویت بخشتے ہیں- ہمارے معاشرے میں، رومی کے خیالات کے فروغ کے لئے کئی سطحوں پر شعوری جدوجہد کی ضرورت ہے- مثال کے طور پر میڈیا کو، ایک پراثر معاشرتی ادارے کی حیثیت سے، ایسے پروگرام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو ممتاز عالموں کی ایسی مختلف تحریروں کو سامنے لاۓ جو امن و آشتی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں-
دوسرے، اسکولوں کے نصاب میں، خاص طور سے مدرسوں میں، ایسے مختلف مواد شامل کرنے کی ضرورت ہے، جو دوسروں کے نظریات کے حوالے سے تحمل اور رواداری کو فروغ دیں-
مختصراً یہ کہ رومی کا کلام، انسان اور انسانیت کی قدروقیمت کے حوالے سے متاثر کن تصورات پیش کرتا ہے- ان کے خیالات کو ہمارے معاشرے میں امن و آشتی پیدا کرنے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے- چناچہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ایسے ادب کو فروغ دیا جاۓ جو کہ معاشروں اور لوگوں کے درمیان ہم آہنگی اور وابستگی کی وکالت کرتا ہے-
ترجمہ: ناہید اسرار











لائیو ٹی وی