خواتین کا عالمی دن: بلوچستان کی لڑکیاں تعلیم میں پیچھے کیوں؟

رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44 فیصد حصہ بلوچستان پر مشتمل ہے،مگر ملکی آبادی کا محض 5 فیصد حصہ یہاں آباد ہے۔
اپ ڈیٹ مارچ 15, 2018 05:06pm

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ سے تقریباً 7 ہزار قبلِ مسیح کی آبادی اور ثقافت کے نشانات ملے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سکندرِ اعظم سے پہلے اس خطے پر ایرانیوں کا راج تھا اور اس دور میں اس کا نام 'ماکا' تھا، 325 قبل مسیح میں سکندرِ اعظم بابل پر لشکر کشی کرتے ہوئے بلوچستان کے ساحلی علاقے مکران سے گزرے، جہاں اس وقت ہندوستان کے دراوڑ اور براہوی قبائل آباد تھے۔

کہا جاتا ہے کہ 15 ویں اور 16 ویں صدی کا زمانہ بلوچوں کے عروج کا دور تھا، اس دوران یہاں آباد رند اور لاشاری قبائل کے درمیان خون ریز جھڑپیں ہوتی رہیں، اگرچہ بلوچوں کی اب تک کوئی باقاعدہ مرتب شدہ تاریخ موجود نہیں، مگر سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والی لوک داستانوں اور گیتوں کے ذریعے جو روایات ہم تک پہنچی ان میں بلوچ سردار'میر چاکر خان' کو کنگ آرتھر کی طرح مطلق العنان حکمران کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو پورے خطے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔

چاکر خان کے سب سے بڑے بیٹے 'میر شہداد خان' سے بلوچستان کی ایک مشہور لوک داستان بھی منسوب ہے، جس کے مطابق شہداد خان کی محبوب بیوی 'مہ ناز' پر خاندانی ذرائع سے تہمت لگائی گئی اور جرگے میں اپنی پاک دامنی ثابت کرنے کے لیے اسے آگ کے الاؤ پر سے گزرنا پڑا، اور یہیں سے بلوچستان میں خواتین کو غیرت کے نام پر قتل، ستی اور آگ پر سے گزارنے کی فرسودہ رسومات شروع ہوئیں، جو 21 ویں صدی میں بھی رائج ہیں، اور صوبائی دارالحکومت سمیت وہ علاقے جہاں علم و آگاہی کے چند در کُھل گئے ہیں وہاں اب بھی حوا کی بیٹی کو اپنے جائزحقوق کے لیے بے پناہ پابندیوں او رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

کوئٹہ کی پیدائش اور یہیں پلنے بڑھنے کے باعث یہ علاقے میرے لیے کبھی اجنبی نہیں رہے، فیملی کے ساتھ سیر و تفریح پر اکثر کوئٹہ سے باہر آنا جانا ہوتا رہتا ہے، مگر جنوری کی اس سرد سی صبح میں عموماً رواں رہنے والی سڑکیں سنسان پڑی تھیں، کوئٹہ، پشین، ژوب اور اطراف کے علاقوں میں دسمبر سے فروری شدید ٹھنڈ اور تعلیمی اداروں میں موسم سرماں کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے زیادہ تر لوگ گرم علاقوں میں رہائش پذیر اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے جاتے ہیں، گورنمنٹ گرلز کالج پشین کا وسیع لان خزاں زدہ پتوں سے ڈھکا ہوا تھا، تعلیمی سیشن میں ہر وقت آباد رہنے والی کلاسز میں اس وقت گہری خاموشی کا عالم تھا۔

پرنسپل آفس میں داخل ہوتے ہی میری نظر بڑی بڑی روشن آنکھوں والی ’در بی بی‘ پر پڑی، جس سے ملاقات کے لیے میں نے ڈیڑھ ماہ کا طویل انتظار کیا تھا، اس باہمت لڑکی سے میری محض 20 منٹ کی ملاقات ہوسکی کیونکہ وہ گھر والوں سے کسی دوست کے گھر جانے کا بہانہ کر کے آئی تھی، اسے پرنسپل سے کتابیں اور نوٹس لینے تھے، کیونکہ اسے اپریل میں ہونے والے فرسٹ ایئر کے امتحانات کی تیاری کرنی تھی، اس لڑکی کے تعلیمی اخراجات بھی کالج کی پرنسپل ہی ادا کرتی ہیں۔

’در بی بی‘ سے جو معلومات حاصل ہوئیں، ان کا لب لباب یہ ہے کہ میٹرک میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے کے باوجود بھی وہ مزید تعلیم جاری رکھنے سے قاصر تھیں، کیونکہ کالج رہائشی علاقے سے بہت دور تھا، جہاں پہنچنے کے لیے اسے روزانہ 2 بسیں بدلنی پڑتیں، مگر اس کے والدین اور بزرگوں کو یہ گوارا نہیں تھا کہ ان کی لڑکی سڑکوں پر کھڑی بسوں کا انتظار کرے۔

—فائل فوٹو: فلکر
—فائل فوٹو: فلکر

یوں ایک ذہین اور لائق بچی پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے گئے، جس کے بعد اس نے پرنسپل سے خط و کتابت کے ذریعے رابطہ کیا، اور اب ان کے تعاون سے کلاسز لیے بغیر اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، امتحانات کے حوالے سے وہ مجھے کافی پریشان دکھائی دیں، کیونکہ بقول در بی بی، اسے 3 گھنٹے کی اجازت گھر سے ملنا مشکل ہے، مگر گورنمنٹ کالج کی پرنسپل پُرامید تھیں کہ وہ مل کر کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گی۔

’ثمینہ‘ کوئٹہ کے مضافاتی علاقے نواں کلی کی رہائشی ہے، 6 سے 7 برس پہلے تک اس علاقے کی آبادی نہ ہونے کے برابر تھی، مگر اندرونِ شہر زمین کی قیمتیں آسمان تک پہنچنے کے بعد ہزاروں افراد نے نواں کلی کی رہائشی اسکیم میں بکنگ کرائی، اور یوں آہستہ آہستہ یہ علاقہ آباد ہونے لگا اور اب یہاں بڑی مارکیٹس اور بازار بھی وجود پاچکے ہیں، مگر معیاری اسکول و کالجز کے فُقدان کے باعث یہاں کے رہائشیوں کو کوئٹہ کے تعلیمی اداروں کا رخ ہی کرنا پڑتا ہے، یہ صورتحال ان لوگوں کے لیے زیادہ مشکلات کا باعث ہے جن کے پاس ذاتی ذرائع آمد و رفت کے وسائل نہیں ہیں۔

میٹرک میں ریاضی اور فزکس جیسے مضامین میں 90 فیصد نمبر لینے والی ثمینہ نے جب گرلز کالج کوئٹہ کینٹ میں انٹرمیڈیٹ میں داخلہ لیا تو چند ہی ماہ میں حساب میں اس کی غیر معمولی صلاحیتوں کو دیکھ کر اساتذہ بھی ششدر تھے، اگرچہ ثمینہ نواں کلی سے کوئٹہ کینٹ تک روز لوکل بسوں پر 2 گھنٹے کا سفر کرکے اسکول پہنچتی تھی، مگر اعلیٰ تعلیم کے لیے اس کے عزائم بہت بلند تھے، اسی دوران 2013ء میں ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کے بعد، انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی بسوں اور لوکل بسوں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا تو ثمینہ کو والدین نے گھر بٹھا لیا۔

وہ لڑکی جو مستقبل میں میتھا میٹکس اولمپیڈ میں شرکت اور ایرانی حساب دان مریم میرزا خانی کی پیروی کرنے لیے پوری طرح مستعد تھی اس کے خوابوں پر اس وقت مزید اوس پڑی، جب چند ہی ماہ کے اندر اس کا نکاح مڈل پاس کزن سے کرکے سسرال روانہ کردیا گیا، آج ثمینہ 2 بیٹیوں کی ماں ہے، اگرچہ شادی کے بعد گھر اور بچوں کی پرورش میں اُلجھ جانے کے باعث اس کے خواب ادھورے رہ گئے، مگر وہ اپنے خوابوں کو اپنی دونوں بیٹیوں میں منتقل کرچکی ہے، اس کی بچیاں ابھی بہت چھوٹی ہیں، مگر ثمینہ پرامید ہے کہ وہ انہیں اعلیٰ تعلیم ضرور دلوائے گی۔

یہ صرف ایک ثمینہ یا در بی بی کے والدین کی فرسودہ سوچ نہیں ہے، بلوچستان میں آباد دیگر کٹر سوچ رکھنے والے خاندانوں کی اکثریتی سوچ بھی یہی ہے کہ لڑکی اگر زیادہ پڑھ لکھ جائے تو اس کی شادی میں مشکل پیش آتی ہے۔

—فائل فوٹو: فلکر
—فائل فوٹو: فلکر

والدین سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان کی حیثیت سے اُن کی اولین ذمہ داری یہ ہے کہ جتنی جلدی ممکن ہوسکے بیٹی کی شادی کردی جائے، اس معاملے میں نہ تو ان کی رضامندی ضروری سمجھی جاتی ہے اور نہ ہی ان کی صلاحیتوں کو مدِ نظر رکھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بلوچستان کی خواتین اب تک صوبائی و ملکی ترقی میں کوئی قابل ذکر کردار ادا کرنے سے قاصر رہی ہیں۔

’شفیق خان مینگل‘ کا تعلق ژوب کے پسماندہ علاقے زاروزئی سے ہے، تقریباً 30 سال قبل وہ روزگار کی تلاش میں کوئٹہ منتقل ہوئے اور آج اپنے ذاتی تعمیراتی کمپنی چلاتے ہیں، بلوچستان کی قدیم خاندانی روایات کے برعکس اُنہوں نے بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی یکساں آزادی اور وسائل فراہم کیے، ذاتی جان پہچان ہونے کی وجہ سے ان کی اہلیہ بچیوں کے تعلیمی مسائل کا اکثر مجھ سے کیا کرتی ہیں۔

ان کی خواہش تھی کہ بیٹیاں سائنسی مضامین میں کم از کم گریجوئیشن کرلیں، تو اُن کے لیے مناسب رشتے تلاش کیے جائیں، مگر دونوں بڑی بیٹیوں کا رجحان ناولز، ڈراموں اور فیشن کی جانب زیادہ تھا، یوں تمام تر سپورٹ اور وسائل کے باوجود یہ بچیاں صرف بی اے کر پائیں۔ یہ ایک خاندان کی کہانی نہیں ہے۔

اگرچہ 2003ء میں صوبے کی واحد 'سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی ' کے قیام اور پچھلے برس سبی، مستونگ اور دیگر علاقوں میں اس کے سب کیمپس کے قیام کے بعد والدین کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے اور دور دراز کے علاقوں سے کئی گھرانوں کی بچیاں بڑی تعداد میں یہاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، مگر یہ امر قابل ذکر ہے کہ جہاں اس یونیورسٹی کا مین کیمپس ہی کمتر معیار اور اقربا پروری کا شکار ہے، وہاں سب-کیمپس سے مقامی ٹیلنٹ کے ابھر کر نکلنے کی امید 'چہ معنی دارد'۔

اس سلسلے میں جب ویمن یونیورسٹی کوئٹہ کے شعبہ میتھامیٹکس کی طالبات سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ یہاں زیادہ تر اساتذہ ناتجربہ کار اور نااہل ہیں، حساب جیسا مضمون بھی انتہائی بھونڈے انداز میں پڑھایا جارہا ہے اور اکثر اوقات تھیوری سمجھ نہ آنے کے باعث ہمیں یو ٹیوب کی مدد سے اپنی اسائنمنٹ مکمل کرنی پڑتی ہیں، جبکہ دیگر سائنس شعبہ ہائے جات کا بھی کم و بیش یہی حال ہے، اسی وجہ سے اپنے قیام کے 15 سال بعد بھی یہ یونیورسٹی ہائی ایجوکیشن کمیشن کی نیشنل یونیورسٹیز رینکنگ میں 34 اسکور کے ساتھ 61 ویں نمبر پر ہے۔

—فوٹو: سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی فیس بک
—فوٹو: سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی فیس بک

لامحالہ اس کمتر تعلیمی معیار کی ذمہ دار حکومت بلوچستان اور صوبائی محکمہء تعلیم ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ میرٹ پر محنتی اور قابل اساتذہ بھرتی کیے جاتے، جو ڈری سہمی اور آزادی کو ترستی ہوئی لڑکیوں میں علم کا شوق اورخود اعتمادی پیدا کرتے تاکہ مقامی ٹیلنٹ کو ملکی اور بین الااقوامی سطح پر نمائندگی کا موقع ملتا، مگر انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے تعلیمی ادارے علم کا شوق بڑھانے کے بجائے 'علم دشمن' جذبات و خیالات کو جنم دے رہے ہیں۔

ویمن یونیورسٹی ہو یا مرکزی بلوچستان یونیورسٹی، گھر کی سختیوں سے گھبرائی ہوئی لڑکیاں یہاں غیرمعیاری تعلیمی نظام اور ناقص سلیبس کے باعث کلاسز سے فرار اور نقل پر انحصار میں زیادہ دلچسپی لینے لگتی ہیں، جس وجہ سے تعلیم کا اصل مقصد ختم ہوجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ انجینئرنگ و میڈیکل جیسی اعلی ڈگریاں بھی آج کی نسل میں اچھائی و برائی، نیک و بد اور معاشرتی اصلاح کا شعور اجا گر کرنے سے قاصر ہیں، اور ہمارے تعلیمی اداروں سے وہ ڈگری ہولڈرز نکل رہے ہیں جن میں ملک و قوم کے لیے کچھ غیر معمولی کر دکھانے کا جذبہ ہی نہیں ہے۔

اگرچہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 44 فیصد حصہ بلوچستان پر مشتمل ہے، مگر ملکی آبادی کا محض 5 فیصد حصہ یہاں آباد ہے، جن میں 80 فیصد آبادی دیہاتوں میں رہائش پزیر ہے، تیل، گیس اور دیگر قیمتی معدنیات سے مالا مال ہونے کے باوجود یہ صوبہ بنیادی تعمیری ڈھانچے اور انسانی ترقی کے اعتبار سے کافی پیچھے ہے،حکومتی عدم توجہی، نوابی و سرداری نظام، عالمی سازشوں اور ان کے باعث برسوں سے جاری شورش کے علاوہ اس صوبے کی ترقی میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ تعلیمی پسماندگی ہے۔

نئی مردم شماری سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق پورے ملک میں خواندگی کی شرح 52 سے 60 فیصد ہے، جبکہ بلوچستان میں یہ کم ہوکر محض 27 فیصد رہ جاتی ہے، جو دیہات میں 2 سے 5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان علاقوں میں عورتوں کی خواندگی سے مراد صرف یہ ہے کہ وہ عمومی سا لکھنا پڑھنا جانتی ہوں اور گھریلو امور و بچوں کی پرورش کے فرائض احسن طریقے سے ادا کر سکیں، ان علاقوں میں خواندگی کی شرح نہ بڑھنے کی ایک بڑی وجہ اسکول و کالجز کا فقدان تھا۔

سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی طالبات کانووکیشن کے موقع پر—فوٹو: بشکریہ دی نیشن
سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی کی طالبات کانووکیشن کے موقع پر—فوٹو: بشکریہ دی نیشن

اگرچہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومتِ بلوچستان نے گزشتہ ڈیڑھ دہائی میں خصوصی توجہ دی اور اس وقت صوبے بھر میں 3440 مڈل و ہائی اسکولز اور تقریبا 30 کے قریب انٹر گرلز کالجز علم کی روشنی پھیلارہے ہیں،مگر حکومتی اور این جی اوز کی متعدد کوششوں کے باوجود یہاں آباد کٹر روایات کے پاسدار خاندان اپنی بچیوں کو اسکول بھیجنا پسند نہیں کرتے اور صنفی تعصب کے باعث بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔

پاکستان سوشل اینڈ لیوینگ پلیٹ فارم کے 2012-2011 کے ایک سروے کے مطابق ان علاقوں میں پرائمری و مڈل کے بعد لڑکے اور لڑکیوں کے تعلیم جاری رکھنے کے اعداد و شمار میں نمایاں فرق ہے، اور عموماً مڈل یا میٹرک کے بعد لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اس مسئلے کا حل ’کمیونٹی سپورٹ پروگرام ' کے تحت موبائل اساتذہ کی صورت میں نکالا گیا اور ٹیچرز کو گھر گھر جا کر لڑکیوں و خواتین کو تعلیم دینے کی تربیت دی گئی، جس کے خاطر خواہ نتائج حاصل ہوئے اوران علاقوں میں گزشتہ 15 سے 20 برسوں میں خواندگی کی شرح میں 38 فیصد کا نمایاں اضافہ نوٹ کیا گیا۔

مگر ناکافی سہولیات، ذرائع آمد و رفت کی کمی اور سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے اب خواتین اساتذہ ان علاقوں میں جانے سے کترا رہی ہیں، لامحالہ جب تک ان علاقوں کے مردوں میں یہ شعور بیدار نہیں ہوگا کہ عورت کی تعلیم اور اس مقصد کے لیے گھر سے نکلنا باعث شرم یا قابل ندامت نہیں، بلکہ خاندان کی اجتماعی فلاح کا ضامن ہے، اس وقت تک پھر چاہے موبائل اساتذہ ہوں یا نئے اسکول و کالجز کا قیام، کوئی بھی منصوبہ خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکے گا۔

اگرچہ آئین میں 18 ویں ترمیم کے ذریعے صوبائی حکومت کو تمام تر تعلیمی اختیارات دیے گئے ہیں، جن میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب کی تیاری بھی شامل ہے، مگر اس مقصد کے لیے تمام صوبوں کو دیگر صوبوں سے قابل پروفیسرز و اساتذہ کی مدد لے کر پرائمری سے ہی ایسا نصاب تشکیل دیا جانا چاہیے جو بچوں میں تعلیم کا شغف پیدا کرکے انہیں کتاب دوست بنائے، آئین کے آرٹیکل 25 اے کے تحت صوبے بھر میں 5 سے 16سال کی عمر کے بچوں کے لیے تعلیم مفت کردی گئی ہے، جس سے یہاں شرح خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، مگر فی الوقت مقدار سے زیادہ معیار پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، کیونکہ ہماری کئی نسلیں تعلیمی نظام کی انہی خرابیوں کی بھینٹ چڑھ چکی ہیں، مگر اگلی نسلوں کے مستقبل کا تحفظ ابھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔


شناخت کے تحفظ کے لیے افراد کے نام اور مقامات تبدیل کر دیے گئے ہیں۔


صادقہ خان بلوچستان سے تعلق رکھتی ہیں اور اپلائیڈ فزکس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ سائنس اور سائنس فکشن ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔