Dawn News Television

شائع 19 اپريل 2014 09:00pm

سچ، گولی اور بے بس جرنلسٹ

اب تو مذمتی الفاظ منہ سے نکالتے یا لکھتے ہوئے مصنوعی سا لگتا ہے -- ابھی صحافی برادری رضا رومی پر حملے کے صدمے سے نہیں نکلی تھی کہ ہفتے کی شام نامور صحافی حامد میر پر حملے کی خبر نے صحافی کمیونٹی ہی کو نہیں بلکہ پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا -- وہ کراچی ائیرپورٹ سے جیو آفس جا رہے تھے کہ قمیض شلوار میں ملبوس ایک آدمی نے ان پر شاہراہ فیصل کے موڑ پر گولیاں برسا دیں -- آخری خبریں پہنچنے تک ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ان کا آپریشن جاری تھا، ان کے جسم پر تین گولیاں لگیں ہیں -- حامد میر کے بھائی عامر میر کے مطابق حامد اس بات کو پہلے سے محسوس کر چکے تھے کہ ان پر حملہ ہو گا، جس کی وجہ سے انہوں نے ذمّہ داروں کا ذکر کر دیا تھا اور ان کے نزدیک ان پر حملہ کے ذمہ دار ملک کی سرکردہ انویسٹگیٹنگ ایجنسی کے کچھ لوگ اور اس کے سربراہ ہونگے-

میر صاحب کے کراچی آنے کا مقصد بلوچ لا پتا افراد کے بارے میں پروگرام کرنا اور کچھ دیگر مصروفیات بتائی جا رہی ہیں، اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ ایسا نہیں چاہتے تھے وہی حامد میر کو نشانہ بنا سکتے تھے، اس کے ساتھ ساتھ ان کا جمہوریت کے حق میں بات کرنا اور غیر جمہوری قوّتوں کی کھل مخالفت بھی کوئی ڈھکی چھپی شے نہیں، وہ پچھلے کئی مہینوں سے جنرل پرویز مشرّف کے کیس میں بھی واضح طور پر اپنا نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اس معاملے میں بھی غیر جمہوری سوچ کی محالفت کرتے رہے ہیں -- یہ بات بھی عیاں ہے کے حامد میر دہشت گردوں کی بھی تنقید کھل کر کرتے ہیں-

حامد میر پر حملہ ایک بار پھر صحافی برادری کی بے بسی کی طرف اشارہ کرتا ہے -- صحافی کا کام سچ لکھنا اور سچ کی بات کرنا ہے ، صحافی کے کام میں مخل ہونا سچائی میں مخل ہونے کے مترادف ہے. بقول شاعر سچ گھٹے یا بڑھے تو سچ نہ رہے / اور جھوٹ کی کوئی انتہا ہی نہیں-

یہ بات اب طےہو چکی ہے کہ پاکستان صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ملک بن چکا ہے، صحافی کے پاس نہ کوئی اسلحہ ہوتا ہے اور نہ کوئی ذاتی لشکر جو اسے ہر دیدہ اور نادیدہ خطرے سے بچانے کے لیے سینہ سپر ہو- اگر صحافیوں کی آوازوں کو گولیوں سے ہی بند کروانا ہے تو پھر ملک سے آزادی اظہار اور فری ایکسپریشن کی باتیں ختم کر کے صرف اینٹرتیمنٹ چینلز اور شو بز کو ہی صحافت کا درجہ دے کر یہ ڈرامہ ختم ہی کر دینا چاہیے-

Read Comments