اپ ڈیٹ ستمبر 15, 2016 08:25pm

گوردھن داس کا حُقّہ پانی بند کیوں ہوا؟

اختر بلوچ

گوردھن داس کے حُقہ پانی بند ہونے سے مُراد اُن کا سماجی بائیکاٹ ہے۔ گوردھن کا تعلق ہندوؤں کی کھتری برادری سے ہے۔ اُن کے بائیکاٹ کا فیصلہ نا صرف اُن کی اپنی برادری نے کیا ہے بلکہ میرپور خاص کی ہندو پنچایت نے بھی کر دیا ہے۔

اس بائیکاٹ کے سبب وہ اور ان کے اہلِ خانہ ہندو برادری کی مذہبی رسُومات، شادی و غمی کی تقریبات میں شامل نہیں ہوسکیں گے اور ان کے قریبی رشتے دار بھی اُن سے میل جول بند کر دیں گے۔ سادہ سی بات ہے کہ انہیں اپنی ساری زندگی سماجی تنہائی میں بسر کرنی پڑے گی۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آخر گوردھن داس کا قصور کیا ہے؟ اس سے قبل کہ ہم آپ کو ان کا قصور بتائیں، آئیے مشہور کمیونسٹ رہنما سجاد ظہیر کی بیٹی نور ظہیر کی کتاب ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ کا کچھ حصہ آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔

بائیں بازو کی سیاست سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو سجاد ظہیر کے بارے میں مکمل آگاہی ہوگی۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی ہدایت پر پاکستان کمیونسٹ تحریک کو مضبوط کرنے آئے تھے لیکن پاکستان میں دس سال جیلوں میں گذارنے کے بعد دوبارہ انڈیا منتقل ہوگئے۔ اُن کی بیٹی نور ظہیر اپنی کتاب ’’میرے حصے کی روشنائی‘‘ میں لکھتی ہیں کہ:

"مجھے گلابی جاڑے کی وہ صبح ابھی تک یاد ہے جب دودھ والے کی دستک سمجھ کر کھولے گئے دروازے سے فریدہ امی کے اوپر ڈھے پڑی تھی۔ امی نے چیخ مار کر اسے سنبھالا اور اندر لا کر بٹھایا۔ وہ چار گھنٹے اندھیری رات میں پیدل چل کر دہلی یونیورسٹی سے حوض خاص آئی تھی۔

"فریدہ ایک اچھے مسلمان گھر کی لڑکی، پڑھنے لکھنے میں ذہین، دیکھنے میں خوبصورت اور دل سے بھی۔ اب دل کی کیا پوچھیے، سب کیا دھرا اسی کمبخت دل کا ہے۔ اس کا دل ایک بنگالی ہندو برہمن کا ہوگیا تھا۔

پڑھیے: محبت کی شادی کا مذہبی فارمولا

"امی کے بار بار اصرار کرنے پر بھی اس نے کچھ نہیں بتایا۔ بس ابا سے ملنے کی ضد کرتی رہی۔ ابا کانپور گئے ہوئے تھے اور اسی دن لوٹنے والے تھے۔ فریدہ ابا سے صرف دو بار ملی تھی۔ جب اُس کے ماں باپ کو اُس کے ارادوں کا پتا چلا، اسے مار پیٹ کر ایک کمرے میں بند کر دیا، تو اُس کے دل میں بس ایک ہی خیال تھا کہ کسی طرح اگر سجاد ظہیر تک پہنچ جائے۔ امی نے اس سے بار بار پوچھا ’’تم چاہتی کیا ہو؟ کیا کریں سجاد ظہیر؟‘‘

’’معلوم نہیں، مگر وہ ضرور میری مشکل کا حل نکال پائیں گے۔‘‘

"ابا کے آنے کے بعد دونوں طرف کے لوگوں کو اطلاع دے کر جمع کیا گیا۔ سب باتیں سننے کے بعد ابا نے بس تین سوال پوچھے۔ ’’لڑکی پڑھی لکھی اور نوکری پیشہ ہے؟‘‘، ’’کیا وہ لڑکی کا مذہب بدلوانا یا اپنا بدلنا چاہتا ہے؟ یعنی زندگی میں آئی پہلی بڑی کشمکش کا سب سے آسان راستہ تو نہیں چننا چاہتا؟‘‘ اور کیا لڑکی لڑکا فوراً شادی کرنا چاہتے ہیں؟‘‘

"جب تینوں باتوں پر حامی بھری گئی تو ابا نے بڑے اطمینان سے سگریٹ ہونٹوں سے لگا کر کہا کہ ’’میری سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ ہم لوگ اپنا وقت کیوں برباد کر رہے ہیں۔‘‘

"شادی کی تاریخ اسی دن طے ہوگئی۔ فریدہ کے والدین کو منا تو لیا گیا، مگر وہ اس رشتے سے خوش نہیں تھے۔ چلتے چلتے فریدہ کے بڑے ابا نے کہا ’’ظہیر صاحب! دوسروں کی لڑکیوں کے لیے ترقی پسند ہونا آسان ہے۔ اگر کہیں آپ پر آن پڑی تب پوچھیں گے۔‘‘

’’اس واقعے کے کوئی دو برس بعد نسیم (نور ظہیر کی بہن) نے ڈرتے ڈرتے اپنے دل کی بات عام کی۔ ابا کے وہی تین سوال تھے۔ جواب ہاں میں ملا ور 19 فروری 1969 کو نسیم اور وِنود بھاٹیہ کی شادی ہوگئی۔

1992 میں جب انڈیا میں بابری مسجد کے انہدام کی کوشش کی گئی تو پورے پاکستان میں سخت ردِ عمل ظاہر ہوا۔ بابری مسجد کے ردِ عمل میں میرپور خاص شہر میں بھی ہنگامے پھوٹ پڑے اور بہت سے مندر مسمار کر دیے گئے۔ دو مندروں کے انہدام کا میں خود عینی شاہد ہوں، جو کہ غریب آباد روڈ پر واقع تھے۔

میرپور خاص کی معروف ماہر امراضِ زچہ و بچہ، ڈاکٹر موہنی کے ہیر آباد (علاقے کا نام ہیر آباد، ہندوؤں نے رکھا تھا، پاکستان کے قیام کے بعد مسلمانوں نے اس کا نام عزیز آباد کردیا۔ لیکن برسوں گذر جانے کے بعد بھی ہیرآباد عزیز آباد نہ بن سکا) میں واقع گھر پر حملہ کیا گیا اور ان کے مال و اسباب کو بھی لُوٹ لیا گیا۔

اس سے قبل کہ لوٹ مار کا یہ سلسلہ اور آگے بڑھتا، اُس وقت حُروں کے روحانی پیشوا سید شاہِ مردان شاہ دوئم (پیر صاحب پگارا) کے مسلح حُروں نے پیر صاحب کے مرید حاجی غلام رسول جونیجو کی ہدایت پر ہندوؤں کے گھروں کے باہر پہرے داری شروع کر دی۔ حروں کی آمد کے بعد لُوٹ مار کا یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

ہندو مسلم دوستی کے حوالے سے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ماضی میں بھی میرپور خاص ڈویژن کے علاقوں میں مسلمانوں نے ہندوؤں کے حقوق کی نا صرف مکمل پاسداری کی بلکہ اُس کا تحفظ بھی کیا۔

یہاں بسنے والے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان دوستانہ تعلقات صدیوں سے استوار رہے ہیں اور ان تعلقات کے نتیجے میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں باہمی رضامندی سے شادیاں بھی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیے: ہندو بہن اور مسلمان بھائی

اس حوالے سے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سیاسی تجزیہ نگار اور مؤرخ محمد موسیٰ بھٹو اپنی کتاب ’سندھ کے حالات کی سچی تصویر‘ کی اشاعت سوئم، مطبوعہ اپریل 1986 کے صفحہ نمبر 7, 8, 9 اور 10 پر سندھ کے مشہور مصنف اور تاریخ دان مرزا قلیچ بیگ کی کتاب 'قدیم سندھ' کا حوالہ دیتے ہوئے رقم طراز ہیں کہ ’’سندھ کے حکمران غلام شاہ کلہوڑو نے ’کچھ‘ کے حکمران مہاراجہ کی بھتیجی سے شادی کی۔" (حوالہ: قدیم سندھ، صفحہ نمبر 367)۔

اسی طرح سندھ کے نامور محقق رحیم داد بروہی مولائی شیدائی اپنی کتاب ’’تاریخ تمدنِ سندھ‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ’’کلہوڑوں اور میروں نے ہندوؤں کے ہاں سے شادیاں کی اور ان کے عوض ان پر آبیانہ وغیرہ معاف کیا گیا۔‘‘

مؤرخ و مصنف نارائن چند اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ’’کلہوڑوں اور میروں کے دورِ حکومت میں ہندوؤں نے لالچ اور خوف کی بنا پر مسلمانوں کو اپنی لڑکیاں دیں۔ انہوں نے مسلمانوں میں سے اکثر کھوسوں (بلوچوں کی ایک ذات) اور کلہوڑوں کو رشتے دیے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں، مثلاً میر غلام علی خان، میر سہراب خان اور کھوسوں کے سردار داور کو ہندوؤں نے اپنی لڑکیاں دیں۔

"ضلع تھرپارکر میں ’رحمکی‘ بازار ہے۔ وہاں مسلمانوں کی ایک قوم ’راہماں (راہموں) ارباب‘ رہتے ہیں۔ وہ ہمیشہ ہندو عورتوں سے شادیاں کرتے ہیں۔ اسی طرح تحصیل ڈیپلو میں ’ترائی‘ نام سے ایک گوٹھ ہے وہاں ’نہڑی ارباب‘ بستے ہیں۔ وہ بھی ہندوؤں سے رشتے لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ کے کچھ سید اور بھرگڑی خاندان کے افراد نے تھر کی ہندو لڑکیوں سے شادیاں کیں۔" (تاریخ ریگستان از نارائن چند، صفحہ 129۔ طابع، سندھی ادبی بورڈ)۔

ایک اور حوالہ ملاحظہ ہو: ’’مغلوں نے اپنے دورِ حکومت میں تھرپارکر کے ہندو ٹھاکروں کے راج کو ختم کردیا تھا اور ان کو حکومت کے جو حقوق حاصل تھے، وہ ان سے چھین لیے تھے، لیکن مغلوں کے بعد جب میروں کی حکومت آئی تو ہندو ٹھاکروں نے میروں سے راہ و رسم بڑھائے، ان کے سرداروں اور امیروں کو اپنی لڑکیاں دیں۔

"یہ راہ و رسم اس قدر بڑھی کہ اس زمانے میں چاچڑوں کی ٹھاکروں کے ایک مسلح گروہ سے لڑائی ہوئی تو اس لڑائی میں ہندو ٹھاکروں کی مدد کے لیے ٹالہی کے بلوچ سرداروں عالم خان اور سخی خان نے پانچ سو گھڑ سوار افراد بھیجے۔ ہندو ٹھاکروں نے اسی بنا پر مسلمان سرداروں کو اپنی لڑکیاں دیں اور ان کو راؤ تسر اور ہیرار نامی دو قصبے بطور جہیز دیے۔"

ایک اور تاریخ دان نارائن داس اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ: ’’میروں کے دورِ حکومت میں شکارپور میں ہندوؤں کی نو سو تجارتی کوٹھیاں تھیں۔‘‘ (میرانِ سندھ، صفحہ 193)۔

پڑھیے: مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو

اسی طرح نارائن چند اپنی کتاب تاریخِ ریگستان میں مزید لکھتے ہیں کہ "میروں نے نئے کوٹ، مٹھی اور اسلام کوٹ کے حفاظتی قعلے اُن ہندوؤں کے سُپرد کر دیے جو ان کے وفادار تھے۔ ان میں سے ہر ایک قلعے میں بارہ سپاہی تھے۔ ایک ایک قلعے کی عمارت پر آٹھ آٹھ لاکھ روپے کی لاگت آتی تھی۔" (تاریخِ ریگستان، صفحہ 188)۔

اب آئیے ایک بار پھر گوردھن داس کے بارے میں آپ کو بتاتے ہیں۔

گوردھن داس ایک کامیاب ہومیوپیتھک ڈاکٹر ہیں۔ میرپور خاص میں ان کا ہومیوپیتھک کلینک خاصا مشہور ہے جس کے ساتھ ہی ان کا ذاتی ہومیوپیتھک دواؤں کا اسٹور بھی ہے۔ گوردھن داس کے دو بچے، ایک بیٹا اور دوسری بیٹی ہے۔ بیٹے کا نام ’پون‘ جبکہ بیٹی کا نام ’منیشا‘ ہے۔ گوردھن داس کا تعلق جیسا کہ ہم بتا چُکے ہیں کہ ہندوؤں کی ذات کھتری سے ہے۔

ضلع میرپور خاص ماضی میں سندھ کے چار اضلاع پر مشتمل تھا۔ ضلع سانگھڑ کی تحصیل کھپرو کے قصبے ہتھنگو، جو کہ کھپرو سے سات کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، میں ہندو اور مسلمان دونوں آباد ہیں لیکن 98 فیصد آبادی کا تعلق مسلمانوں کی قائم خانی برادری سے ہے۔

مگر ڈاکٹر گوردھن داس کا حقہ پانی (سماجی بائیکاٹ) بند کیوں ہوا؟ اس سلسلے میں روزنامہ سندھ ایکسپریس کے سانگھڑ میں نمائندے محمد علی بلوچ نے اگست 2016 میں اپنے ایک مضمون میں انکشاف کیا ہے کہ: "ڈاکٹر گوردھن داس کھتری نے اپنی 16 سالا بیٹی منیشا کُماری کی ضد کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ انہوں نے اس بات کا بھی کوئی خیال نہیں کیا کہ اُن کی کھتری برادری کے عمائدین اور ہندو پنچایت اُن کے بارے میں کیا سوچیں گے۔ انہوں نے منیشا کی شادی ایک مسلمان نوجوان سے کروا دی۔"

اطلاعات کچھ یوں ہیں کہ منیشا کھتری ہتھنگو کے ایک مسلمان نوجوان بلال یوسف قائم خانی سے محبت کر بیٹھی اور وقت کے ساتھ ساتھ اُن کی محبت اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر منیشا نے اپنے والد ڈاکٹر گوردھن کھتری کو کہہ دیا کہ بلال ہی میرا جیون ساتھی بنے گا، بصورت دیگر وہ موت قبول کرے گی۔

منیشا کے والد نے اپنی بیٹی کی ضد سے مجبور ہو کر سماج و برادری، حتیٰ کہ مذہب کو بھی بالائے طاق رکھ کر ہندو مسلم دوستی کے حوالے سے ایک نئی رسم کا آغاز کیا۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو مسلمان کروا کے قائم خانی برادری کے نوجوان بلال یوسف کے ساتھ اُس کی شادی کروا دی۔

اس بات پر جہاں مسلمان برادری میں خوشیاں منائی گئیں تو وہیں ہندو برادری نے اس واقعے کا 'سخت نوٹس' لیتے ہوئے ڈاکٹر گوردھن داس کو اپنی برادری سے خارج قرار دیا ہے۔

سندھی روزنامہ کاوش کے مطابق ہندو پنچایت نے بیٹی کو مسلمان کروا کر اس کی شادی کروانے والے ڈاکٹر گوردھن کھتری کا سماجی بائیکاٹ کر دیا ہے، جبکہ دلت ہندو پنچایت اور بھیل برادری کی جانب سے بائیکاٹ کی مخالفت کی گئی ہے اور ڈاکٹر گوردھن کی حمایت کی ہے۔

یہ نہایت دلچسپ صورتحال ہے۔ ہم اس حوالے سے اپنے گذشتہ بلاگ میں ذکر کر چکے ہیں کہ کس طرح ہندوؤں کی نچلی ذاتوں میں شادی کے لیے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے کا رجحان عام ہے، اور بسا اوقات ذات پات کی ناہمواری کی وجہ سے شادی ممکن نہ ہو تو مذہب کی تبدیلی کا سہارا لیا جاتا ہے۔

خاندان کے سماجی بائیکاٹ کے اعلان کے بعد منیشا کے والد ڈاکٹر گوردھن داس کھتری نے کاوش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے لیے اگر کوئی جرگہ ہوا ہے تو یہ ناانصافی ہے۔ اُن کے مطابق شادی کے لیے وہ اور دولہا کے رشتے دار رضامند تھے، اس لیے برادری کو اس کو افسوس نہیں ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر گوردھن داس کے مطابق انہوں نے صرف اپنی بیٹی کی شادی کی ہے، دوسروں کی بیٹیوں کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

مقامی مسجد کے امام منیشا کو مسلمان کرنے کے بعد منیشا اور بلال کا نکاح پڑھا رہے ہیں۔

مگر ڈاکٹر گوردھن داس کی برادری ان کا یہ مؤقف ماننے کو تیار نہیں، اور اس بات پر مصر ہے کہ انہوں نے ہندو برادری کی لڑکیوں کو ایک نیا راستہ دکھا دیا ہے۔

چنانچہ کھتری پنچایت کے مُکھی (رہنما) ڈاکٹر جھامن داس کے مطابق برادری کے لوگوں نے انفرادی طور پر سماجی بائیکاٹ کیا ہے، لیکن ابھی برادری کے اہم افراد اس معاملے پر مزید تفصیلی بات کریں گے، جس کے بعد ہی کوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گ، مگر برادری اس فیصلے پر سخت ناراض ہے۔ دوسری جانب ہندو پنچایت میرپور خاص کے صدر اور سابقہ ایم پی اے لچھمن داس پاروانی نے کہا ہے کہ ڈاکٹر گوردھن کو ایسا فیصلہ کرنا تھا تو پہلے پنچایت سے پوچھتے۔ ہم بھی ہندو پنچایت کی جانب سے ان کا سماجی بائیکاٹ کرتے ہیں۔

مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے معاملے میں مسلمانوں کے علاوہ جو گروہ ڈاکٹر گوردھن داس کا ہم آواز ہے، وہ نچلی ذات کے ہندو ہیں، جنہوں نے ان پر لگنے والی سماجی پابندیوں کی سخت مخالفت کی ہے۔

دلت ہندو پنچایت کے رہنما ایڈووکیٹ کانجی رانو نے روزنامہ کاوش سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر گوردھن اور ان کے خاندان کا سماجی بائیکاٹ ناانصافی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی جبری مذہب تبدیل کرواتا تو دوسری بات تھی، پر اگر اس معاملے میں لڑکی اور اس کے اہل خانہ راضی ہیں تو اُس کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔

بہرحال، ڈاکٹر گوردھن داس کے ساتھ جو ہوا، اس سے قطع نظر ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اس کام کے لیے بہت زیادہ ہمت درکار تھی، اور کوئی اثر و رسوخ نہ رکھنے والا ایک عام شخص اتنا دلیرانہ اقدام کر گزرے، یہ بات اتنی آسان نہیں ہے اور سندھ کی بین المذاہب بھائی چارے پر مبنی تاریخ کو مدِ نظر رکھیں، تو بڑھتے ہوئے نفرت انگیز واقعات کے درمیان محبت کی یہ داستان ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے۔

Read Comments