اپ ڈیٹ اکتوبر 20, 2016 11:58am

قائدِ اعظم کی جائے پیدائش: اوریجنل یا چائنا؟

اختر بلوچ

کچھ عرصہ قبل ہمارے ایک دوست نے ایک بچے کی امتحانی کاپی کا ایک صفحہ فیس بُک پر ہم سے شیئر کیا تھا جس نے اوریجنل کی ضد چائنا لکھی تھی۔

میں نے اپنے دوست اور رشتے میں بھتیجے محسن سومرو سے اس بات کا ذکر کیا۔ وہ بہت ہنسے اور مجھے کہا کہ اس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ کو اوریجنل اور چائنا پر کچھ نہ کچھ لکھنا چاہیے۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ محسن بھی گھر چلا گیا اور میں بھی اپنے گھر، لیکن یہ کانٹا میرے ذہن مین چھبتا رہا۔

پھر میں نے خود اندازہ لگایا کہ اوریجنل اور چائنا کیا ہے۔ پاکستان میں آپ کوئی بھی الیکٹرانک چیز خریدیں، خواہ وہ فریج ہو یا کچھ اور، دکاندار آپ سے پہلا سوال یہ کرتا ہے کہ اوریجنل چاہیے یا چائنا؟ اب ہم جناح صاحب کی تاریخ پیدائش اور جائے پیدائش کے حوالے سے ایک کہانی بیان کر رہے ہیں۔ اس کہانی کے آخر میں یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیا اوریجنل ہے اور کیا چائنا۔

قائدِ اعظم محمد علی جناح کی تاریخِ پیدائش اور جائے پیدائش کے حوالے سے مختلف تضادات پائے جاتے ہیں، حتیٰ کہ اس حوالے سے دستاویزی ثبوت بھی موجود ہیں۔ تاریخِ پیدائش کے بارے میں دو مختلف تاریخوں کے حوالے سے معروف دانشور جی الانا نے قائد اعظم کی سوانحِ حیات میں اِس کا ذکر کیا ہے۔

کتابی صورت میں یہ سوانحِ حیات پہلی بار انگریزی میں شائع ہوئی تھی لیکن اس کا اردو ترجمہ رئیس امروہوی نے کیا ہے۔ اردو ترجمے کی کتاب کا نام ہے ’’قائدِ اعظم جناح: ایک قوم کی سرگزشت‘‘، مُصّنف: جی۔ الانا، مُترجم رئیس امروہوی۔ فیروز سنز پرائیویٹ لمیٹڈ لاہور۔ راولپنڈی۔ کراچی۔

پڑھیے: جناح صاحب بمقابلہ قائد اعظم

کتاب کے صفحہ نمبر 19 پر جناح صاحب کے حوالے سے رقم ہے کہ: "سندھ مدرسۃ الاسلام کے انگریزی شعبے میں داخل ہونے والے طالب علموں کے جنرل رجسٹر سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمد علی جناح کو اس اسکول میں 4 جولائی 1887 کو داخل کیا گیا تھا اور وہ 114 ویں طالب علم تھے۔ اندراجات کے مطابق اُن کا نام محمد علی جناح اور جائے پیدائش کراچی تھی۔ یومِ پیدائش درج نہ تھا۔ عمر: 14 سال، فرقہ: خوجہ، سابقہ تعلیم: اسٹینڈرڈ چہارم گجراتی، فیس معاف ہے یا ادا کی جائے گی: ادا کی جائے گی۔

دوسرا اندراج جس کا نمبر شمار 178 ہے، یہ ظاہر کرتا ہے کہ 23 ستمبر 1887 کو محمد علی جناح کو سندھ مدرسۃ الاسلام میں دوبارہ داخل کیا گیا۔ اب کی بار ان کی تاریخِ پیدائش 20 اکتوبر 1875 اور سابقہ تعلیم کے خانے میں انجمن اسلام بمبئی اسٹینڈرڈ اوّل درج کی گئی۔

9 فروری 1891 کے ذیل میں جو کوائف بیان کیے گئے ہیں وہ یہ ہیں: نام: محمد علی جناح بھائی۔ جائے پیدائش: کراچی۔ تاریخ پیدائش: 20 اکتوبر 1875۔ فرقہ: خوجہ۔ سابقہ تعلیم: اسٹینڈرڈ چہارم۔ فیس ادا کی گئی کہ نہیں: ادا کی گئی۔

دو مختلف اندراجات کے مطابق ان کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1876 کی صحت کے بارے میں شبہ ہوتا ہے، لیکن اس امر سے زیادہ مستند کیا بات ہوسکتی ہے کہ قائدِ اعظم نے ہمیشہ اپنی سالگرہ 25 دسمبر کو منائی۔ سندھ مدرسے کے رجسٹر کے اندراج کے مطابق اس اسکول میں طالب علمی کے دوران میں ان کے نام کی ہّجے دو مرتبہ تبدیل ہوئی۔

صحافی، شاعر اور محقق مظہر لغاری کے مطابق، سندھ میں عام طور پر مانا جاتا ہے کہ جناح 20 اکتوبر 1875 کو ٹھٹھہ ضلعے کے ایک قصبے جھرک میں پیدا ہوئے۔ سروجنی نائیڈو، جنہوں نے ان کی پہلی سوانح لکھی، نے اُن کی تاریخ پیدائش 25 دسمبر 1876 لکھی ہے اور اس کے لیے ان کے پاسپورٹ میں درج تاریخ پیدائش کا حوالہ دیا۔ اس زمانے میں ٹھٹھہ ضلع کراچی کا حصہ تھا۔

سابق وزیرِ ثقافت سسئی پلیجو کے مطابق 1990 میں کیے گئے تحقیقی کام سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جناح جھرک میں پیدا ہوئے۔ 1950 میں سندھی ادبی بورڈ کی چھپنے والی درسی کتابیں جو بڑا عرصہ چلیں، ڈاکٹر عمر بن عبدالعزیز داؤد پوتہ نے لکھیں۔ فاطمہ جناح اس وقت تک زندہ تھیں جب یہ کتابیں پرائمری اسکولوں میں پڑھائی جاتی رہیں، انہوں نے ان پر اعتراض کیوں نہیں کیا۔

ڈاکٹر کلیم لاشاری کا کہنا ہے کہ ان کی تحقیق کے مطابق جناح ایک ایسے گھر میں پیدا ہوئے تھے جو اس پلاٹ کے قریب واقع تھا جہاں وزیر مینشن تعمیر ہوا، مگر وزیر مینشن میں نہیں، کیوں کہ 1883 سے قبل اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔

مظہر لغاری کے مطابق جھرک شہر کے لوگ بتاتے ہیں کہ جناح بھائی پونجا بھی وہیں پیدا ہوئے۔ کچھ بزرگوں کا کہنا ہے کہ جناح کی جائے پیدائش کا معاملہ ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکمرانی میں بھی اٹھا تھا اور بھٹو صاحب نے اس معاملے کے لیے ایک فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے ممبران جھرک آئے اور اسکول سے ماسٹر رول اور جنرل رجسٹر سمیت تمام ریکارڈ اپنے ساتھ لے گئے جو بعد میں کبھی واپس نہیں کیا گیا۔ اس نکتے پر ہم بعد میں واپس آئیں گے۔

پڑھیے: کون سے قائد اعظم؟

لیکن کچھ بزرگوں کا کہنا ہے کہ 1967 میں اس زمانے کے کمشنر حیدرآباد مسرور احسن، جو ایوب خان اور نواب آف کالا باغ کے منظورِ نظر بھی تھے، وہ اسکول کا ریکارڈ ساتھ لے گئے۔ اس زمانے کے ڈویژنل کمشنر کے اختیارات موجودہ دور کے گورنر سے بھی زیادہ تھے۔ مسرور احسن اردو بولنے والے تھے اور ان کے دور میں ایسے واقعات ہوئے جنہوں نے اس تاثر کو تقویت دی کہ وہ سندھیوں، سندھی زبان، کلچر اور تاریخ کی جانب متعصبانہ رویہ اپنائے ہوئے تھے۔

ان کے دور میں 1967 میں جب سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر حسن علی عبدالرحمان نے اعتراض کیا کہ کمشنر کو یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے اجلاس میں نہیں بیٹھنا چاہیے تو کمشنر غصے میں آ گئے اور انہوں نے وائس چانسلر کو ہٹانے کے اقدامات کرنے شروع کیے جس پر سندھی قوم پرست طلبا تحریک شروع ہوئی۔ اس تحریک کو انتظامی مشینری استعمال کر کے کچلا گیا۔

ایوب خان کے دور میں تدریس کے لیے سندھی زبان پر پابندی بھی لگائی گئی، ووٹر فہرستوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر سے سندھی زبان کو مٹا دیا گیا۔ اس کے پس منظر میں سمجھا جاتا ہے کہ مسرور احسن نے غالباً سندھیوں کو جناح کی جائے پیدائش کے اعزاز سے محروم کرنے کے لیے ریکارڈ گم کیا۔ بقول شخصے وہ ان کی جائے پیدائش 'بجنور' تو نہیں بنا سکتے تھے، لیکن انہوں نے جناح کی جائے پیدائش وزیر مینشن تک بہرحال پہنچا دی۔

اس حوالے سے مظہر لغاری اپنے دعوے کے ثبوت کے طور پر سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے اگست 1960 میں شائع ہونے والی ایک درسی کتاب کا حوالہ بھی دیتے ہیں۔ یہ کتاب ساتویں جماعت کے بچوں کے لیے لکھی گئی تھی۔ اس کتاب میں سندھی زبان میں جو مضمون قائد اعظم کے حوالے سے لکھا گیا ہے اُس کا ترجمہ کچھ یوں ہے:

’’سندھ کے مایہ ناز فرزند، تقریباً پون صدی قبل جھرک کے قریب ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد ایک غریب بیوپاری تھے۔ کوئی بھی یہ تصور نہیں کرسکتا تھا کہ ایک دن اُن کا شمار دنیا کی بڑی ہستیوں میں ہوگا۔ ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ مدرسۃ الاسلام سے میٹرک پاس کیا۔ بعد ازاں سیٹھ نور محمد لالن والوں سے تین ہزار روپے قرض لے کر ولایت بیرسٹری کی تعلیم حاصل کرنے گئے۔ وہاں کی تعلیم و تہذیب کے ان کی زندگی پر نمایاں اثرات مرتب ہوئے۔ ولایت سے لوٹنے کے بعد وہ بمبئی پہنچے جہاں انہوں نے وکالت کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے بہت نام کمایا۔

وہ وہاں کے بزرگ دادا بھائی نوروجی کے زیرِ اثر سیاسی امور میں بھرپور حصہ لینے لگے۔ پہلے پہل وہ کانگریس میں شامل ہوئے، لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ کانگریسی ہندو سچے نہیں، وہ مسلمانوں کی کبھی بھی بھلائی نہیں چاہیں گے، تو انہوں نے کانگریس سے اپنے راستے الگ کر لیے اور مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی اور مولانا محمد علی جیسے شیر مرد بھی اُس میں شامل ہوئے، لیکن جناح صاحب اپنے اخلاق اور مستقل مزاجی کے سبب سب سے بازی لے گئے۔‘‘

سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے اگست 1960 میں شائع کردہ سندھی کی ساتویں کتاب کے دوسرے سبق کا عکس۔

یہ تو رہے مظہر لغاری کے دلائل اور ثبوت، لیکن چوں کہ معاملہ اتنا آسان نہیں ہے اس لیے اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت تھی۔

اسی بنا پر ہم نے نامور مؤرخ اور ماہرِ آثارِ قدیمہ کلیم لاشاری سے جب بات کی تو انہوں نے ایک نیا انکشاف کیا۔ کلیم لاشاری کے مطابق قائدِ اعظم جھرک میں پیدا نہیں ہوئے۔ ان کے بقول قائدِ اعظم کے والد جیونا بھائی کراچی میں رہے اور اپنے بھائیوں کے ساتھ کاروبار میں شریک رہے۔

جھرک جس طرح کی بستی تھی، اس سے متعلق بہت سی چیزیں ہمارے علم میں آتی ہیں۔ وہاں محلوں میں سینیٹری کمیٹیاں تھیں، چوکیداری نظام تھا اور یہ سب شہری منظم طریقے سے اپنی مدد آپ کے تحت فعال رہتے تھے۔ تمام کاروباری دکانیں رجسٹرڈ تھیں جن سے سالانہ ٹیکس وصول ہوتا تھا۔ دستاویزات میں کہیں بھی قائدِ اعظم کے والد جیونا بھائی اور دادا پونجا کا نام نہیں ملتا، جبکہ کراچی کے دستاویزات میں بارہا ملتا ہے۔

ان کاغذات میں تمام زمینداروں کا اندراج ہے۔ آغا خان صاحب بھی وہاں کے زمیندار تھے۔ ان کے نام کے سامنے لکھا ہے کہ وہ غیر حاضر زمیندار ہیں جو کراچی اور ممبئی میں رہتے ہیں۔ جھرک میں اس وقت جناح کے خاندان کی موجودگی کے حوالے سے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ملتا، البتہ 1890 کے لگ بھگ جب کراچی میں طاعون پھیلا تو جناح صاحب کا خاندان پرانے شہر سے آغا خان صاحب کی جائیداد واقع موجودہ ڈیفنس میں عارضی طور پر مقیم ہوا۔

ہوسکتا ہے کہ ان دنوں یہ لوگ کچھ عرصے کے لیے جھرک چلے گئے ہوں، بہرحال یہ امکان بھی بہت ہی ضعیف ہے۔ اس وقت محمد علی صاحب کی عمر 16 سال کے لگ بھگ ہوگی، یعنی کہ قائد اعظم محمد علی جناح جھرک میں پیدا نہیں ہوئے۔

رجسٹرڈ دستاویزات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جیونا بھائی 1872 سے 1880 تک کراچی میں ایک کرائے کے مکان میں رہ رہے تھے اور ان کے والد اس مکان کی نچلی منزل پر مقیم تھے۔

یہ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ ایک شخص جو ایک شہر میں رہتا ہو اور جب بچے کی پیدائش کا وقت ہو تو وہاں سے کم سہولت والے علاقے جھرک منتقل ہوجائے؟ آخر اس عمل کی کوئی وجہ بھی تو ہو۔ ایک شہر سے نقل مکانی کا کوئی اچھا بہانہ یا کوئی موقع محل بھی تو ہو۔

وہاں جانے کے لیے حالات اس وقت پیدا ہو سکتے تھے جب وہاں زیادہ سہولتیں اور دیکھ بھال کے واسطے نوکر چاکر ہوتے۔

جب جواب نفی میں ہو اور جب حالات یہ ثابت کرتے ہوں کہ جیونا نے کرائے کا مکان چند دنوں کے لیے بھی خالی نہیں کیا تو پھر یہ کیسے باور کرلیا جائے کہ یہ گھرانہ جھرک آیا ہوگا۔ یاد رہے کہ محمد علی صاحب اپنے گھر میں اکیلے بچے نہیں تھے۔ جیونا بھائی کی خاصی اولاد تھی اور وہ سب کے سب کراچی میں پیدا ہوئے۔

مظہر لغاری کے مطابق جناح صاحب کی جھرک میں پیدائش کے حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہیں۔ ایسے میں ایک سوال بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے کہ جھرک کے کس اسکول سے وہ کون سا رجسٹر تھا جو غائب ہوا اور کس شخص کی گواہی سے اس رجسٹر اور اس میں موجود اندراج کا ثبوت فراہم ہوتا ہے؟

کلیم لاشاری کا کہنا ہے کہ جس کتاب کا حوالہ مظہر لغاری نے دیا ہے وہ اگست 1960 میں شایع ہوئی ہے۔ اس کتاب سے قبل سندھی ادبی بورڈ کی جانب سے دو اور کتابیں شایع ہوئیں جس میں قائد اعظم کی جائے پیدائش کراچی لکھی گئی ہے۔

یہ تنازع کہ قائدِ اعظم جھرک میں پیدا ہوئے تھے یا وزیر مینشن میں اپنی جگہ لیکن کلیم لاشاری کا مؤقف بہت دلچسپ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قائدِ اعظم کی جائے پیدائش نا تو وزیر مینشن ہے اور نا ہی جھرک۔

پڑھیے: بیگم پاشا ہارون: تاریخ سے ملاقات

کلیم لاشاری کے بقول: ہوا تو یوں تھا کہ محترمہ فاطمہ جناح نے تقسیمِ ہند کے بعد کراچی کے ایک کمشنر کو یہ بتایا تھا کہ وزیر مینشن ہمارا مکان تھا۔ وہ اس گھر میں پیدا ہوئی تھیں اور ان کا بچپن اس میں گزرا تھا۔ تو لوگوں نے یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہی نہیں سمجھی یا مزید تحقیق نہیں کی کہ جناح صاحب بھی اسی مکان میں پیدا ہوئے تھے یا نہیں۔

انہوں نے سوچا ہوگا کہ اگر محترمہ فاطمہ جناح اس گھر میں پیدا ہوئی ہیں تو یقیناً جناح صاحب بھی یہیں پیدا ہوئے ہوں گے۔ جناح صاحب نے خود یہ بھی فرمایا تھا کہ وہ کراچی میں پیدا ہوئے ہیں تو لوگوں نے اس مفروضے پر یقین کرلیا اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

کلیم لاشاری کے مطابق وزیر مینشن جس زمین پر واقع ہے، اس کا پلاٹ نمبر 14 ہے جو 1880 تک خالی تھا۔ اس زمین پر دو وکھار (آؤٹ ہاؤسز) واقع تھے اور ایک دو منزلہ مکان تھا۔ اس کے برابر والی زمین پر بھی ایک چھوٹا دو منزلہ مکان اور دو وکھار بنے ہوئے تھے۔ یہ دونوں پلاٹ دراصل مختلف مواقع پر عمر نامی شخص نے میونسپلٹی سے اور نیلام میں خریدے تھے۔

پلاٹ کی وہ سمت جس پر وزیر مینشن بنا ہوا ہے، اس پر موجود مکان میں مالک خود رہتا تھا، جبکہ دوسری سمت میں جو دو منزلہ مکان تھا اس میں جیونا اور پونجا دونوں کرائے پر رہتے تھے۔ اس جگہ آج کل علی منزل نامی اپارٹمنٹ بلڈنگ کھڑی ہے۔

وزیر مینشن نامی عمارت دراصل 1880 کے قریب تعمیر ہوئی اور اس زمانے میں دونوں پلاٹ جیونا بھائی کی ملکیت تھے۔ محمد علی جناح صاحب کی پیدائش کا سن 1876 سرکاری طور پر مانا جاتا ہے۔ کچھ لوگ اسے 1875 بھی مانتے ہیں۔

لاشاری صاحب اس معاملے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محمد علی جناح صاحب کی پیدائش ہوئی تو وزیر مینشن تعمیر ہی نہیں ہوا تھا۔ پلاٹ نمبر 14 کا رقبہ خاصا بڑا تھا اس پر تین پلاٹ تھے اور 1874 کے سروے کے مطابق ان کو ملا کر ایک نمبر الاٹ کیا گیا تھا۔ اس پلاٹ کا ایک ٹکڑا عمر نے کراچی میونسپلٹی سے حاصل کیا تھا۔

1874 کے سروے کے مطابق پلاٹ نمبر 3، 5، 13 اور 17 کو ملا کر نمبر 14 الاٹ کیا گیا جس جگہ آج وزیر مینشن قائم ہے۔

1866 میں عمر نے عبد الرحیم چھاگلہ سے 2500 روپے قرض لیا تھا، جس کے بدلے میں انہوں نے اپنی یہ جائیداد، جس میں 3 جگہیں شامل تھیں اور اُس وقت ان کے تین الگ الگ نمبر تھے، ایک میونسپل نمبر تھا، دوسرا ٹاؤن نمبر تھا، اور ایک وہ جو انہوں نے نیلام سے لیا تھا، یہ تینوں پلاٹ عمر نے عبدالرحیم چھاگلہ کے پاس گروی رکھ دیے۔

سال بھر بعد عمر نے مزید کچھ رقم چھاگلہ صاحب سے ادھار لی توعبد الرحیم کی نظر میں قرضے کی رقم کے مقابلے میں یہ جائیداد چھوٹی تھی۔ تو ڈوسا ہیرجی کا ایک اور گودام جو ٹرانس لیاری کوارٹر میں تھا، وہ بھی اس میں شامل کیا گیا۔ کچھ سالوں کے بعد عمر رقم ادا نہ کرسکے تو انہوں نے اپنی ملکیت بیچ کر معاملہ صاف کیا، یہ تمام دستاویزات سب رجسٹرار کے دفتر میں موجود ہیں۔

جس شخص نے یہ جگہ خریدی، اس نے یہ جائیداد جیونا بھائی ناتھا بھائی اینڈ کمپنی کے پاس گروی رکھ دیں۔ جیونا بھائی قائد اعظم محمد علی جناح کے والد تھے، ان کے دو اور بھائی بھی تھے جو کراچی میں کاروبار کرتے تھے، وہ شخص بھی رقم ادا نہ کرسکا اور یہ جائیداد جیونا بھائی کے ہاتھوں فروخت کر دی گئی۔

1870 کی دہائی کے دوران پلاٹ نمبر 14 پر تعمیرات کی صورتحال، جب پونجا بھائی اور جیونا بھائی درمیان والی عمارت میں کرائے پر مقیم تھے۔ نونہم روڈ والا حصہ عمر پڑپیا اور بعد میں ڈوسا ہیرجی کی ملکیت میں رہا۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں 1883 کے بعد نئی عمارت تعمیر کی گئی۔ پلاٹ نمبر 14 کو بعد میں نمبر 23 الاٹ کر کے دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا جو آج تک موجود ہے۔ — نقشہ کاپی رائٹ کلیم اللہ لاشاری۔

1880 میں جیونا بھائی اور ان کے بھائیوں نے اس جگہ پر مکان کی تعمیر کا آغاز کیا۔ 1880 سے 1886 کے دوران جیونا بھائی کی جائیداد کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ اب یہ ہوا کہ جو ناتھا بھائی اور جیونا بھائی کی کمپنی تھی، جس نے اس جگہ یہ خوبصورت عمارت تعمیر کی تھی، کسی وجہ سے جیونا بھائی جو اس وقت تک جناح کہلائے جانے لگے، اب ان کی کمپنی کو خسارہ ہوا اور یہ تمام جائیداد نیلام کرنی پڑی، اور اس کی قیمت 18,500 روپے لگائی گئی۔ یہ 1890 کی بات ہے۔

انہی دستاویزات سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ جہاں اس وقت وزیر مینشن ہے، اس کے ساتھ ایک اور چھے منزلہ عمارت ’علی پلازہ‘ موجود ہے لیکن اس وقت اس جگہ ایک چھوٹا سا گھر ہوتا تھا، جس کے گراؤنڈ فلور پر محمد علی کے دادا پونجا رہتے تھے اور پہلے فلور پر جیونا بھائی رہتے تھے۔

یہ لگ بھگ وہی عرصہ ہے، جس عرصے میں جناح صاحب پیدا ہوئے تھے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناح صاحب نا جھرک اور نا ہی وزیر مینشن، بلکہ اس جگہ پیدا ہوئے جو آج کل علی پلازہ کہلاتی ہے۔

جناح بھائی کا نام جیونا سے جینا بنا اور بعد میں اس سے بھائی خارج ہوا تو جناح میں تبدیل ہوا۔ یہ تبدیلی 1866 سے لے کر 1880 کے دوران عمل میں آئی۔ سرکاری دستاویزات میں یہ تبدیلی ان کے دستخطوں سے واضح صورت میں نظر آتی ہے۔

بہرحال فاطمہ جناح کے کہنے پر کارروائی کرتے ہوئے کمشنر کراچی نے وہ مکان قبضہءِ سرکار میں لے لیا اور مکان مالک وزیر علی علاؤ الدین صاحب کو متبادل کے طور پر ایک اور جگہ دے دی گئی۔ لاشاری صاحب نے جس تسلسل سے ہونے والے واقعات گنوائے ہیں اس سے تو سارا معاملہ کھل کر سامنے آجاتا ہے۔

ہم نے وزیر مینشن کا دورہ بھی کیا ہے، وہاں پر جناح صاحب کے زیرِ استعمال رہنے والی مختلف چیزیں بھی موجودہیں۔ اس عمارت کو ’’قائدِ اعظم برتھ پلیس‘‘ بھی کہا جاتا ہے، اور اسی حیثیت سے سرکار نے اس عمارت کو قومی ورثہ قرار دیا ہے جو کہ مناسب نہیں۔

اس عمارت کی حکومتی پہچان حقیقت سے قطعی بعید ہے، کیوں کہ وہاں ایک کمرے میں یہ تختی آویزاں ہے کہ ’’محمد علی جناح اس کمرے میں پیدا ہوئے۔‘‘

اس میں شک نہیں کہ یہ عمارت جناح خاندان کے زیر استعمال رہی اور اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ اسی خاندان نے یہ عمارت تعمیر کی ہو، لیکن وہ عمارت جو تعمیر ہی 1880 کے بعد ہوئی ہو اس کو قائدِ اعظم کی جائے پیدائش کہنا تاریخی طور کیسے درست ہو سکتا ہے؟

Read Comments