اپ ڈیٹ فروری 07, 2018 04:50pm

راجاؤں، مہاراجاؤں اور نوابوں کے عجیب و غریب مشاغل (دوسرا حصہ)

اختر بلوچ

یہ راجاؤں، مہاراجاؤں اور نوابوں کے عجیب و غریب مشاغل کا دوسرا حصہ ہے۔ پہلا اور تیسرا حصہ یہاں پڑھیے۔


نوابوں کے مشاغل اپنی جگہ، مگر اُن کی پُراسرار روحانی طاقتیں اور راجاؤں، مہاراجاؤں کے شیروں کے شکار کے بہادرانہ قصے بہت مشہور ہیں، لیکن نواب آف بہاولپور نے شیر کے حوالے سے ایک ایسا غیرمعمولی کارنامہ انجام دیا کہ ہم ان کے اس کرشماتی واقعے کا ذکر خود پر لازم سمجھتے ہیں۔ یہ قصہ ان کے ہی خاندان سے تعلق رکھنے والے صاحبزادہ محمد قمرالزمان عباسی نے اپنی کتاب، ’بغداد سے بہاولپور‘ کے صفحہ نمبر 376 اور 377 پر کچھ یوں تحریر کیا ہے:

چڑیا گھر بہاولپور کا واقعہ تو آج بھی بہاولپور کے لوگوں کو اچھی طرح یاد ہے۔ 1964ء میں ایک روز شیر چڑیا گھر میں موجود اپنے پنجرے سے باہر نکل گیا، شیر کے نکلتے ہی شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنے گھروں میں بند ہوگئے۔ اس واقعے کی اطلاع نواب سر صادق محمد خان عباسی کو اُن کے محل صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب پہنچائی گئی، تو وہ فوراً اپنی کار میں سوار ہو کر بہاولپور پہنچ گئے۔

وہ بہاولپور شہر سے دریائے ستلج کی طرف روانہ ہوئے تو دور سے دیکھا کہ شیر ستلج کی طرف سڑک پر چلا جا رہا تھا، کار کی آواز سن کر شیر نے مُڑ کر دیکھا، نواب صاحب گاڑی سے نیچے اُترے، اسے آواز دے کر سرائیکی زبان میں کہا کہ ’تجھے شرم نہیں آتی، اپنے مالک سے اجازت لیے بغیر ہی چوروں کی طرح بھاگ کر جا رہا ہے۔‘ شیر واپس مڑا اور وہیں رُک گیا۔ نواب صاحب شیر کے پاس چلے گئے شیر نے اپنا سر ان کے قدموں پر رکھ دیا۔ اس کی آنکھوں سے ندامت کے آنسو ٹپک پڑے۔ نواب صاحب اسے کان سے پکڑ کر واپس چڑیا گھر لے آئے اور دوبارہ پنجرے میں بند کردیا۔ نواب صادق عباسی کو چرند و پرند سے بہت محبت تھی اور وہ جب بھی چڑیا گھر تشریف لاتے تو تمام پرندے اور جانور انہیں دیکھ کر ادب سے جھک جاتے۔

نواب صاحب کے ایسے بے شمار علم الغیب کے کارنامے ہیں، لیکن ان کا ذکر کرنے سے قبل بہتر ہے کہ ہندوستان میں ریاستوں کی تاریخ کا ایک مختصر جائزہ لیا جائے تاکہ ہمیں اس بات کا مکمل ادراک ہوسکے کہ آخر ریاستوں کے امورِ مملکت اور طرزِ سیاست کن ستونوں پر استوار تھی۔

تقسیمِ ہند کے موقعے پر ہندوستانی رجواڑوں کے والیانِ ریاست کو اس بات کی شدید پریشانی لاحق تھی کہ آخر ان کا مستقبل کیا ہوگا۔ ایک جانب کانگریس کی قیادت کو اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ ریاستوں کا ہندوستان میں انضمام ضروری ہے وگرنہ ہندوستان میں کاروبارِ مملکت اور امورِ سیاست کو چلانا بہت دشوار ہوگا۔ دوسری جانب جناح صاحب کی قیادت میں مسلم لیگ کی خواہش تھی کہ زیادہ سے زیادہ ریاستیں پاکستان سے الحاق کریں۔

جونا گڑھ کے بارے میں ہم اپنے گزشتہ بلاگ میں لکھ چکے ہیں کہ وہاں کے نواب نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا تھا لیکن اگر جونا گڑھ کی جغرافیائی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ ناممکن نظر آتا ہے اور اس کا آخری نتیجہ یہی نکلا کہ جونا گڑھ انڈیا کے قبضے میں چلا گیا۔ انگریز راج نے ریاستوں کے حوالے سے جو قانون وضح کیا تھا اُس کے مطابق ریاستوں کو اس بات کا اختیار حاصل تھا کہ وہ اپنی مرضی اور منشاء کے مطابق ہندوستان یا پاکستان سے الحاق کرسکتے تھے، لیکن اگر آزاد بھی رہنا چاہیں تو آزاد بھی رہ سکتے تھے اور یہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لیے قابلِ قبول ہوگا لیکن کم از کم پاکستان کے معاملے میں ایسا نہیں ہوا، اس کی مثال جونا گڑھ کا پاکستان سے الحاق ہے۔ مسلم ریاستوں میں صرف 4 ریاستیں ایسی تھیں جو پاکستان کی تخلیق کے بعد پاکستان میں شامل ہوئیں جن میں قلات، خیرپور اور چترال شامل تھیں باقی 16 مسلم ریاستیں ہندوستان میں شامل ہوئیں۔ اُن ریاستوں کی پاکستان میں شمولیت کے حوالے سے بھی بہت سی کہانیاں ہیں جن کا ذکر پھر کبھی کریں گے۔

بعض مسلم ریاستیں ایسی تھیں جن پر بھارت نے زبردستی فوج کشی کرکے قبضہ کیا، اُن میں حیدر آباد دکن نمایاں ہے۔ اُن ریاستوں کا جغرافیہ انوکھا تھا، ایک طرف 82700 مربع میل پر مشتمل نظام حیدرآباد کی ریاست تھی جس کی آبادی 1930ء میں ایک کروڑ 45 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی اور اس کی سالانہ آمدنی ساڑھے 8 کروڑ روپے تھی، تو دوسری طرف مغربی ہندوستان میں 282 کے قریب ایسی ریاستیں بھی تھیں جن کی حدود آئرلینڈ کے برابر بھی نہیں تھیں، جبکہ کاٹھیاواڑ جیسی ریاستیں چند مربع کلومیٹر کے رقبے پر مشتمل تھیں اور ان کی سالانہ آمدنی 10 ہزار روپے سے زائد نہ تھی۔ ایک ریاست ایسی بھی تھی جس کا رقبہ 22 ایکڑ اور آبادی 200 نفوس پر مشتمل تھی، جن سے وہاں کا ٹھاکر 450 روپے سالانہ ٹیکس وصول کرتا تھا۔

مزید پڑھیے: ایک بادشاہ کا غضب اور ایک عورت کی طاقت

تقسیمِ ہند کے حوالے سے نوابوں، راجاؤں اور مہاراجاؤں کا ذکر صحافی لیری کولنس، دامنک لیپئر کی کتاب آزادی نیم شب (فریڈم ایٹ مڈ نائٹ) میں ملتا ہے، جس کا اردو ترجمہ سعید سہروردی نے کیا ہے۔ اِن دونوں صحافیوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ،

پٹیالہ کے آٹھویں مہاراجا ہِزہائی نس یادویندر سنگھ ایک ایسی تنظیم کے صدر تھے جو ساری دنیا میں اپنی مثال نہیں رکھتی تھی۔ ایسی تنظیم شاید نہ ماضی میں کبھی بنی اور نہ مستقبل میں کبھی بنے گی، اس کا نام تھا، ’چیمبر آف انڈین پرنسسز‘۔ یادویندر کو اس کا چانسلر بنایا گیا تھا۔

جس لڑائی نے ہیروشیما کو تباہ کیا اور دنیا کی بنیاد ہلادی تھی اسے ختم ہوئے دو سال گزر چکے تھے، ہندوستان میں 565 راجا، مہا راجا، نواب اور شہزادے اپنی اپنی ریاستوں میں بغیر کسی مداخلت کے حکومت کر رہے تھے۔ ہندوستان کی چوتھائی آبادی پر اُن کا حکم چلتا تھا۔ 400 سے زیادہ راجا ایسے تھے جن کا رقبہ 20 مربع میل سے زیادہ نہیں تھا۔ اُن میں سے چند حکومتیں ایسی تھیں جن کا انتظام انگریزی راج سے بہتر تھا۔ لیکن ایسے بھی راجا تھے جو اپنی رعایا کی بھلائی کا خیال کرنے کے بجائے عیاشی کے نئے نئے ڈھنگ تلاش کرتے اور ریاست کی آمدنی کو اسی میں صرف کرتے تھے۔ اُن راجاؤں، مہاراجاؤں کی ذاتی زندگی خواہ کیسی بھی رہی ہو لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مئی 1947ء میں اُن کے لیے تشویشناک صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔ برِصغیر پاک و ہند کے نظم و نسق کی کوئی اسکیم خواہ کتنی ہی بہتر ہوتی ان راجاؤں، مہاراجاؤں کی منظوری کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی تھی۔

ویسے تو ہندوستانی والیانِ ریاست انگریزوں کے تابعدار تھے لیکن اُن پر اور خصوصاً مسلمان نوابوں پر اُس وقت بُرا وقت آیا جب انہیں یہ فیصلہ کرنا تھا کہ 1857ء کی جنگِ آزادی میں وہ کمپنی کے ساتھ ہیں یا آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر کے ساتھ۔ اُن حکمرانوں پر عوامی دباؤ بہت زیادہ تھا جس کے باعث انہوں نے ناچاہتے ہوئے بھی بادشاہ کی حمایت کا کشٹ اٹھایا۔ پی سی جوشی اپنی کتاب ’انقلاب اٹھارہ سو ستاون مطبوعہ’ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، نئی دہلی‘ سنہ اشاعت، تیسرا ایڈیشن 1998ء کے صفحہ نمبر 257 پر رقم طراز ہیں کہ

ہندوستانی والیانِ ریاست پر عوام کا دباؤ

نامور والئ فرخ آباد، تفضل حسین خاں نے دور ہی سے بادشاہ کے حضور میں جبہ سائی کی اور اطاعت کا اظہار کیا۔ بریلی کے خان بہادر خاں نے حضورِ شاہ میں 101 سونے کی مُہریں، ایک ہاتھی اور ایک گھوڑا چاندی کے ساز کے ساتھ بطور ہدیہ بھیجا۔ رام پور کے نواب یوسف علی خاں بہادر جنہوں نے مدّت سے انگریز حکمرانوں کے ساتھ پیمانِ وفا باندھ رکھا تھا، بادشاہ سے وفاداری کا رسمی پیغام بھیجنے پر مجبور ہوگئے۔ اس طرح انہوں نے اپنے نکتہ چیں ہمسایوں کا منہ بند کردیا۔ لکھنؤ میں دانشمند وزیر (لفظی معنی ’معاملہ فہم‘) شرف الدولہ نے واجد علی شاہ کے بیٹوں میں سے ایک 10 سال کے لڑکے کو تخت پر بٹھا دیا اور خود اس کے پیشکار اور مشیر بن گئے۔ اس نے دہلی میں شاہی دربار کو بیش بہا تحائف کے ساتھ اپنا سفیر بھیجا۔ الغرض بادشاہ کی قسمت کا ستارہ اتنا بلند ہوا کہ فرنگیوں (لغوی معنی خاکی وردی پہننے والے ’خاکیوں‘) کا چہرہ گہنا گیا۔

حیدرآباد دکن کی ریاست ایک ایسی ریاست تھی جس کے حصول کے لیے پاک و ہند دونوں ہی کوشش میں تھے کہ اس کو اپنی مملکت میں شامل کرلیا جائے۔ یہ کوئی آسان معاملہ نہ تھا۔ نظام مالی، معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر ایک بہت بڑی شخصیت تھے۔ آخرکار ایسا کیا ہوا کہ یہ ریاست پاکستان کے بجائے ہندوستان میں شامل ہوگئی؟ سردار شوکت حیات اپنی کتاب ’The Nation That Lost It's Soul‘ کے صفحہ نمبر 176 پر لکھتے ہیں کہ،

ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آئے۔ ایک عشائیے کے موقعے پر، جس میں لیاقت علی خان، گورنر مودی اور مغربی پنجاب کے چار وزراء بھی موجود تھے، ماونٹ بیٹن نے ہندوستان کی بااثر سیاسی شخصیت پٹیل (سردار ولبھ بھائی پٹیل) کا پیغام لیاقت علی خان تک پہنچایا کہ ان قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے جن پر ہندوستانی ریاستوں کے تقسیم کے حوالے سے انڈین کانگریس اور مسلم لیگ میں اتفاقِ رائے تھا کہ وہ ریاستیں جن میں کسی ایک برادری کی اکثریت ہو اور وہ کسی بھی ریاست سے متصل ہو وہ اسی ریاست سے الحاق کرسکتی ہیں۔

پٹیل نے مزید کہا کہ کشمیر پاکستان میں شامل ہو جبکہ حیدرآباد دکن کو انڈیا میں شامل ہونا چاہیے کیونکہ وہاں اکثریت ہندوؤں کی ہے اور وہ سمندری خواہ زمینی راستے سے کسی بھی طرح پاکستان کے قریب نہیں۔ یہ پیغام دینے کے بعد ماؤنٹ بیٹن سونے کے لیے پنجاب ہاؤس چلے گئے۔ چونکہ میں کشمیر کے تمام معاملات کا نگران تھا، اسی لیے میں لیاقت علی خان کے پاس گیا، میں نے اُنہیں مشورہ دیا کہ انڈین فوج کشمیر میں داخل ہوچکی ہے اور ہم قبائلی مجاہدوں یا محدود تعداد میں سپاہیوں کے بل پر کشمیر کو پاکستان میں شامل نہیں کرسکتے اس لیے ہمیں پٹیل کی تجویز ماننے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ لیاقت علی خان نے پلٹ کر میری جانب دیکھا اور گویا ہوئے، ’سردار صاحب ، کیا میں پاگل ہوگیا ہوں کہ کشمیر کی پہاڑیاں لے کر حیدرآباد کی ریاست سے دستبردار ہوجاؤں، جو پنجاب سے بہت بڑی ہے۔‘

مزید پڑھیے: سندر مندرئیے

وزیرِاعظم کے اس ردِعمل اور ہماری جغرافیہ سے نابلد ہونے اور کم فہمی نے مجھے سکتے میں ڈال دیا۔ میں نے سوچا کہ وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں اور کشمیر کی پاکستان کے حوالے سے اہمیت سمجھنے سے قاصر ہیں، وہ سمجھ رہے ہیں کہ حیدرآباد ان کو ملے گا جوکہ ایک خوش فہمی سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ حیدرآباد کسی بھی طرح سے پاکستان کے قرب و جوار میں واقع نہیں تھا۔ اس صورتِ حال کے پیشِ نظراحتجاج کرتے ہوئے میں اپنے اس عہدے سے مستعفی ہوگیا، جو مجھے کشمیر میں ہونے والی سرگرمیوں کے حوالے سے سونپا گیا تھا۔

اس تحریر میں ہم نظام آف دکن کا ذکر کرچکے ہیں۔ صحافی لیری کولنس، دامنک لیپئر کے مطابق ہندوستان میں دو ریاستیں ایسی تھیں جن کے حکمرانوں کو 21 توپوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ دونوں میں حکمرانوں کا مذہب رعایا کے مذہب سے مختلف تھا، دونوں ریاستیں سمندر سے دور تھیں۔ حیدرآباد کے 7ویں نظام کے خطابوں کی فہرست بہت لمبی تھی۔ یہ ریاست ہندوستان کے وسط میں تھی، وہاں 2 کروڑ ہندو تھے اور 30 لاکھ مسلمان۔

نظام کا قد صرف پانچ فٹ تین انچ تھا، بدن اتنا چھریرا تھا کہ ان کا وزن مشکل سے 90 پونڈ رہا ہوگا۔ زیادہ پان کھانے سے ان کے دانت بھورے لال ہوکر بالکل سڑ گئے تھے۔ انہیں ہر لمحہ ڈر لگا رہتا تھا کہ کوئی درباری انہیں زہر دے دے گا۔ ہمیشہ ایک آدمی ان کے ساتھ رہتا تھا، جو ان کے کھانے کی ہر چیز پہلے ہی چکھ کر دیکھتا تھا۔ پھل، کریم، پان اور رات کو افیم۔ ہر چیز پہلے وہ چکھتا اور بعد میں نظام کھاتے۔1947ء میں نظام دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند آدمی مانے جاتے تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے انگریزوں کو ڈھائی کروڑ پونڈ کی مالی مدد دی تھی۔ جس کے صلے میں انگریزوں نے انہیں ایگزالٹڈ ہائینس ’Exalted Highness‘ کا خطاب دیا تھا۔

نظام کی دولت اور اس کی کنجوسی سے متعلق بہت سے قصے مشہور تھے۔ وہ بغیر استری کیا ہوا سوتی پاجامہ پہنتے تھے۔ مقامی بازار کی سستی گھٹیا چپلیں ان کے پیروں میں ہوتی تھیں۔ ان کے سر پر تقریباً 35 برسوں سے ایک ہی میلی کُچیلی ترکی ٹوپی رہتی تھی۔ نظام تقریباً 135 اداروں کے مالک تھے، جہاں سونے کے برتنوں میں کھانا کھلایا جاتا تھا لیکن وہ خود اپنی خواب گاہ میں بچھی دری پر بیٹھ کر معمولی ٹین کے برتنوں میں کھانا کھاتے تھے۔

نوابوں کے پاس سونے کے برتن ایک عام سی بات تھی۔ یہ برتن پاکستان سے الحاق کرنے والی ریاست بہاولپور کے نواب کے پاس بھی موجود تھے۔ مختلف ضیافتوں میں شرکت کرنے والے امراء اور اعلیٰ سیاسی شخصیات ان برتنوں میں کھانا کھانے کے بعد ان برتنوں کے حصول کی خواہش بھی کرتی تھیں، لیکن نواب صاحب بہت جہاں دیدہ تھے وہ کمال ہوشیاری سے انکار فرماتے۔ صاحبزادہ محمد قمرالزمان عباسی اپنی کتاب، بغداد سے بہاولپور کے صفحہ نمبر 394 پر رقم طراز ہیں کہ،

کرنل سعید ہاشمی نے ایک اور دلچسپ واقعہ بتاتے ہوئے کہا کہ جب شہنشاہ ایران رضا شاہ پہلوی اور ملکہ فرح پہلوی پہلی بار پاکستان کے دورے پر تشریف لائے تو نواب سر صادق محمد خاں عباسی نے اُن کے اعزاز میں ملیر الشمس پیلس کراچی میں شاندار ضیافت کا اہتمام کیا۔ اس ضیافت میں گورنر جرنل پاکستان اسکندر مرزا اور ان کی اہلیہ ناہید اسکندر بھی شامل تھیں۔ ضیافت کے اختتام پر بیگم ناہید اسکندر نے نواب بہاولپور سے مخاطب ہوکر کہا کہ نواب صاحب کیا ہی اچھا ہوتا کہ ضیافت کے بعد یہ برتن مہمانوں میں تقسیم کردیے جاتے۔ کرنل سعید ہاشمی نے نواب صاحب سے جواب کی اجازت لیتے ہوئے کہا کہ بیگم صاحبہ اگر مہمانوں میں برتن تقسیم کرنے کا رواج ہوتا تو آج آپ کو یہاں کھانے کے لیے مٹی کے برتن بھی میسر نہ ہوتے یہ بات سن کر محترمہ خاموش ہوگئیں۔

1973ء میں جب وزیرِاعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کے تمام ممالک کے سفیروں کے ہمراہ صادق گڑھ پیلس میں نواب محمد عباس عباسی گورنر پنجاب کی طرف سے ضیافت میں شریک ہوئے تو ضیافت کے اختتام پر مسٹر ذوالفقار علی بھٹو نے اس گولڈ کے ڈنرسیٹ کو پیک کروا کر اپنے ہمراہ لے جانے کا تقاضا کیا جس میں انہوں نے کھانا تناول فرمایا تھا، لیکن نواب عباس عباسی نے معذرت کرتے ہوئے ان کی خواہش کو پورا کرنے سے انکار کردیا۔

ہاں تو ہم ذکر کر رہے تھے نظام حیدرآباد دکن کا، لیری کولنس، دامنک لیپئر کے مطابق وہ اتنے کنجوس تھے کہ اگر کوئی مہمان سگریٹ کا ٹوٹا چھوڑ جاتا تو اسے ہی اٹھا کر پینا شروع کردیتے۔ انگریز ریزیڈنٹ ہر ہفتے نظام سے ملنے آتا تھا۔ نظام اور ریزیڈنٹ دونوں کے لیے وفادار ملازم چائے کا صرف ایک پیالہ، ایک بسکٹ اور ایک سگریٹ پیش کرتا تھا۔ زیادہ تر ریاستوں میں رواج تھا کہ سال میں ایک بار رعایا کے اہم لوگ اپنے حکمران کی خدمت میں سونے کی کوئی چیز بطور تحفہ پیش کرتے تھے۔

عام طور پر راجا اس کو چھو کر نذر گذار کر وہ چیز واپس کردیتا تھا۔ لیکن نظام واپس کرنے کے بجائے ہر چیز کو لے کر اپنے تخت کے بغل میں رکھے کاغذ کے تھیلے میں ڈالتے جاتے تھے۔ ایک بار ایک اشرفی گر کر لڑکھنے لگی، نظام خود گھٹنوں اور ہتھیلیوں کے بل اس کے پیچھے چلنے لگے۔ آخر سکے کے مالک نے خود ہی دوڑ کر اسے اٹھایا اور نظام کو دے دیا۔ ایک مرتبہ نظام کے دل کی حالت جاننے کے لیے اس کا الیکٹرو کارڈیا گرام لیا جانے والا تھا، اس کے لیے بمبئی سے ڈاکٹر آیا تھا، جب وہ محل میں اپنا آلہ نہ چلا سکا تو اسے بڑی حیرت ہوئی۔ آخرکار یہ معلوم ہوا کہ بجلی کا بل کم کرنے کے لیے نظام نے بجلی کا کنکشن کٹوا دیا تھا۔

نظام کی خواب گاہ غربت اور پھوہڑ پن کی زندہ مثال تھی۔ ایک ٹوٹی میز، سڑی ہوئی تین کرسیاں، راکھ سے لدی ایش ٹرے، کچرے سے بھری ردی کی ٹوکریاں، ریاست کے کاغذات کے گرد آلود ڈھیر، کونے میں مکڑی کے جالوں کا جنگل، اور نظام کی ردی کی ٹوکریاں اور ایش ٹرے سال میں صرف ایک بار صاف کی جاتی تھیں اور وہ ان کے یومِ پیدائش کے موقع پر۔

ان سب کے باوجود اُن کے محل کے کونے کونے میں جو سامان بکھرا ہوا تھا، اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کرنا آسان نہیں۔ ان کی میز کے خانے میں پرانے اخبار میں لپٹا مشہور ہیرا جیکب پڑا ہوا تھا، جو لیموں کی شکل کا تھا۔ وہ 280 کیرٹ کا تھا، دور سے ہی جگمگاتا تھا۔ نظام اسے پیپر ویٹ کی طرح استعمال کرتے تھے۔ ان کے باغ کی کیچڑ میں ایک درجن ٹرک کھڑے تھے جو لدے سامان کی وجہ زمین میں دھنسے جارہے تھے۔ ان ٹرکوں میں سونے کی اینٹیں لدی ہوئی تھیں۔ نظام کے جواہرات کا خزانہ اتنا بڑا تھا کہ اگر اس سے صرف موتی چادر کی طرح بچھائے جائیں تو دور تک سڑک کے فٹ پاتھ بھر جائیں۔ اسی طرح یاقوت، موتی، نیلم، پکھراج وغیرہ کے ٹوکرے بھر بھر کر تہہ خانوں میں رکھے ہوئے تھے جیسے کوئلے کے ٹوکرے بھرے ہوئے ہیں۔

نظام کے پاس اسٹرلنگ، روپیوں اور دیگر نقدی کی صورت میں 20 لاکھ پاؤنڈ سے زیادہ رقم پڑی ہوئی تھی۔ یہ کرنسی پرانے اخباروں میں لپیٹ کر تہہ خانوں اور برساتیوں کے گرد آلود فرش پر چھوڑ دی گئی تھی۔ وہاں چوہے تھے اور چوہوں کے دانت ہوتے ہیں، کتنی ہی رقم ہر سال ان چوہوں کے دانتوں کے ذریعے نظام کے لامحدود خزانے سے کم ہوجاتی تھی، اس کا حساب دنیا میں کسی کے پاس نہیں۔ نظام کے پاس مضبوط فوج تھی، فوج کا اپنا توپ خانہ تھا، ہوائی جہاز بھی تھے۔ سچ پوچھو تو اپنی ریاست کو آزاد ریاست کا درجہ دینے کے لیے نظام کے پاس دو چیزوں کے علاوہ سب کچھ تھا، ایک تو بندرگاہ اور دوئم عوام کی محبت اور تعاون۔ نظام کی رعایا کی ہندو اکثریت اپنے مسلمان حُکمران کو پسند نہیں کرتی لیکن وہ اس کے باوجود بھی اپنی ریاست کو آزاد رکھنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔

ہندوستان سے تعلق رکھنے والے لکھاری اوی بھٹ کی تصنیف ’The Life and Times of the Nawabs of Lucknow‘ ریاست اودھ کے نوابین کے روز و شب، مشاغل اور امور جہانبانی پر تفصیل سے روشنی ڈالتی ہے۔ اُن کی کتاب کے صفحہ نمبر 135 میں مذکور ہے کہ ریاست اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی رنگین مزاج طبیعت کے قصے ہر خاص و عام کی زبان پر تھے۔

نواب واجد علی شاہ کی سب سے بڑی کمزوری عورت تھی۔ نواب صاحب کا دل وزیراں نامی ایک لڑکی پر آگیا، یہ لڑکی ایک طرف سریلی آواز میں گانے پر ملکہ رکھتی تھی تو دوسری جانب رقص پر بھی اسے کمال عبور حاصل تھا۔ وزیراں نامی یہ لڑکی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے نواب صاحب کی نظروں میں آگئی اور اُس پر دل و جان سے کچھ یوں فریفتہ ہوئے کہ اس سے شادی رچانے پر تیار ہو گئے۔

نواب واجد علی شاہ۔

تاہم اس وزیراں نامی لڑکی کی والدہ بی جان ایک طوائف تھیں اور وہ کسی صورت اپنی بیٹی کی شادی نواب صاحب سے کرانے پر راضی نہ تھیں۔ بی جان کے انکار نے نواب واجد علی شاہ کی آتش عشق کو مزید بھڑکادیا۔

نواب صاحب وزیراں کے عشق میں کچھ ایسے گھلے کہ ایک بار انہوں نے خودکشی کے بارے میں بھی سوچا تاہم حالات نے کچھ یوں پلٹا کھایا کہ نواب صاحب کی وزیراں سے خفیہ ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، دونوں نے ایک مہینے تک خفیہ ملاقاتیں کیں اور بالآخر نواب واجد علی شاہ وزیراں سے شادی کرنے میں کامیاب ہوئے اور اپنی نئی بیوی کو انہوں نے ’نگار محل‘ کے خطاب سے نوازا۔

تاہم وزیراں کی والدہ بی جان اس شادی کی مخالفت کرتی رہیں۔ نواب واجد علی شاہ کے حُکم پر بی جان کو قید میں تو ڈال دیا گیا مگر نواب صاحب نے اُنہیں اس شادی پر قائل کرنے کی کوششوں کو ترک نہ کیا۔ اس کے باوجود بی جان نے اس شادی کو منظور نہ کیا تو ان کی بیٹی وزیراں نے اپنی ماں سے ترک تعلق کرلیا۔

روی بھٹ اپنی اسی کتاب کے صفحہ نمبر 187 میں مذکور ہیں کہ لکھنؤ کو نوابین اودھ کے دورِ اقتدار میں برِصغیر کا امیر ترین شہر گردانا جاتا تھا۔ اس ریاست کے نوابین کی دولت و ثروت اور جاہ و حشم کے قصے زبان زدِ عام ہیں لیکن اس لکھنو شہر کا ایک تاریک پہلو بھی تھا کہ اس شہر میں بسنے والے عام افراد کی زندگیاں کس قدر ناگفتہ بہ صورت حال سے دوچار تھیں۔ غربت، افلاس اور کسمپرسی کی جیتی جاگتی تصویریں اس لکھنو شہر میں دیکھی جاسکتی تھیں جس کے نوابین کی دولت کے قصے آج تک یاد کیے جاتے ہیں۔

میجر ای سی آرچر اپنے ایک سفرنامے ’Tours in Upper India‘ میں کچھ یوں رقم طراز ہیں کہ ’میں نے 1827ء میں لکھنو کے ایک سفر کے دوران مرد و زن، بوڑھوں، بچوں اور جوانوں کو ان سکوں پر جھپٹے دیکھا جو نواب اودھ کے عمائدین کی جانب سے کھلے میدان میں پھینکے جاتے تھے جس میں ہاتھیوں کو کھلا چھوڑا ہوا تھا۔ یہ عام افراد ان سکوں کو لوٹنے کے لیے جب میدان میں اِدھر اُدھر بھاگتے تو ان ہاتھیوں کے نیچے آکر کچلے جاتے۔

Read Comments