اپ ڈیٹ مارچ 09, 2018 09:33am

’جام ساقی، آپ کسی دن مروائیں گے’

اختر بلوچ

جام ساقی ... محمد جام نے جب یہ نام اختیار کیا تو اسے اندازہ نہیں تھا کہ اردو میں جب اسے پکارا جائے گا تو وہ میکدے کے ساتھ جُڑ جائے گا، لیکن اس جام اور ساقی کی زندگی کا زیادہ وقت میکدے کے بجائے زندان میں گزرا۔

اُن کا علاقہ اس قدر پُرامن تھا کہ اُن کی پہلی جیل کے وقت تھر میں ‘جھنجین جو تڑ‘ نامی اُن کے گاؤں کے لوگوں کو یہی پتہ تھا کہ جیل صرف ایسے لوگ جاتے ہیں جنہوں نے قتل یا چوری جیسا کوئی سنگین جرم کیا ہو۔ کوئی سیاسی نظریات کی وجہ سے بھی پکڑا جاسکتا ہے یہ اُن کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔

کہا جاتا ہے کہ لوگ اکثر جام ساقی کی شریکِ حیات سکھاں کو بتاتے تھے کہ اُن کے شوہر پر بہت زیادہ تشدد کیا جا رہا ہے۔ جب یہ اطلاعات تسلسل کے ساتھ آنے لگیں تو مایوس ہوکر سکھاں نے کنوئیں میں کود کر خودکشی کرلی۔ تھر کے کنوئیں ایک ہزار فٹ گہرے ہوتے ہیں۔ گہرائی، اندھیرا اور کنوئیں میں گرے ہوئے سانپ، تاریک راہوں میں مارے جانے والوں کی زندگی بھی ایسے ہی گزرتی ہے۔ ایسے عالم میں صدیوں کے پیاسے تھر کو جام بھی مل رہا تھا اور ساقی بھی۔

جام ساقی کی شہرت کی شروعات کب ہوئی اور کب وہ مظلوموں کے ساتھی اور ہمدرد بن کر منظرِ عام پر آئے؟ اس بارے میں مختلف روایتیں ہیں، لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے وقت جام ساقی مزاحمت کی آواز بن کر اُبھرے اور پاکستان کے سیاسی و سماجی منظر نامے پر ایک مضبوط و توانا آواز بن کر چھا گئے۔ جام ساقی نے 7 مرتبہ جیل یاترا کی، پہلی مرتبہ 4 مارچ 1967ء میں گرفتار ہوئے، وہ ضیاء حکومت میں سب سے طویل عرصہ، 8 برس پسِ زنداں رہے۔

'ضمیر کے قیدی' نامی تصنیف کے مصنف نثار حسین رقم طراز ہیں کہ،

مجھے ایک اور انوکھا واقعہ یاد ہے۔

سابق صدر یحییٰ خان کے دور میں بھی جام ساقی مسلسل جبر و ستم کا شکار رہے۔ حتیٰ کہ ایک بار ان کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم صادر کر دیا گیا تھا۔

احمد سلیم اور نزہت عباس اپنی تحقیقاتی کتاب ’جام ساقی، چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی‘ میں جام ساقی کی زندگی میں پیش آنے والے مختلف واقعات پر کچھ یوں رقم طراز ہوتے ہیں،

مسلسل روپوشی میں 1972ء آگیا۔ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی نیپ کی حکومتیں بن چکی تھیں۔ بلوچستان میں جام کے دوست میر غوث بخش بزنجو گورنر بن چکے تھے۔ اب جام نے روپوشی ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ آریسر والی مسجد میں گئے اور داڑھی وغیرہ صاف کی۔ اُس وقت ہوٹل شمریز میں کامریڈ غلام محمد لغاری اور سید باقر علی شاہ نیپ کی طرف سے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ یہ وہاں پہنچ گئے لیکن طلباء اور سیاسی رہنماؤں کی موجودگی میں پولیس انہیں گرفتار کرنے کی جرات نہ کرسکی۔ وہاں سے وہ یونیورسٹی کی بس میں بیٹھ کر ہوسٹل گئے اور رات جلسے سے خطاب کیا۔ دوسرے دن نواب شاہ چلے گئے جہاں نیپ اور ہاری کمیٹی کا مشترکہ جلسہ ہونا تھا۔ ان کی شرکت نیپ اور مزدور محاذ کی طرف سے تھی۔ انہوں نے بولنا شروع ہی کیا تھا کہ پولیس، جو اس بار پوری تیاری کرکے آئی تھی، نے اُنہیں دھر لیا۔ یحییٰ خان کی حکومت نے اُن کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے لیکن پیپلز پارٹی کی سویلین مارشل لاء حکومت کی پولیس انہیں گرفتار کیے بغیر نہ رہ سکی۔

جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ہے کہ روپوشی کے اس طویل دور میں جام ساقی نے داڑھی بڑھا لی تھی اور تبلیغی جماعت والوں کا رنگ ڈھنگ اختیار کرلیا تھا۔ اگرچہ انہیں 1978ء سے پہلے گرفتار نہ کیا جاسکا لیکن کئی مرتبہ اُن کے کمیونسٹ دل اور انسان دوستی کے جذبات انہیں گرفتاری کی طرف لے گئے تھے۔ اس عرصے میں راقم الحروف سے بھی ایک دو بار ملاقات ہوئی تھی۔ وہ اسی حلیے میں تھے لیکن انہوں نے ٹوٹے ہوئے چپل پہنے ہوئے تھے، میں نے مُسکرا کر کہا تھا،

ایک روز کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ

جام ساقی کے انتقال سے سیاست و سماج سے رواداری، روشن خیالی اور جمہوریت پسندی کا ایک درخشاں باب بند ہوگیا۔ جام ساقی منوں مٹی کی چادر اوڑھ کر تہہ خاک ہوگئے لیکن وہ ان لوگوں میں شامل تھے جو اپنے نام اور کام کے حوالے سے منفرد تھے۔ جام ساقی، پاکستان میں عوامی جدوجہد کرنے والوں میں سرِ فہرست ہیں۔ غیر طبقاتی سماج کے لیے جہدِ مسلسل کرنے والے جام ساقی نے کبھی مفاہمت نہیں کی اور نہ کبھی اپنے نظریے اور اصولوں کو قربان کیا۔

وہ پاکستان کی عوامی تاریخ کا ایک ایسا کردار ہیں جو آج نہیں تو کل اس دھرتی پر انقلاب کا تسلسل ثابت ہوں گے۔


— تصاویر بشکریہ کتاب جام ساقی: چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

Read Comments