شائع ستمبر 01, 2018 11:23am

منقسم اپوزیشن: اناؤں کی تکرار، مجبوریاں یا سیاسی بصیرتوں کا فقدان؟

عامر ریاض

سیاست ناممکن کو ممکنات کے دائرے میں لانے کا فن ہے مگر اس کام کے لیے اکثر کئی سمجھوتے بھی کرنے پڑتے ہیں۔ بعض اوقات یہ سمجھوتے گلے کا طوق بن جاتے ہیں مگر زیرک سیاسی کھلاڑی وہی قرار پاتے ہیں جو آزمائشوں میں سے گزرتے ہوئے نئے رستے ڈھونڈ نکالتے ہیں۔

دھاندلیوں کے خلاف بننے والا اپوزیشن کا سب سے طاقتور اتحاد اس وقت آزمائشوں میں گھرا ہوا ہے۔ دھاندلیوں کی کوکھ سے اس اتحاد کی یکدم پیدائش نے مبیّنہ طور پر چوری زدہ الیکشن کے خلاف عوام کی ڈھارس بندھانے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ 342 کے ایوان میں 150 ممبران کی اپوزیشن کا مطلب یہی تھا کہ اگر ان کے ساتھ 22 ممبران مزید مل جائیں تو یہ حکومت ہی بدل سکتے ہیں، مگر اس اتحاد کے ابتدائی اجلاسوں میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلز پارٹی کے پردھان لیڈروں یعنی آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی مسلسل غیر حاضریاں ہر ایک کو کھٹکتی بھی رہیں۔

یہی وہ خلیج تھی جس کو بروقت پاٹنے کی ضرورت تھی۔ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے انتخاب تک تو یہ اتحاد قائم رہا مگر اس کے بعد اس کو 'اپنوں' کی نظر لگ گئی۔ اپنوں میں محض اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتیں ہی شامل نہیں بلکہ اس میں مقدموں اور پیشیوں کی بارات کا بھی ہاتھ ہے جو برابر سب کا منہ چڑا رہی ہیں۔

پڑھیے: اپوزیشن میں اختلاف کی ذمہ دار (ن) لیگ اور میڈیا ہے، کائرہ

کیا مسئلہ محض مجبوریوں کا ہے یا کہیں اناؤں کی تکرار جاری ہے؟ یا پھر سیاسی بصیرتوں کے فقدان نے پانسہ پلٹنے میں کردار ادا کیا ہے؟ یہ سوال ہنوز توجہ طلب ہیں کہ 'کنٹرولڈ' میڈیا اس بارے میں 'اندر کی خبر' دینے سے بوجوہ قاصر ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ کیا پی پی پی کو اس 'خدمت' کے بعد چھٹکارہ مل جائے گا؟

واقعات کے تسلسل کو بنظر غائر دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ وہ کھیل جو مسلم لیگ (ن) کی بلوچستان حکومت کے دھڑن تختے سے بظاہر زرداری صاحب کے دوست ڈاکٹر سومرو کے 'وسیلے' سے شروع ہوا تھا وہ کسی نہ کسی شکل میں بعد از انتخابات تاحال جاری ہے۔ کیا یہ کھیل نئے چیئرمین سینیٹ کے انتخاب اور ضمنی انتخابات تک جاری رہے گا؟ یہ ہے وہ سوال جو آج سب کے روبرو ہے۔

جس دباؤ کا آج پیپلز پارٹی کو سامنا ہے وہ کوئی انہونی بات نہیں کیونکہ ماضی میں یہ پارٹی کئی بار ایسے دباؤ سے گزر چکی ہے۔ یہ بھی درست ہے کہ آج مسلم لیگ (ن) پر اس سے کہیں زیادہ دباؤ ہے۔ مگر ایسے دباؤ کا مقابلہ صرف اور صرف سیاسی میدان ہی میں کیا جا سکتا ہے۔ اقامہ والے فیصلے کے بعد بڑی حد تک میاں نواز شریف نے سیاسی میدان میں بھرپور مقابلہ کیا ہے کہ جس دھج سے وہ اڈیالہ گئے اس نے ان کے ناقدین کو بھی ششدر کر ڈالا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ نامساعد حالات کے باوجود ان کی پارٹی کو بہت زیادہ ووٹ ملے۔ مگر ان کی غیر موجودگی میں آج اپوزیشن سیاسی میدان سجانے میں زیادہ کامیاب نظر نہیں آ رہی۔

لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آج پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں موجود خلیج اتنی ہی گہری و وسیع ہے جو بھٹو کی پھانسی کے بعد قومی اتحاد کی لیڈرشپ اور پیپلز پارٹی کے درمیان تھی؟

قومی اتحاد کے ایک بڑے رہنما اور تحریک استقلال کے بانی ایئر مارشل (ر) اصغر خان تو بھٹو کو کوہالہ کے پل پر بھانسی دینے کا اعلان فرما چکے تھے۔ پختونوں کے بڑے رہنما اور قوم پرست سیاست کے علمبردار خان عبدالولی خان تو بغضِ بھٹو میں اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے چل پڑے۔ بھٹو ابھی جیل ہی میں تھے اور پیشیاں جاری تھیں جب مرحوم ولی خان نے جنرل ضیاء کو پہلے احتساب کرنے اور پھر انتخاب کروانے کا سرِ عام مشورہ دیا تھا۔

پڑھیے: بھٹو کی پھانسی: انصاف یا عدالتی قتل؟

پیپلز پارٹی کے جیالوں پر قیامت کی گھڑیاں تھیں جبکہ قیادت چھپتی پھرتی تھی۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد تو حالات اور بھی زیادہ دگرگوں ہوچکے تھے اور ضیاء یہ سمجھتا تھا کہ پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں میں خلیج اس قدر زیادہ کردی گئی ہے کہ اب یہ اگلے 10 سال اکٹھے نہیں ہوں گے۔ یوں اس کا اقتدار بظاہر محفوظ ہوچکا تھا۔ مگر اس وقت نوابزادہ نصراللہ خان اور دیگر سیاسی اکابرین نے کمال سیاسی بصیرت سے بیگم نصرت بھٹو اور قومی اتحاد کے بیشتر لیڈروں کو ایک صفحہ پر اکٹھا کردیا تھا۔ سیاسی دباؤ تو اس وقت بھی تھا، پکڑ دھکڑ بھی جاری تھی، بس فرق اگر تھا تو یہ کہ بہت سے لیڈروں نے اپنی اناؤں، مجبوریوں اور تعصبات کو آڑے نہ آنے دیا اور سیاسی بصیرتوں کو مقدم جانا۔

بلاشبہ 25 جولائی کے بعد میاں نواز شریف کی کمی مسلم لیگ (ن) میں کچھ زیادہ ہی محسوس کی گئی۔ اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا تھا کہ مسلم لیگ (ن) قومی اسمبلی و سینیٹ ہی نہیں بلکہ سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں اپوزیشن اتحاد کی سب سے بڑی پارٹی تھی مگر اہم بات یہ تھی کہ اس وقت سب سے بڑی قربانی بھی مسلم لیگ (ن) ہی دے سکتی تھی جیسے بیگم نصرت بھٹو نے اپنے شوہر کے قتل کے متمنی سیاستدانوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک بڑی مثال قائم کی تھی۔

اگر میاں شہباز شریف یہ صلیب نہیں اٹھا سکتے تو مسلم لیگ (ن) میں ایسے بہت سے رہنما موجود ہیں جو یہ فریضہ سر انجام دے سکتے ہیں اور تاحال ناممکن کو ممکنات کے دائرے میں لانے کا کام ادھورا ہی ہے۔ تاہم صدر کے انتخاب کے بعد بھی 'ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں' والی بات موجود ہے۔

اگر سیاسی بصیرتوں کو مقدم رکھا گیا تو اپوزیشن مزید تقسیم سے بچ سکتی ہے بشرطیکہ مسلم لیگ (ن) نمبر گیم سے ہٹ کر سیاسی فیصلے کرے۔

سیاست کے فیصلے بند کمروں میں اگر کر بھی لیے جائیں تو یہ زیادہ پائیدار نہیں ہوتے۔ عوامی حمایت کے بغیر تو فوجیں بھی لڑ نہیں سکتیں، سیاستدانوں کا تو دار و مدار ہی عوامی حمایت پر ہوتا ہے۔ مگر اس عوامی حمایت کے لیے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ دو قدم آگے بڑھنے سے قبل ایک قدم پیچھے کرنا پڑتا ہے۔

اسی کو سیاسی بصیرت کہتے ہیں اور یہی اپوزیشن کا امتحان بھی ہے۔

Read Comments