نقطہ نظر

100 گیندوں کی کرکٹ لیگ: کیا انقلابی ہونے والا ہے؟

زندگی کی رفتار بہت تیز ہو رہی تھی۔ کرکٹ کو بھی اس کے ساتھ چلنا تھا، سو کھیل کی رفتار بھی بڑھانی پڑی۔

کبھی ٹیسٹ کرکٹ لامحدود دنوں تک چلتی تھی۔ 1939ء میں انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلے جانے والے 12 روزہ ٹیسٹ میچ کس کو یاد نہیں، جو بغیر نتیجے محض اس لیے ختم ہوگیا کہ ڈربن شہر سے واپسی والے بحری جہازوں کی روانگی کا وقت آ پہنچا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب لوگوں کے پاس کھلا وقت تھا۔ زندگی سکون سے مزین تھی۔ لیکن پھر وقت بدلتا گیا اور کھیل عوامی ہوتا گیا۔ عام آدمی کے مسائل بھی اس پر اثر انداز ہونے لگے۔

پہلے ایک روزہ کرکٹ کی صورت اس کھیل میں انقلابی تبدیلی آئی اور اس انقلاب کی معراج کیری پیکر سیریز تھی جس نے کھیل کو رنگینی بخش دی۔ دائرے کا قانون متعارف کرا دیا گیا۔ زندگی کی رفتار بہت تیز ہو رہی تھی۔ کرکٹ کو بھی اس کے ساتھ چلنا تھا۔ سو کھیل کی اپنی رفتار بھی بڑھانی پڑی۔ باؤلرز کے ہاتھ باندھے گئے۔ باؤنڈریز سمٹ گئیں۔ ایک روزہ میچ 60 اوورز سے کم کرکے 50 اوورز تک محدود کردیے گئے۔

لیکن یہ بھی کافی نہیں تھا۔ جہاں فٹبال جیسا کھیل 90 منٹ لیتا ہو وہاں ایک دن کے میچ کے لیے ہر کوئی وقت نہیں نکال سکتا تھا۔ سو کسی دل جلے نے کراچی میں ہونے والی رمضان کرکٹ لیگ کی جھلک دیکھ لی اور گورے نے 20 اوورز کی کرکٹ متعارف کروا دی۔ یہ کرکٹ میں سب سے بڑا انقلاب ثابت ہوا اور کھیل 20 ممالک سے نکل کر پوری دنیا میں تیزی سے مقبول ہونے لگا۔

کم وقت اور تیز رفتاری نے کھیل کی مقبولیت کو چار چاند لگا دیے۔ پھر چھکوں اور چوکوں کی برسات نے سنسنی بھی مہیا کردی۔ کسی بھی کھیل کی مقبولیت کے لیے اس کا سنسنی خیز ہونا بہت اہم ہے۔ چند سال پہلے جہاں 10 ممالک ٹیسٹ کرکٹ کھیلتے تھے اور 15 کے قریب ون ڈے اسٹیٹس رکھتے تھے، لیکن اب انٹرنیشنل کرکٹ کونسل آئی سی سی کی تمام ایسوسی ایٹ ٹیمیں جن کی تعداد 100 کے قریب بنتی ہے، وہ تمام ممالک اب ٹی20 انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے کے اہل ہوچکے ہیں۔ یہ انقلاب صرف ٹی 20 کی وجہ سے رونما ہوسکا ہے۔ نسبتاً غیر سنجیدہ ٹی 10 کرکٹ اس کے سوا ہے۔

تمہید لمبی ہوگئی۔ اصل مدعا یہ ہے کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کرکٹ میں ایک نیا فارمیٹ متعارف کرنے جارہا ہے، جسے 100 بالز کرکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ فارمیٹ کیا ہے کیسے چلے گا اس کا ایک جائزہ لیتے ہیں۔

ٹورنامنٹ کے لیے 8 مکمل نئی ٹیموں کا اعلان کیا گیا ہے اور یہ ٹیمیں 7 شہروں اور 18 کاؤنٹیز پر مشتمل ہوں گی۔

ٹورنامنٹ کے لیے کُل 570 کھلاڑیوں کو ڈرافٹ کیا گیا، جن میں سے 239 غیر ملکی تھے۔ جبکہ مقامی کھلاڑیوں کی تعداد 331 تھی۔ مقابلہ کافی سخت تھا کیونکہ 239 میں سے صرف 24 غیر ملکی کھلاڑی ہی سلیکٹ ہوسکتے تھے۔ یعنی ہر 10 میں سے صرف ایک۔

اس لیگ میں کھلاڑیوں کو 6 مختلف کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی کیٹیگری میں موجود کھلاڑیوں کو ایک لاکھ 25 ہزار برطانوی پاؤنڈز ملیں گے تو سب سے نیچے والی کیٹیگری میں موجود کھلاڑیوں کو 40 ہزار پاؤنڈز۔

ایک لاکھ 25 ہزار والی کیٹیگری میں صرف 6 کھلاڑی شامل کیے گئے جن میں کوئی پاکستانی شامل نہیں تھا۔ کرس گیل، لاستھ ملنگا، کگیسو ربادا، اسٹیون اسمتھ، مچل اسٹارک اور ڈیوڈ وارنر کو اس کیٹیگری میں جگہ دی گئی ہے۔

ایک لاکھ برطانوی پاؤنڈ کی کیٹیگری میں پاکستان سے صرف محمد عامر کو ہی جگہ مل سکی ہے۔ اس کیٹیگری میں ٹوٹل 17 نامور کھلاڑیوں کے ساتھ سب سے حیران کن انٹری سندیپ لمی چن کی تھی جو نیپال سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ لاہور قلندرز کی طرف سے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) بھی کھیل چکے ہیں اور انہیں اوول انونسیبلز نے منتخب بھی کرلیا ہے۔

بابر اعظم، محمد حفیظ اور شاداب خان 75 ہزار والی کیٹیگری میں شامل کیے گئے۔ فخر زمان اور حسن علی کو سب سے ہلکی کیٹیگری 40 ہزار پاؤنڈ میں رکھا گیا، جبکہ احمد شہزاد، سہیل تنویر، امام الحق اور جنید خان سمیت 17 کھلاڑی ایسے تھے جن کی کوئی بنیادی قیمت مقرر نہیں کی گئی۔

ویسے تو کُل 34 پاکستانی کھلاڑی اس ڈرافٹ کا حصہ تھے، مگر صرف 3، جی ہاں صرف 3 کھلاڑی ہی منتخب ہوسکے۔ محمد عامر کو لندن اسپرٹ نے اپنی ٹیم میں شامل کیا ہے۔ پاکستانی کی طرف سے دوسرے کھلاڑی شاداب خان ہیں جنہیں 75 ہزار برطانوی پاؤنڈز کے عوض سدرن بریو نے اپنی ٹیم میں شامل کیا جبکہ تیسرے شاہین شاہ آفریدی ہیں جنہیں برمنگھم فونیکس نے اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ ان کی خدمات 60 ہزار پاؤنڈز کے عوض حاصل کی گئی ہیں۔

بابر اعظم جو اس بار انگلش کاؤنٹی میں سب کو دیوانہ کرگئے تھے، اور کوارٹر فائنل سے پہلے ہی وطن واپس آنے کے باوجود اس ایونٹ میں ٹاپ اسکور رہے تھے، حیران کن طور پر انہیں کسی ٹیم نے بھی سلیکٹ نہیں کیا۔ بظاہر اس کی وجہ ان کی قومی مصروفیات ہیں۔

پاکستان کی طرف سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ لیگز کھیلنے والے شعیب ملک کو بھی سلیکٹ نہیں کیا گیا حالانکہ وہ دستیاب بھی ہوں گے اور حال ہی میں ان کی کپتانی میں کیریبین پریمئیر لیگ کی ٹیم گیانا امیزون وارئیرز نے مسلسل 10 میچ جیت کر فائنل تک رسائی بھی حاصل کی تھی۔ شاہد آفریدی جو انگلینڈ میں بہت زیادہ مقبول ہیں انہیں بھی کسی ٹیم نے منتخب نہیں کیا۔ شارٹ فارمیٹ کے سب سے بڑے ہیرو کرس گیل کا عدم انتخاب بھی کسی اچنبھے سے کم نہیں ہے۔ مسترد ہونے والے صرف گیل ہی نہیں بلکہ مالنگا اور کیرون پولارڈ جیسے بڑے ناموں کو بھی کسی ٹیم نے انتخاب کے قابل نہیں سمجھا۔ دورِ حاضر کے ایک اور بڑے آل راؤنڈر شکیب الحسن کو بھی عدم انتخاب کا سامنا کرنا پڑا۔

ٹورنامنٹ کے قوانین کافی دلچسپ ہیں۔ سب سے دلچسپ اکھٹے 10 گیندیں پھینکنے والا قانون ہے۔ کوئی بھی ٹیم اپنا سب سے بہترین باؤلر آخری 10 گیندوں کے لیے بچا سکتی ہے اور میچ کا پانسہ بھی پلٹ سکتی ہے۔

ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ 4، 5 اور 8 قانونی گیندوں پر مشتمل اوورز رہے ہیں مگر ایسا پہلی بار ہورہا ہے۔ لیکن یہاں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس قدر جارحانہ کرکٹ میں کسی بھی کھلاڑی کے لیے ایک ساتھ 10 گیندیں کروانا ہرگز آسان کام نہیں ہوگا۔ تاہم کپتان کے پاس موقع ہوگا کہ وہ 5 گیندوں کے بعد باؤلر تبدیل کرلے اور اس پوری صورتحال میں کوچز کا کردار بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔

بہرحال اس تبدیلی کو ہم پسند کریں یا نہیں، وقت کے ساتھ ساتھ مزید بھی بہت کچھ بدلتا رہے گا، اس لیے یہ امید رکھنی چاہیے کہ ان تبدیلیوں سے کھیل کی تزویراتی خوبصورتی مزید نکھرے گی۔ ابھی اس فارمیٹ کی بہت ساری خوبیاں اور خامیاں ہمارے سامنے آنے والی ہیں۔ فی الحال اشتیاق صرف یہ ہے کہ پردے سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔

محسن حدید

محسن حدید کرکٹ سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں اور مختلف اخبارات اور ویب سائٹ کے لیے لکھتے ہیں۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔