بولی وڈ کی دس منتخب انقلابی فلمیں
بولی وڈ میں ہمیشہ سے نت نئے موضوعات پر فلمیں بنتی رہی ہیں، تاہم انقلابی جوش و جذبے سے بھرپور فلمیں بہت کم نظر آتی ہیں، ایسی ہی دس فلموں کی فہرست ہندوستان ٹائمز نے ترتیب دی ہیں، جو اس کے خیال میں انقلابی روح کی حامل ہیں۔
فلمساز و ہدایت کار پرکاش جھا کی پولیٹیکل ایکشن تھرلر فلم ستیا گرہ ڈیمو کریسی انڈر فائر میں امیتابھ بچن اورکرینہ کپور خان کے ساتھ اجے دیوگن، ارجن رامپال، منوج باجپائی اور امریتا راؤ اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
کرپشن اور سماجی ناانصافیوں کے خلاف متوسط طبقے کی بغاوت کے گرد گھومتی اس فلم میں کرینہ کپور کو بین الاقوامی صحافی کے روپ میں دکھایا گیا ہے جسے پرکاش جھا کے ساتھ رونی سکریو والا اور سدھارتھ رائے کپور نے مشترکہ طور پر پروڈیوس کیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ فلم کس حد تک کامیابی کے جھنڈے گاڑتی ہے۔
ماضی میں پیش کی گئی انقلابی فلموں کی فہرست کچھ یوں رہی۔
ایسی پہلی فلم 1934 میں ریلیز ہونے والی امرت منتھن ہے جس میں اس زمانے کی ایک برائی اور انسانی قربانی جیسے حساس موضوع کو چھیڑا گیا ہے۔ یہ فلم کرانتی ورما نامی بادشاہ اور ہندو پنڈت کی باہمی جنگ کے گرد گھومتی ہے، کیونکہ بادشاہ انسانی قربانی پر پابندی لگانا چاہتا ہے جبکہ پنڈت اس کی مخالفت کرتے ہوئے کرانتی ورما کے قتل کے درپے ہوتا ہے۔
دوسرے نمبر پر دیویکا رانی اور اشوک کمار کی 1936 کی بلاک بسٹر اچھوت کنیا ہے، جس میں ہندوستان کے ذات پات کے نظام پر روشنی ڈالی گئی، جو اس زمانے میں ہندی معاشرے کا انتہائی حساس موضوع تھا۔ یہ فلم ایک دلت لڑکی کستوری کی اونچی ذات کے برہمی شخص سے محبت کے گرد گھومتی ہے۔
انیس سو چوّن کی فلم بوٹ پالش راج کپور کی وہ انقلابی فلم ہے جو بچوں کی مشقت کے مسئلے پر روشنی ڈالتی ہے، یہ فلم دو یتیم بچوں کے گرد گھومتی ہے جنھیں ان کی رشتے دار زبردستی بھیک مانگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ ایک شخص انہیں ذاتی احترام کی تعلیم دیتا ہے اور یہ بچے بھیک مانگنے کی بجائے کام کرنے لگتے ہیں۔
اسی طرح راج کپور پروڈکشن کی 1956 کی فلم جاگتے رہو چوتھے نمبر پر موجود ہے، جس میں ہندوستان کے متوسط طبقے کی کرپشن کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا۔ ایک غریب کسان شہر میں کام کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے، اس دوران وہ حادثاتی طور پر ایک اپارٹمنٹ بلڈنگ میں داخل ہوجاتا ہے اور وہاں کے رہائشی اسے چور قرار دے دیتے ہیں، لوگوں سے بچنے کیلئے وہ ایک سے دوسرے فلیٹ میں چھپتا ہے، جس دوران وہ ان فلٹیس کے متعدد تاریک گوشوں سے واقف ہوجاتا ہے۔
ہدایت کار محبوب خان کی 1957 میں ریلیز ہونے والی فلم مدر انڈیا ان ہی کی 1940 کی بلیک اینڈ وائٹ فلم عورت کا کلر ریمیک تھا۔ اس فلم میں نرگس، سنیل دت، راجندر کمار اور راجکمار کی اداکاری، ہدایت کار کی گرفت اور ڈراما ایسا بھرپور تھا کہ اس کی عظمت کو اب تک کوئی فلم نہیں چھو سکی اور یہ وہ پہلی ہندی فلم تھی جو آسکر کے لئے نامزد ہوئی اور فہرست میں پانچویں نمبر رہی۔
چھٹے نمبر پر موہن کمار کی 1962 میں بنی فلم ان پڑھ میں مالا سنہا، بلراج ساہنی اور دھرمندر نے مرکزی کردار نبھائے، جس میں لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا کہ کس طرح ان پڑھ لڑکی کو اپنی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے اور وہ لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محروم ہونے کے باعث کافی مشکل میں رہتی ہے۔
کرانتی ویر 1994 کی بلاک بسٹر ہٹ ثابت ہوئی اس فلم میں انصاف کی لڑائی دکھائی گئی جبکہ نانا پاٹیکر نے بے ساختہ اداکاری کر کے فلم کو کامیاب بنانے میں اہم کردار ادا کیا، ان کے ہمراہ ڈمپل کپاڈیہ تھیں جو انصاف کے موضوع پر کالم لکھتی تھیں اس کے علاوہ سیاست کا گھن چکر، پولیس کی عوام کے ساتھ بد سلوکی اور کرپشن کا بے جا کا استعمال دکھایا گیا، کرانتی ویر ساتویں نمبر پر جگہ بنانے میں کامیاب رہی۔
آٹھویں نمبر پر آشوتوش گواریکر کی سوادیس ان کی کامیاب ترین فلم رہی جس میں کنگ خان نے مرکزی کردار ادا کیا۔ 2004 میں بننے والی اس فلم میں شاہ رخ ناسا کے پروجیکٹ مینیجر تھے ان کے ہمراہ گائیتری جوشی نے اداکاری کے جوہر دکھائے، طویل عرصے امریکہ میں رہنے کے بعد وہ اپنے گاؤں کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ چائلڈ میرج، جبری مشقت، اور گاؤں کے بنائے گئے بے جا قوانین کے خلاف لڑتے ہیں۔