نقطہ نظر

قانون سے بالاتر؟

اعلی عدلیہ کیلئے یہ ضروری ہے کہ اپنی صفوں میں احتساب کا ایک انتہائی اعلیٰ معیار تشکیل دے

حالیہ ہفتوں میں، پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ بلکہ خود چیف جسٹس کی اپنی ذات، تابڑ توڑ حملوں کی زد میں آئی ہوئی ہے-

ایسا لگتا ہےکہ الزام صرف یہ نہیں ہے کہ عدلیہ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی آزادی اور اختیارات میں مداخلت کی ہے بلکہ یہ سب اس لئے کیا ہے کہ نوازشریف کی حکومت کو خصوصی سہولتیں فراہم کی جائیں-

ان الزامات کیلئے وقت کا انتخاب بھی اتنا ہی دلچسپ ہے جتنے کہ خود یہ الزامات- چھ سال سے زیادہ عرصہ تک، تمام سیاست دان، مبصرین اورعوام نے عدلیہ کو ہر بات کی اجازت دی ہے کہ وہ اپنی آزادی کو بروئے کار لانے کی خاطر جو چاہے کرے- تو پھر آخر اب کیا ہو گیا؟

میرا خیال ہے کہ تین چیزوں میں بدلاؤ آیا ہے: ملک کی سیاسی صورت حال میں، حالات کے حوالے سے لوگوں کے شعور میں اور خود عدلیہ میں-

2007 میں جب وکلاء اور سول سوسائٹی سڑکوں پرنکل آئے تھے تو وہ مشرف سے پیچھا چھڑانے کیلئے تیار ہو کر آئے تھے- عدلیہ کی آزادی، کچھ لوگوں کی تمنا تو ہو سکتی تھی لیکن زیادہ تر اس کا مقصد، ہجوم کو جوش دلانے کیلئے ایک کارآمد نعرہ تھا-

حقیقت میں، لوگوں کوعدلیہ سے آزادی کی امید کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی- لوگوں کے ذہن میں ظفر علی شاہ کیس کی یاد ابتک تازہ تھی جس میں چیف جسٹس نے خود (ایک بڑے بنچ میں جونیرجج کے طور پر) مشرف کی 1999 کی بغاوت کو جائز قرار دیا تھا نیز پی سی اوز کے تحت انکے کئی حلف اور متعدد مقدمات، جن میں عدلیہ نے مصلحتوں کے پیش نظر اپنی آزادی کی قربانی بخوشی دی-

مان لیتے ہیں کہ مشرف کے خلاف چیف جسٹس کا موقف ایک امید افزا بات تھی لیکن یہ اس بات کی ضمانت تو نہیں تھی کہ مستقبل میں بھی عدلیہ ہمیشہ اپنے آئینی مینڈیٹ کے مطابق عمل کریگی-

آج کی سیاسی صورت حال 2007 کے مقابلے میں بالکل مختلف بلکہ برعکس ہے- پاکستان نے آج ایک جمہوری حکومت کو اپنی حکمرانی کی مدت پوری کرتے اور دوسری جمہوری حکومت کونسبتاً پرامن اقتدار منتقل کرتے دیکھا ہے- اس نے فوج کے سربراہ کو ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیز عدلیہ کو انتظامیہ کے دباؤ سے آزاد ہو کر کام کرتے ہوئے بھی دیکھا ہے-

عدلیہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ بھی کیا جس میں ایک موجود صدر کے اوپر فوجداری کارروائیوں کی بنا پر مسلسل خوف اور تذبذب کی کیفیت، ایک وزیراعظم کی توہین عدالت کی بنا پر برطرفی اور حکومت وقت کے بہت سارے احکام غیرقانونی قرار دیکر انکی منسوخی بھی شامل ہے-

جبکہ پورا ملک عدلیہ کے ان اقدامات کا حامی رہا ہے، کیونکہ ان کی نظر میں زرداری کی حکومت ایک بدعنوان حکومت تھی اور ان تجربوں سے گزرتے ہوئے، عدلیہ کو طاقت کے تین ستونوں کے تصور اور ہر ایک کے مخصوص رول کا بھی ادراک ہوا-

اس کی سب سے زیادہ منفرد سوچ یہ تھی کہ عدلیہ کی آزادی اس کی آخری منزل نہیں ہے بلکہ اسکے ذریعہ ایک منصفانہ معاشرے کی تشکیل اس کا مقصد ہونا چاہئے-

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے کوشش کی کہ وہ ان امیدوں پر پوری اترے اور اس نے زیادہ مقدمات لینے شروع کر دیے اور ایسے فیصلے صادر کئے جو عام لوگوں کو پسند آتے تھے-

کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ ان فیصلوں نے عوام کو فائدہ پہنچانے سے زیادہ عدلیہ کی امیج کو بہتر کیا ہے- ان کا کہنا تھا کہ اگر واقعی اعلیٰ عدلیہ عوام کی بہتری کی خواہشمند ہوتی تو وہ نچلی عدالتوں کو زیادہ اختیارات دیتی جن کے پاس عوام کی بڑی تعداد اپنے قضئے لیکر جاتی ہے- بجائے اسکے صرف چند لوگوں کے معاملات پر ان کی توجہ تھی جو سیدھے سپریم کورٹ چلے جاتے ہیں یا جو مقدمات سپریم کورٹ کی سووؤ موٹو ایکشن کے نتیجے میں وہاں ہوتے ہیں-

آئین کے مطابق نچلی عدالتیں، اعلیٰ عدلیہ اوراس کے سربراہ کے طور پر چیف جسٹس کے ماتحت ہوتی ہیں اور جبکہ سالانہ جوڈیشل کانفرنس کے موقع پر ہر سال، اعلیٰ عدلیہ نچلی عدالتوں کے نمٹائے ہوئے مقدموں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی رپورٹ پیش کرتی ہے تو اس کے باوجود حقیقت وہی رہتی ہے کہ اس نے صحیح معنوں میں کارکردگی کو بہتر کرنے کی سمت میں بہت کم کام کیا ہے-

ڈسٹرکٹ اورسیشن ججزکو بھی شکایت ہے کہ ان پر مقدموں کو جلد از جلد نمٹانے کیلئے بہت دباؤ ہے- محض تعداد بڑھانے کی خاطر، اس بات سے قطع نظر کہ انفرااسٹرکچر سپورٹ کا معیار گھٹیا اور ناکافی ہے، وکلاء جو سیاست زدہ اور بے لگام ہو گئے ہیں، ان کے ہاتھوں برا برتاؤ برداشت کرنا پڑتا ہے-

نچلی عدلیہ کو نظر انداز کرنے کا سیدھا مطلب عام آدمی کو نظر انداز کرنا ہے جو بہت تیزی سے ان سرخیوں سے تنگ آ رہا ہے جو پورے ملک میں مکمل انصاف کا ڈھنڈورا پیٹتی ہیں-

سب سے منفرد تبدیلی جو آئی ہے وہ خود عدلیہ کے رویہ میں آئی ہے جس نے ایسا لگتا ہے کہ انکساری اور نرم روی کے بجائے سخت گیری اور خودسری کا طریقہ اپنا لیا ہے-

چیف جسٹس کی بحالی اور پی سی او ججز کی برطرفی کے بعد وکلاء اور عوام کو یہ امید تھی کہ اعلیٰ عدلیہ نے دو سبق ضرور سیکھے ہونگے- ایک یہ کہ انتظامیہ یا فوج کی طرفداری کرنے سے نہ تو اس کو عزت ملیگی اور نہ ہی تحفظ- اور دوسرے یہ کہ اسکو خود اپنی کارگزاریوں پر کڑی نظر رکھنی ہو گی تا کہ کوئی اس کے کردار پر آئندہ انگلی نہ اٹھا سکے-

یہ دو سبق اسلئے بہت اہم ہیں کہ عدلیہ نہ صرف بے لگام انتظامیہ کی بیجا زیادتیوں کا راستہ روک سکتی ہے بلکہ ایک قانون ساز کا رول بھی ادا کر سکتی ہے اور وہ بھی بغیر کسی جمہوری مینڈیٹ کے- یہی آخرالذکر رول ہے جس کی وجہ سےعدلیہ کا احتساب ناگزیر ہے-

تاہم ایسا لگتا ہے کہ جس طرح عدلیہ نے اپنی آزادی کو اپنے سینے سے لگا لیا ہے، وہ عدلیہ کی جواب دہی کے اصولوں کے ساتھ اپنے عہد کا اظہار بالکل اسی طرح کرنے میں ناکام ہو گئی ہے-

اعلی عدلیہ کیلئے یہ ضروری ہے کہ اپنی صفوں میں احتساب کا ایک انتہائی اعلیٰ معیار تشکیل دے- اس کے لئے اسکو ایک اندرونی مکینزم ترتیب دینا ہو گا جو تمام فیصلوں کے معیار اور انکی سمت پر نظر رکھے اور انتہائی اقدام کے طور پر ضرورت پڑے تو سپریم جوڈیشل کونسل سے بھی مدد لے-

یہ سب کرنے کے بجائے عدلیہ نے اپنی 2007 کی شہرت کی لہر سے فائدہ اٹھانا چاہا اور اپنے آپ کو اپنے ناقدوں سے بالکل دور کر دیا- نتیجتاً وہ اپنی عوام کی بڑھتی ہوئی بے چینی اور اضطراب سے بے خبر رہی جن کے حقوق کی علمبرداری کا اس نے وعدہ کیا تھا-

اب بھی وقت ہے کہ عدلیہ خود کو یاد دلائے کہ حقیقی اور سچا استحقاق اسی وقت ممکن ہے جبکہ خودمختاری اور جواب دہی کے درمیان توازن قائم ہو اور یہ کہ دیگر ریاستی اداروں پر اسکی سخت تنقید کہ وہ اپنے اپنے قانونی دائروں میں رہکر کام کریں، اسی وقت معنی خیز ہوسکتی ہے جب کہ وہ خود بھی سختی کے ساتھ اپنے اوپر اس کا اطلاق کرے-


ترجمہ: علی مظفر جعفری۔

امبر ڈار
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔