پاکستان کی نیہا منکانی ٹائم میگزین کی 100 کلائمیٹ فہرست میں شامل
صوبہ سندھ سے تعلق رکھنے والی مڈ وائف (دائی) نیہا منکانی کو شہرہ آفاق جریدے ’ٹائم‘ نے اپنی سالانہ کلائمیٹ فہرست میں شامل کرلیا، وہ مذکورہ فہرست میں شامل واحد پاکستانی خاتون بنیں۔
ٹائم میگزین کی جانب سے جاری کردہ ’ٹائم 100 کلائمیٹ 2025’ کی فہرست میں نیہا منکانی کو ’ڈیفینڈر‘ کی حیثیت یا فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
فہرست میں شامل واحد پاکستانی مڈ وائف نے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جدوجہد میں سی ای اوز، وزراء، سربراہان مملکت اور یہاں تکہ حتیٰ کہ پوپ لیو XIV جیسے بڑے ناموں کے ساتھ جگہ بنائی۔
نیہا منکانی کا ’ماما بیبی فنڈ‘ منصوبہ جو ساحلی اور موسمیاتی بحران زدہ علاقوں میں خواتین اور بچوں کو جان بچانے والی سہولیات فراہم کرتا ہے، دس سال پہلے ایک چھوٹے سے فنڈ کے طور پر شروع ہوا تھا۔
اب یہ تنظیم کراچی کے باہر بابی آئی لینڈ پر کلینک بھی چلا رہی ہے، جہاں گزشتہ سال 4,000 حاملہ خواتین کا چیک اپ کیا گیا اور 200 نوزائدہ بچوں کا ’این آئی سی‘ میں علاج کیا گیا۔
یہی تنظیم ایک ایمبولینس بوٹ بھی چلاتی ہے جو مریضوں کو کیماڑی ہسپتال پہنچاتی ہے۔
ٹائم میگزین کو دیے گئے انٹرویو میں نیہا منکانی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی فرنٹ لائن پر موجود برادریوں میں خواتین سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں، ان کے مسائل کو زیر بحث تک نہیں لایا جاتا۔
انہوں نے بتایا کہ ماؤں کی دیکھ بھال ایک کم لاگت، قابل رسائی حل ہے جو پاکستان جیسے ملک میں بڑے صحت بحران کا شکار ہے، یہاں نوزائدہ بچوں کی اموات کی شرح دنیا میں سب سے زیادہ ہے مگر اس باوجود پالیسی فریم ورک میں اسے شامل نہیں کیا جاتا۔
ٹائم میگزین کی فہرست سے قبل نیہا منکانی نے 2023 میں بی بی سی کی ’100 خواتین‘ کی فہرست میں جگہ بنائی تھی، جہاں ان کا نام مشیل اوباما، ایمل کلونی اور ہدہ کیٹن جیسی عظیم خواتین کے شامل تھا۔ اس کے علاوہ انہیں امریکا کے پاکستان مشن سے ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
ان کا ’ماما بیبی فنڈ‘ 2015 میں قائم کیا گیا، جو مالی امداد کے ذریعے حمل اور بعد از زچگی اور نوزائدہ بچوں کی صحت کی سہولیات فراہم کرتا ہے۔
نیہا منکانی جو انٹرنیشنل کانفیڈریشن آف مڈ وائیوز میں ہیومینیٹرین انگیجمنٹ اینڈ کلائمیٹ ایڈوائزر بھی ہیں نے کراچی کے ہائی رسک وارڈ میں 16 سال کام کیا، جہاں سے انہوں نے ساحلی جزیروں کی خواتین کی ضروریات کو سمجھا۔