ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں، نیا سیکیورٹی اتحاد متوقع
ترکیہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان موجود باہمی دفاعی معاہدے میں شمولیت کا خواہاں ہے، جس سے مشرق وسطیٰ اور اس سے آگے ایک نیا سیکیورٹی اتحاد وجود میں آ سکتا ہے اور طاقت کے توازن میں تبدیلی آ سکتی ہے۔
بلومبرگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق معاملے سے واقف افراد کے حوالے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے پر پہنچ چکے ہیں اور معاہدہ ہونے کا قوی امکان ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے گزشتہ برس ستمبر میں ریاض میں اسٹریٹیجک باہمی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک پر کسی ایک پر حملے کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں کہا گیا کہ اس اتحاد کی توسیع منطقی ہے کیونکہ جنوبی ایشیا، مشرق وسطیٰ اور حتیٰ کہ افریقہ میں ترکیہ کے مفادات سعودی عرب اور پاکستان سے ہم آہنگ ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس معاہدے کو سیکیورٹی اور دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے ایک ذریعے کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب امریکا کی قابلِ اعتماد حیثیت اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیٹو سے وابستگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، حالانکہ امریکا کے تینوں ممالک سے مضبوط عسکری تعلقات ہیں۔
انقرہ میں قائم تھنک ٹینک ٹیپاو کے اسٹریٹجسٹ نہات علی اوزجان کے مطابق، اس اتحاد میں سعودی عرب کی مالی طاقت، پاکستان کی جوہری صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت جبکہ ترکیہ کا عسکری تجربہ اور ترقی یافتہ دفاعی صنعت شامل ہو سکتی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق اوزجان نے کہا کہ جب امریکا خطے میں اپنے اور اسرائیل کے مفادات کو ترجیح دے رہا ہے تو بدلتی صورتحال اور علاقائی تنازعات کے اثرات ممالک کو نئے اتحاد اور سیکیورٹی میکنزم بنانے پر مجبور کر رہے ہیں۔
پاکستان کی وزارت اطلاعات اور ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ سعودی حکام بھی بلومبرگ کی درخواست پر فوری طور پر دستیاب نہیں تھے۔
نیا دور
بلومبرگ کے مطابق اگر ترکیہ اس اتحاد میں شامل ہوتا ہے تو یہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں ایک نئے دور کی نشاندہی کرے گا۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ برسوں کی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک اقتصادی اور دفاعی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں اور اسی ہفتے انقرہ میں پہلا بحری اجلاس بھی منعقد ہوا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ ریاض اور انقرہ دونوں ایران کے حوالے سے دیرینہ خدشات رکھتے ہیں اور طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتی روابط کو ترجیح دیتے ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے بلومبرگ نے نشاندہی کی کہ ترکیہ پاکستان نیوی کے لیے کارویٹ جنگی جہاز تیار کر رہا ہے اور پاکستان فضائیہ کے ایف 16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی شریک ہے۔ اس کے علاوہ ترکیہ دونوں ممالک کے ساتھ ڈرون ٹیکنالوجی بھی شیئر کر رہا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس کے پانچویں جنریشن کے کان فائٹر جیٹ پروگرام میں بھی شامل ہوں۔
رپورٹ کے مطابق یہ سہ فریقی دفاعی مذاکرات پاکستان اور بھارت کے درمیان مئی میں ہونے والی چار روزہ فوجی جھڑپ کے بعد طے پانے والی جنگ بندی کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
بلومبرگ نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی اور ترکیہ و قطر کی جانب سے ثالثی کی ناکام کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات طویل عرصے سے دفاعی تعاون، اقتصادی مفادات اور مشترکہ اسلامی ورثے پر قائم ہیں، جن میں مالی معاونت اور توانائی کی فراہمی شامل رہی ہے۔
دوسری جانب ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون پاکستان کے لیے ایک اہم ستون ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ پاکستان کو دوسرا بڑا اسلحہ فراہم کرنے والا ملک ہے، جو پاکستان کی مجموعی اسلحہ درآمدات کا 11 فیصد بنتا ہے۔
دفاعی شراکت داری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں ملگم جنگی جہاز، طیاروں کی اپ گریڈیشن اور ڈرون منصوبے شامل ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں۔