عدالتیں اور اعتماد
انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان کشمکش شاید وکلا تحریک کا ہی ایک ان چاہا نتیجہ ہے کہ جس کی بنا پر ایک عام آدمی، جسے قانون سے کوئی سروکار نہیں، وہ بھی عدلیہ کے تصورِ آزادی سے بخوبی واقف ہوچکا ہے۔
اس بات کا بھی امکان ہے کہ ایسا شخص یقینی طور پر جناب چیف جسٹس کے اس موقف سے بھی اچھی طرح آگاہ ہوگا، جسے وہ بار بار دُہراتے ہیں۔
متعدد بار دُہرائے گئے ایک ہی بیان میں وہ تمام ججوں پر زور دیتے ہیں کہ صرف عدلیہ ہی اس بات کی اہل ہے کہ اُن خطرات پر نظر رکھ سکے جو انتظامیہ یا بدعنوان ارکانِ پارلیمنٹ کے اقدامات کے سبب جنم لیتے ہیں۔
یہ عمل نہ صرف قانون و انصاف کی حکمرانی بلکہ ان اقدامات کے سبب متاثر ہونے والوں کو 'مکمل انصاف' کی فراہمی کے لیے بھی ضروری ہے۔
جناب چیف جسٹس اورعدلیہ عام طور پر اس حوالے سے جو کچھ کہتے رہتے ہیں، فی الحال اس پر بحث ممکن نہیں، تاہم فوری طور پر یہ بھی واضح نہیں کہ کس طرح عدلیہ اپنی آزادی کو اُن متاثرین کی داد رسی میں تبدیل کرسکتی ہے کہ جن کے مفادات کا تعلق تنازعات کے حل ہونے کے فیصلوں سے ہے نہ کہ قانونی بحث اور آئینی اصولوں سے۔
تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ ایک عام آدممی جس نے وکلا تحریک اور عدلیہ کی بحالی کی حوصلہ افزائی کی اور اس کامیابی میں اپنا کردار ادا کیا وہ اب تک انصاف کے نظام میں ایک پیادہ مہرے کی طرح بھٹک رہا ہے۔
یہ وہ ہے جس کے معاملات کا تعلق نچلی عدالتوں سے ہے۔ اس کا نظامِ انصاف کی آزادی پر اعتماد اُس کے اُن مسائل کے حل سے مشروط ہے جو برسوں سے عدالتوں میں زیرِ سماعت اور منتظرِ انصاف ہیں۔
نطام انصاف کی آزادی سے انہیں امید تھی مگر فیصلوں میں تاخیر کے باعث ماتحت عدالتوں کی آزادی پر اب تک ان کا اعتبار قائم نہیں ہوسکا ہے۔
تو یہ وہ خلیج ہے جو عدلیہ کی آزادی اور انصاف کے منتظر عام متاثرہ شخص کے درمیان حائل ہے۔
اس میں قصور صرف اس شخص کا نہیں کہ جس کا، آزادی کے باوجود رویوں کی بنا پر اب تک عدالتوں پر اعتماد قائم نہ ہوسکا بلکہ قصور ان خامیوں کا ہے جو نظامِ عدل میں موجود ہیں اور ان کو اب تک دور نہیں کیا جاسکا ہے۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ کی سربراہی میں قائم نیشنل جوڈیشل کمیشن نے گذشتہ تین سالوں کے دوران نہایت کامیابی سے ماتحت عدالتوں کو زیرِ التوا مقدمات تیزی سے نمٹانے کی ہدایت کی ہے۔
یہی نہیں، اس ضمن میں کمیشن نے ایک اور بے مثال قدم اٹھایا۔ ہر سال نیشنل جوڈیشل کمیشن کے تحت اسلام آباد میں جوڈیشل کانفرنس منعقد کی جاتی ہے، جس میں جج صاحبان اور وکلا شریک ہوتے ہیں۔ اس کا مقصد دونوں کو مکالمے کے لیے پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے۔
اگرچہ ماتحت عدالتوں میں زیرِ التوا مقدمات نمٹانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کے تحت کی گئی کوششیں سراہنے کے قابل ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کوششوں کے نتائج اب تک نہایت محدود ہیں۔
بین الاقوامی ماہرین کے مطابق اگر کوئی درخواست گذار عدالت سے اہمیت کے لحاظ سے، معیارِ خدمات کے مختلف تناظر میں، مقدمے کے معیار کا مطالبہ کرتا ہے تو اس سے مراد جج کی ماہرانہ صلاحیت، فیصلے کا معیار اور عدالتی عملے کے معاون رویے لیے جاتے ہیں۔
سیدھے سادے لفظوں میں، ایک درخواست گذار کو عدالت سے توقع ہوتی ہے کہ وہ غیر ضروری تاخیر سے گریز کرتے ہوئے، بے جواز رکاوٹ کھڑی کیے بغیر، جلد از جلد سماعت کرکے مقدمے کو منصفانہ انجام تک لے جائے۔
میدِ برآں، نیشنل جوڈیشل کمیشن نے اپنی شائع شدہ رپورٹ میں یہ کہیں پر نہیں بتایا کہ آیا کہ وہ رسمی طور پر زیرِ التوا مقدمات کو تیزی سے نمٹانے کے عمل کی نگرانی کرے گا یا پھر وہ معیار مقرر کیے جائیں گے کہ جن کے نفاذ سے سماعت کو تیز رفتار کرکے، عدالتوں پر زیرِ سماعت مقدمات کا بھاری بوجھ اتارا جاسکے۔
پاکستان کے خوف زدہ کردینے والے عدالتی نظام میں ایسا کوئی میکنزم موجود نہیں کہ جو ارتقائی عدالتی مراحل کے تجربات کوپیشِ نظر رکھ کر، مقدمات کو جلد نمٹانے میں مدد دینے کے لیے تیار کیا گیا ہو۔
مقدمات نمٹانے کے لیے اس طرح کامیکنزم تیار کرنے سے نہ صرف عدالتی معیار بہتر ہوگا بلکہ اس سے عدالتی نظام چلانے والی انتظامیہ پر بھی اثر پڑے گا۔
جہاں تک انفرادی طور پر ججوں کے فیصلوں کے معیار کے تعین کا تعلق ہے تو نہایت احترام سے گذارش ہے کہ اس حوالے سے تحفظات حقیقت پر مبنی ہیں۔ آزادانہ طور پر فیصلہ سازی کے لیے کمیشن کو اس معاملے میں مداخلت کرنی چاہیے۔
علاوہ ازیں، عالمی ماہرین قانون عدالتی نظام کی نگرانی پر پیش کیے گئے تحفظات کو مسترد کرچکے ہیں۔
یہ وہ ماہرین ہیں جو معیار انصاف برقرار رکھنے کے لیے عدالت میں سپروائزنگ نظام نافذ کرنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق جب ایک جج خود اپنے اور ماتحت ججوں پر نظر رکھتا ہے تو اس کا مقصد اپنی صلاحیتوں کو 'خود بہتر' بنانا ہوتا ہے۔
نیز، اس عمل میں ضرورت پڑنے پر ایسے ججوں کے خلاف کارروائی بھی کی جاسکتی ہے جو انصاف کی درست فراہمی میں ناکامی یا تاخیر کے مرتکب ہوئے ہوں۔
حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے عدالتی آزادی اور معیار انصاف کو کوئی دھچکا نہیں پہنچے گا بلکہ اس سے نظام اورمعیار میں بہتری ہی آئے گی۔
نہایت احترام سے عرض ہے کہ بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ عدالتی انتظامیہ کو بہتر بنانے کے اقدامات کے حوالے سے نیشنل جوڈیشل کمیشن ہچکچاہٹ کا شکر ہے اور ایسا نہ کرنے کا بظاہر کوئی مناسب جواز بھی نظر نہیں آتا۔
نظامِ انصاف اور عدالتوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے یورپین کمیشن نے رہنما خطوط تیار کیے ہیں، جن کے مطابق کسی عدالتی انتظامیہ اور اس کے انصاف کے معیار کو جانچنے کے لیے کم از کم معیار یہ ہے کہ کوئی درخواست گذار کتنی آسانی سے اُن سے رجوع کرسکتا ہے۔ نیز، عدالتی انتظامیہ اطلاعات یا معلومات کی فراہمی میں اسے کتنی آسانیاں فراہم کرتی ہے۔
امید ہے کہ کم از کم نیشنل جوڈیشل کمیشن عدالتی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اس ضمن میں ضرور اقدامات کرے گا۔
تو کیا وہ عدالتی انتظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے سائلین کی مدد کے لیے کیا کوئی ہیلپ لائن شروع کریں گے؟ کیا وہ درخواست گذاروں کی مدد کے لیے عام فہم زبان میں کوئی مددگار کتابچہ تیار کرائیں گے؟
کیا کوئی ایک ایسا افسر متعین کیا جائے گا جو عدالت سے انصاف کے لیے رجوع کرنے والوں کے انتظامی امور کے حوالے سے رہنمائی کرسکے؟
اب تک کچھ واضح نہیں کہ عدالتی انتظام کو درخواست گذاروں کے لیے سہل بنانے کے لیے جوڈیشل کمیشن کیا اور کس نوعیت کے اقدامات کرے گا۔
اگر حقیقت میں جوڈیشل کمیشن ججوں اور عدالتی انتظامیہ کی فراہم کردہ خدمات کا جائزہ لینے کے لیے اس طرح کا کوئی میکنزم بنانا اور لاگو کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ عدالتوں کے لیے نہایت واضح اشارہ ہوگا کہ وہ ان سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔
اس سے یہ ممکن ہوسکے گا کہ ججوں کو تفویض کیے گئے اختیارات کے بجائے ان کی حقیقی استعداد کے مطابق اہلیت اور فراہم کردی خدمات کا تعین ہو۔
اس ضمن میں اسے اپنی مدد آپ کے تحت ایسی درست پالیسیاں تشکیل دینی ہوں گی جس سے عدالتی خدمات کا اسکوپ اور معیار بہتر بنایا جاسکتا ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اسے عدالتی نظام کی خامیوں کو بھی تلاش کرنا ہوگا۔
بعد ازاں، ان خامیوں اور فقدان کو دور کرنے کے لیے رہنما خطوط یا گائیڈ لائنز تیار کیے جائیں، جس کے تحت ججوں اور انتظامی عملے کی تربیت کرکے ان خامیوں کو دور کرنے کی کوشش کی جائے۔
اس طرح عدالت اور عملہ، دونوں اس مقصد کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں، جو ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
اگر ہم عدلیہ کے بارے میں بہت ساری باتیں اور اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو اس ضمن میں خود اپنے کو بھی دیکھ لینا چاہیے کہ آیا اس ضمن میں ہم نے بھی کچھ کیا ہے۔
حقیقت میں نگرانی اور کارکردگی کا کوئی عمل صرف عدلیہ کی آزادی کو محفوظ بنانے کے لیے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی معاشرے کی تشکیل کے لیے ہونا چاہیے۔
ہمیں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہیے کہ بذات خود عدلیہ کی آزادی ایسا کوئی معاشرہ قائم نہیں کرسکتی، تاوقتیکہ کہ وہ واضح، شفاف اور متوازن پالیسیوں پر مبنی بامقصد حکمتِ عملی کا اظہار اور اس پر عمل، نہ کرے۔
اگر عدلیہ یہ مقاصد حاصل کرنے کے قابل ہے تو اسے یہ حاصل کرلینا چاہیے۔ مزیدِ برآں اہم بات یہ ہے کہ اسے ایک عام درخواست گذار یا سائل کو خود پر اعتماد کرنے کا ماحول فراہم کرنا ہوگا جو کہ تمام تر آئینی ضمانتوں سے بڑھ کر ہے۔
تو کیا اس صورتِ حال میں عدلیہ خود کو درپیش خطرات کو روکنے کے لیے عوام کے اعتماد پر مبنی رکاوٹ تعمیر کرے گی؟
مضمون نگار بیرسٹر ہیں۔
ترجمہ: مختار آزاد