زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
is blog ko Hindi-Urdu mein sunne ke liye play ka button click karen [soundcloud url="https://api.soundcloud.com/tracks/84112171" params="" width=" 100%" height="166" iframe="true" /]
یہ آسمان جو زمین پر اترتے ہیں انہیں بالآخر زمین کھا ہی جاتی ہے۔ زمین کے نام پر صدیوں سے جنگیں بھی ہوئیں تو بٹوارے بھی ہوئے۔
زمین کی چھاتی پر سرحد کےنام پر لکیریں کھینچی گئیں، قتل ہوئے اورخون بہا۔ کبھی مذہب، قومیت، علاقے، نظریے اور فکر کی بنیاد پر تو کبھی زبان، ثقافت، رنگ اور نسل کو بہانہ بناکر انسانیت کو زندہ درگور کرنے کا عمل بھی صدیوں سے ہی جاری ہے۔ جوں جوں انسان اپنی آبادی میں اضافہ کیے جارہاہے، توں توں زمین اس کے لیے تنگ پڑتی جارہی ہے۔
اب زمین بھی آسمان کی طرف سفر کرنے لگی ہے۔ پہلے آسمان زمیں پر اترتا تھا۔ اب زمین آسمان کو چھونے لگی ہے۔ انسان کی بھوک تو کبھی مٹنے کی ہے ہی نہیں۔ لیکن جو زمین ہتھیانے اور بیچ کھانے کی بھوک اسے نصیب ہوئی ہے۔ اس نے اسے انسان سے عفریت بنا دیا ہے۔
پہلے زمین اللہ کی تھی، اب تو وہ اس کی بھی نہیں رہی۔ اب زمین کا مالک نیچے رہتا ہے اور اللہ چپ چاپ اپنے بندوں کو تکتا رہتا ہے جو اب اس کی زمین کے مالک بھی بن بیٹھے ہیں۔ یہ اللہ کے پراسرار بندے جب سے زمین کے مالک بنے ہیں اور اسے کاروبار بھی بنادیا ہے۔ تب سے زمین بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے۔
پہلے تو انگریز کسی دیسی کی خدمات اور وفاداری سے متاثر ہوتے تو زمین جو ان کی اپنی بھی نہیں ہوتی، اسے لقب القاب کے ساتھ اپنے وفاداروں کے نام کردیتے۔ پھر یہ ہوا کہ زمین غازیوں، شہیدوں اور جنگ ہارنے والوں کے نام ہونے لگی۔ اور پھر زمین بٹتی ہی چلی گئی۔ جس جس کا بس چلا، جس جس کے اختیار میں تھا۔ اس نے زمینیں بانٹیں، ہتھیائیں اور قبضہ بھی کیا۔ کبھی کسی نے اگرغلطی سے چھکا ماردیا اور ملک کو میچ جتوا دیا تو وہ بھی زمیندار ٹھہرا۔ کسی نے اگر ملک کی نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا کام سرانجام دیا تو اسےبھی زمیندار بننے کا اعزاز ملا۔
پہلے تو زمیندار گاؤں گوٹھوں میں ہوا کرتے تھے، پھر شہروں میں بھی جنم لینے لگے۔ فیوڈلزم کے خلاف نعرے لگانے اور جدوجہد کرنے والے جو وڈیرہ شاہی کے خاتمے کی خاطر میدان میں اترے تھے۔ وہ خود شہری وڈیرے بن بیٹھے۔
اگر کوئی شہر میں بستا ہے تو شہری وڈیرے سے بنا کر رکھنی ہے اور اگر گاؤں گوٹھ میں رہتا ہے تو اسے وہاں کے وڈیرے کو مائی باپ ماننا پڑتاہے۔ گاؤں میں کسی مسئلے کا شکار ہوجائیں تو سیدھا ڈیرے جانا پڑتا ہے اور اگرشہر میں ہیں تو شہری ڈیرے کا رخ کرنا پڑتا ہے۔
اب تو ویسے بھی آدھے سے زیادہ شہر کینٹ ایریاز بنے ہوئے ہیں۔ باقی کو صاحب لوگ ڈفینس کہتے ہیں اور جو بچا کھچا شہر ہے وہ درمیان میں کہیں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جہاں تک آپ کی نگاہ پہنچے گی وہاں آبادیاں ہی آبادیاں ہیں۔
ویسے آبادیاں ہیں کے بڑھتی ہی جارہی ہیں اور زمین ہے کے گھٹتی جارہی ہے۔ جو کاروبار ڈفینس کے نام پر شروع ہوا تھا۔ اس نے ایسی ترقی کی کہ سیاستدانوں، بیوروکریسی، دین کے ٹھیکیداروں سے ہوتا ہوا اب منصفین تک پہنچ گیا ہے۔ سب کو زمین چاہیئے، شہروں میں بھی توآبادیوں میں بھی۔
جماعتیں سیاسی ہوں کہ مذہبی، قوم پرست ہوں یا ترقی پسند، جو بھی نعرے لے کر آئیں۔ جس بھی نظریے کا پرچار کر رہی ہوں۔ جیسے بھی ان کے منشور ہوں۔ سب ہی اس کاروبار کا حصہ ہیں۔ سب کی نظر زمین پر ہی رہتی ہے۔ چاہے اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر۔ باہر ہیں تو قبضے کرتے ہیں اور اندر ہیں تو بانٹتے یا بیچتے پھرتے ہیں۔
اپنا بدنصیب شہر کراچی جو کبھی روشنیوں کا شہر تھا، امن و آشتی کا گہوارہ بھی تھا تو اپنی سیکیولر شناخت کے لیے بھی جانا جاتا تھا۔ جو کبھی بھی مذہب، قومیت، فرقے یا مسلک کی بنیاد پر بٹا بھی نہیں تھا۔ جس میں سب کو بلا کسی مذہبی اور قومیتی تفریق کے سانس لینے اور جینے کا حق تھا۔ اس کی ایک بہادربیٹی پروین رحمان جس نے اپنی پوری جوانی اس کے غریب باسیوں کی خدمت اور اس کی تعمیر میں نچھاور کردی۔ جس کا اوڑھنا بچھونا صرف غریبوں کی خدمت تھا۔ اسی روشنیوں کے شہر کو اندھیروں میں بدلنے والے بیٹوں کے ہاتھوں پچھلے دنوں قتل کردی گئی۔ وہ بیٹے جن کے ہاتھوں میں کبھی کتاب ہوتی تھی اور اب صرف ہتھیار ہی رہ گئے ہیں۔
چونکہ پروین کا شمار نا قاتلوں میں ہوتا تھا نا ہی کسی فرقے، لٹیروں یا قبضہ گیروں کے گروہ سے۔ اس لیے اس کی موت سے نا ہی شہر کے رکھوالوں کو کوئی فرق پڑا، نا کوئی کاروبار رکا اور نا ہی کہیں پہیہ جام ہوا۔
جیسے روز کراچی کے غریب مرتے ہیں ایسی ہی ایک سرخی اخباروں کی زینت بنی کہ کراچی میں اتنے ہلاک اس میں پروین رحمان بھی شامل تھی۔ اس ظالم شہر میں غریبوں کی خدمت کرنے والے بھی غریبوں کی طرح ہی ماردیے جاتے ہیں۔