اسفند یار ولی خان
اسفند یار ولی اس وقت عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے سربراہ ہیں۔ وہ بطور رکنِ صوبائی و قومی اسمبلی خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ وہ سینیٹ کے بھی رکن رہے۔
مختصر سوانح حیات
اسفند یار ولی صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے چارسدہ کے قصبے شاہی باغ میں اُنیس فروری، اُنیس سو اُننچاس کو پیدا ہوئے۔ وہ معروف سیاستدان اور پختون قوم پرست خان عبدالولی خان کے فرزند ہیں۔
انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم جیسس اینڈ میری کانوینٹ اور بعد میں ایچیسن کالج لاہور سے حاصل کی۔ انہوں نے بیچلرز ڈگری پشاور یونیورسٹی سے لی۔ اسفند یار ولی مادری زبان پشتو کے علاوہ اُردو اور انگریزی پر بھی عبور رکھتے ہیں۔
ابتدائی سیاسی کیریئر
اے این پی کے قائد نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز جنرل ایوب آمریت کے دوران ایک کارکن کی حیثیت سے کیا۔ اس وقت طالب علم اسفند یار ولی پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن (پی ایس ایف) اور اس کی سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے رکن تھے۔ پی ایس ایف خالصتاً طلبہ تنظیم تھی جو جمہوریت کے لیے جدوجہد کررہی تھی۔
بعد میں انہوں نے ایوب خان کے جانشیں جنرل یحیٰی خان کی مخالفت شروع کی، جنہوں نے اُنیّسو اُنھہتر میں اقتدار سنبھال کر ملک میں مارشل لا نافذ کرنے کے ساتھ، پی ایس ایف سمیت تمام سیاسی تنظیموں پر پابندی عائد کردی تھی۔
سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے اسفند یار ولی کو ایسا سازگار ماحول میسر آیا، جس نے انہیں سدا بہار سیاسی رہنما بنادیا۔
ان کے والد نیشنل عوامی پارٹی(نیپ)کے بانیوں میں تھے، جنہوں نے مختلف حمکرانوں کے دور میں کئی بار قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں۔ اسی بنا پر اسفند یار ولی کو سخت ترین حالات میں سیاست کا ہُنرسیکھنے کا موقع ملا۔
سن اُنیّسو پچھہتر میں ذوالفقار علی بھٹو نے نیپ پر پابندی لگادی، جس کے بعد ان کے والد خان عبدالولی خان نے نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) قائم کرلی۔
اسی سال سیاسی لحاظ سے سرگرم کارکن اسفند یار ولی کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان پر حیدرآباد جیل میں قائم کیے گئے اسپیشل ٹریبونل میں مقدمہ چلا، جس نے انہیں پندرہ سال قید کی سزا سنائی۔
وہ سن اُنیّسو اٹھہتر میں دیگر سیاسی قیدیوں کے ساتھ جیل سے رہا ہوئے اور این ڈی پی میں شمولیت اختیار کرلی۔ سن اُنیّسو چھیاسی میں این ڈی پی اور بعض دیگر چھوٹی جماعتوں کے انضمام سے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) قائم کی گئی۔
ولی خان فیملی نے جنرل ضیا الحق کی آمریت کے خاتمے کے لیے کئی برس تک چلنے والی 'تحریکِ بحالیِ جمہوریت' (ایم آرڈی) میں بھی سرگرم حصہ لیا۔
بطور پارلیمانی سیاست دان
اسفند یار ولی کا بطور پارلیمانی سیاستدان، دور کا آغاز سن اُنیّسو نوّے سے شروع ہوتا ہے، جب وہ پہلی بار آج کے خیبر پختونخوا اور اُس وقت کے صوبہ سرحد اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
وہ پہلی بار سن اُنیّسو ترانوے میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ سن اُنیّسو ستانوے کے انتخابات میں بھی وہ ایک نشست پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔
بعد میں، سن دو ہزار تین میں، چھ سالہ مدت کے لیے وہ سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔ فروری دو ہزار آٹھ کے منعقدہ انتخابات میں وہ تیسری بار رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔
اگرچہ بطور قانون ساز اپنے دور میں انہوں نے مختلف حیثیتوں سے ذمہ داری نبھائیں تاہم ان کی اہم کامیابی سیاسی طور پر سخت کشیدہ اور تیزی سے بدلتی قیادتوں کے دور میں جماعت کو متحد رکھنا تھا۔
سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں ان کی زیرِ قیادت اے این پی نے قابلِ ذکر کامیابی حاصل کی۔ وہ چارسدہ ون کے حلقے این اے ۔ سات سے رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے جب کہ ان کی جماعت کو صوبائی سطح پر اتنی نشستیں حاصل ہوئیں کہ وہ خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت تشکیل دے سکے۔
سن دو ہزار دو کے انتخابات میں کامیابی کے بعد، ان کی یہ بڑی کامیابی حوصلہ افزا تھی۔
پختون قوم ہرست ہونے کے ناطے وہ ہمیشہ صوبائی خود مختاری کی جدو جہد کرتے رہے۔ انہوں نے صوبے کا نام شمالی مغربی صوبہ سرحد سے تبدیل کر کے پختونخوا رکھنے کے لیے طویل جدو جہد کی۔
عوامی نیشنل پارٹی نے ان کی قیادت میں، سن دو ہزار نو کے دوران سوات میں کیے گئے فوجی آپریشن کی حمایت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے ہمیشہ 'مذاکرات سے مسئلے کا حل' تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا ماسوائے 'وادی میں آپریشن' کی حمایت کے۔
مزیدِ برآں، کالا باغ ڈیم کے معاملے پر، اسفند یار ولی ڈٹ گئے اور انہوں نے منصوبے کی مخالفت پر اپنی جماعت کے نقطہ نظر کی ایک بار پھر وضاحت کی۔
انہوں نے سن دو ہزار بارہ میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لیے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھی کڑی تنقید کی۔
سن دو ہزار آٹھ تا دو ہزار تیرہ پر مشتمل پارلیمانی دور میں اسفند یار ولی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے چیئرمین بھی رہے۔
بطور قائد اے این پی
اسفند یار ولی پہلی بار سن اُنیّسو ننانوے میں اے این پی کے قائد منتخب ہوئے، اس کے بعد سے پارٹی سربراہ کے لیے ہونے والے تمام انتخابات میں وہی بدستور منتخب ہوتے رہے ہیں۔
اے این پی کے داخلی معاملات پر مضبوط گرفت رکھنے والے اسفند یار ولی نے ابھی حال تک قائم رہنے والی مخلوط حکومت میں بطور اتحادی جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی اور صدر آصف علی زرداری کی کھل کر حمایت کی۔
ان کی جماعت کا روایتی فلسفہ اور نظریات کی بنیاد لبرل ازم، صوبائی خود مختاری اور پختون قوم پرستی پر استوار ہے تاہم گذشتہ آٹھ سے دس برسوں کے دوران، اسفند یار ولی نے اسے دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر کی مخالفت تک توسیع دی ہے۔
دوسروں کے علاوہ، عسکریت پسندوں نے اے این پی کے رہنماؤں بشیر احمد بلور، میاں افتخار حسین اور خود اسفند یار ولی پر بھی جاں لیوا حملے کیے۔ اسفند یار ولی خود کش حملے میں بال بال بچے تھے۔
ان کی ہمشیرہ اور معروف سرجن ڈاکٹر گلا لئے، اگست، سن دو ہزار دس کو پشاور میں کیے گئے قاتلانہ حملے میں زخمی ہوگئی تھیں۔
بطور قائد اسفند یار ولی اپنی جماعت کے اہم ساتھی اور سینئر صوبائی وزیر بشیر احمد بلور سے بھی محروم ہوئے، جنہیں چند ماہ قبل، پشاور کے ایک سیاسی اجتماع میں دہشت گردی کا نشانہ بنایا تھا۔
تاہم اس کے باوجود اے این پی ان کے قائد اور رہنما پُرعزم اور پُریقین ہیں۔ بشیر بلور کی تعزیت کے بعد ان کا کہنا تھا 'قتل ہمیں کمزور نہیں کرسکتے'۔
دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اے این پی کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'یہ غلط فہمی ہے' کہ بشیر بلور کی شہادت کے بعد ہماری جماعت خوف زدہ ہو کر دہشت گردی کے خلاف اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹ جائے گی۔'
تحقیق و تحریر: سونہں ابڑو
انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد