مولانا فضل الرحمان
مولانا فضل الرحمان جمعیت علمائے اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ ہیں۔ یہ وہ جماعت ہے جس کے سربراہ کبھی ان کے والد مولانا مفتی محمود تھے۔
مفتی محمود ایک مذہبی عالم اور سیاستدان تھے۔ وہ سن اُنیّسو ستّر کی دہائی میں خیبر پختونخوا (اُس وقت کے صوبہ سرحد)کے وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔
سیاست میں ابتدائی شمولیت
سن اُنیّسو تریپن کو ڈیرہ اسماعیل خان میں پیدا ہونے مولانا فضل الرحمان نے ستائیس برس کی عمر میں، سن اُنیّسو اسّی میں اپنے والد کی وفات کے بعد جماعت کی قیادت سنبھالی۔
سن اسّی کی دہائی کے وسط میں جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوئی۔ ایک دھڑا جس کی قیادت مولانا فضل کررہے تھے، جے یو آئی ۔ ف کہلایا اور دوسرا دھڑا جو مولانا سمیع الحق کی قیادت میں تھا وہ جے یو آئی ۔ س کہلایا۔
کہا جاتا ہے کہ یہ تقسیم جنرل ضیا کی حکومت میں شمولیت کے معاملے پر ہوئی تھی۔ مبینہ طور پر اسے ذاتی اختلافات کا شاخسانہ بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔
اپنے والد کی طرح، مولانا فضل الرحمان کے پیروکاروں کی اکثریت بھی دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہے۔ دیو بندی مکتبہ فکر پر ہی جے یو آئی ۔ ف کی نظریاتی اساس قائم ہے۔
اپنے والد کی سیاسی میراث ہاتھوں میں تھامے، فضل الرحمان اُن سے زیادہ طاقت ور سیاستدان کے طور پر سیاسی منظر نامے پر چھائے۔
اگرچہ جماعت کا دعویٰ ہے کہ ہر تین سال بعد داخلی سطح پر انتخابات منعقد کیے جاتے ہیں تاہم مولانا فضل الرحمان سن اُنیّسو اسّی سے بدستور اپنی جماعت کے امیر ہیں۔
مولانا فضل الرحمان چار بار رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوچکے ہیں: پہلی بار سن اُنیّسو اٹھاسی، دوسری مرتبہ سن اُنیّسو ترانوے، اس کے بعد بالترتیب سن دو ہزار دو اور دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں وہ رکنِ قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔
وہ دو بار، سن اُنیّسو نوّے اور سن اُنیّسو ستانوے میں، قومی اسمبلی کی نشست پر انتخابات ہارے۔ جے یو آئی ۔ ف کے سربراہ نے زیادہ تر ڈیرہ اسماعیل خان کے حلقہ این اے چوبیس سے انتخابات میں حصہ لیا۔
ماضی میں اس نشست پر ان کا قریب ترین مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کریم کُنڈی سے رہا۔ سن دو ہزار آٹھ کے انتخابات میں وہ این اے چوبیس کی نشست پر کریم کُنڈی کے ہاتھوں شکست کھا گئے تاہم وہ بنوں سے قومی اسمبلی کی نشست پر فاتح ٹھہرے۔
سخت گیر یا عملی سیاست دان
مولانا فضل الرحمان عام طور پر معاملہ فہم سیاستدان کے طور پر مشہور ہیں۔ وہ سیاسی اُلٹ پھیر کی ایک پوری تاریخ رکھتے ہیں۔
اکثر ان کے نظریاتی موقف اور سیاسی اتحادوں کے درمیان نمایاں فرق موجود رہا ہے۔ جے یو آئی ۔ ف، تاریخی اور نظریاتی طور پر ملک میں نفاذِ شریعت کی حامی اور دعویدار ہے تاہم اس کے باوجود وہ مختلف سیکولر جماعتوں کے ساتھ سیاسی اتحادوں میں بھی شامل رہی ہے۔
سن اُنیّسو اٹھاسی کے عام انتخابات کے بعد دائیں بازو نظریات کی حامل جماعت نے وفاق کی حامی پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ محترمہ بینظیر بھٹو کی حمایت کا فیصلہ کیا تاہم ساتھ ہی مولانا فضل الرحمان افغان طالبان سے بھی مراسم استوار کرتے رہے۔
یہ وہ رابطہ ہے جو پاکستانی سیاست میں ان کے طاقتور ہونے کی بنیاد ہے۔ حقیقت میں افغان طالبان مہاجر کیمپوں میں ایّام بسر کرنے کے دوران، دینی مدارس میں مذہب کی تعلیم حاصل کرتے رہے تھے، جن میں سے پاکستان کے شمال مغرب اور بلوچستان میں چلنے والے بعض مدارس کا انتظام مولانا فضل کی جے یو آئی چلاتی رہی ہے۔
جے یو آئی ۔ ف کے سربراہ زیادہ طاقتور شخصیت کے طور پر محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے حکومت میں اُس وقت ابھر کر سامنے آئے جب انہیں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امورِ خارجہ کا چیئرمین بنایا گیا۔
اس کے نتیجے میں مولانا، اطلاعات کے مطابق، عالمی سطح پر اپنی مضبوط حمایت کے لیے، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ کے بعض اسلامی ممالک کے ساتھ، مضبوط روابط قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔
سن دو ہزار ایک میں افغانستان پر امریکی چڑھائی کے بعد بھی مولانا بدستور طالبان کے حامی رہے اور وہ کھل کر 'دہشت گردی کے خلاف جنگ' میں پاکستانی کردار پر اُس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کو اپنی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے۔
اس کے نتیجے میں مولانا کو اُن کے گھر پر نظر بند کردیا گیا۔ انہیں مارچ دو ہزار دو میں رہائی ملی، جس کے بعد ان پر قائم تمام مقدمات بھی واپس لے لیے گئے۔
رہائی کے بعد، انہوں نے سن دو ہزار دو کے انتخابات میں، متحدہ مجلسِ عمل (ایم ایم اے) کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
ایم ایم اے چھ مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد تھا، جس میں جے یو آئی ۔ ف، جے یو آئی ۔ س اور جماعتِ اسلامی بھی شامل تھیں۔
سن دو ہزار دو کے عام انتخابات کے نتیجے میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کم معروف سیاستدان میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم بنے تاہم انتخابات کے فوراً بعد مولانا فضل الرحمان کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے نہایت سنجیدہ اور مضبوط امیدوار کے طور پر دیکھا جارہا تھا۔
بعد ازاں، سن دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں مولانا اور ان کی جماعت تین مضبوط اور وسیع نظریات، امریکی مخالفت، طالبان کی حمایت اور پاکستان میں نفاذِ شریعت، لے کر میدان میں اتری۔
اگرچہ ایم ایم اے نے قابلِ ذکر نشستیں حاصل کیں تاہم مولانا نے موقف تبدیل کرتے ہوئے اعلان کیا کہ اُن کی جماعت امریکا کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں دلچسپی رکھتی ہے۔
مولانا کے موقف میں تبدیلی کی اس علامت کو وکی لیکس کے ذریعے منظرِ عام پر آنے والی امریکی سفارت خانہ کی خفیہ دستاویز کے ساتھ دیکھیے، جس میں انہوں نے امریکی سفارت کار سے کہا تھا 'بہت سیاست دان آزمالیے، اب ایک مُلا کو بھی آزمالو'۔
وکی لیکس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ پردے کے پیچھے، جے یو آئی ۔ ف کے سربراہ پاکستان میں قائم امریکی سفارت خانہ سے 'بار بار اور تعاون کے لیے، مذاکرات' کرتے رہے تھے۔
حتیٰ کہ سن دو ہزار سات میں بھی انہوں نے امریکا کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ وزارتِ عظمی کے لیے بینظیر کے بجائے ان کی حمایت کرے۔
ایم ایم اے اور طالبان - کبھی ہاں، کبھی ناں
سن دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات کے موقع پر مولانا فضل الرحمان نے لگ بھگ ایک سو اسّی ڈگری زاویہ پر اپنا رخ تبدیل کیا۔
انہوں نے طالبان سے دوری اختیار کی، عوامی سطح پر خود کو روشن خیال کے طور پر پیش کیا اور ایم ایم اے کی مخالفت کے باوجود جے یو آئی ۔ ف کے تحت حکومت میں شامل ہوگئے۔
اس کے بعد ایم ایم اے بھی غیر فعال ہو کر رہ گئی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت میں وفاق کی مخلوط حکومت میں شامل ہونے والی جے یو آئی ۔ ف، بعد ازاں حکومت سے علیحدگی اختیار کرکے اپوزیشن میں شامل ہو گئی۔
طالبان سے دوری اختیار کرنے کے بعد مولانا آنکھ کا تارا نہ رہے اور طالبان نے ان پر قاتلانہ حملہ کردیا۔ سن دو ہزارمیں گیارہ میں یکے بعد دیگرے، مولانا پر بموں سے دو حملے کیے گئے۔ ان دونوں حملوں میں وہ بال بال بچے۔
اگرچہ پارلیمنٹ میں ان کی سیاسی جماعت کم نمائندگی کی حامل تھی تاہم اپوزیشن میں شامل ہونے کے باوجود بھی مولانا فضل الرحمان سیاست میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ ایک بار پھر پرانے راستوں پر لوٹ رہے ہیں۔ 'شراکت داروں سے مذاکرات' کی ضرورت پر زور دینے کے لیے ان کی طرف سے منعقدہ کُل جماعتی کانفرنس سے لگتا ہے کہ وہ پھر 'پاکستانی طالبان کی گڈ بُک' میں پلٹ رہے ہیں۔
کُل جماعتی کانفرنس کے بعد مولانا فضل الرحمان کی قطر میں افغان طالبان کے نمائندوں سے بھی ملاقات ہوئی۔
اضافی طور پر، جے یو آئی ۔ س اور جماعتِ اسلامی کی حمایت نہ ہونے کے باوجود، سن دو ہزار بارہ میں مولانا نے ایم ایم اے کو بحال کردیا۔
ان جماعتوں کی طرف سے ایم ایم اے کی بحالی میں عدم دلچسپی کی ایک وجہ خود مولانا کو خیال کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مولانا پر ایسے 'موقع پرست' کا لیبل چسپاں کردیا جو نفاذِ شریعت کے بجائے صرف اقتدار میں اپنی دلچسپی رکھتا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار آٹھ تا تیرہ پر مشتمل حکومتی دور میں مسئلہ کشمیر کو بُری طرح نظر انداز کیا گیا۔ وہ ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے پر اپنے متنازع بیان کے باعث بھی خبروں میں رہے۔
بچوں کے حقوق کی سرگرم علمبردار ملالہ یوسفزئی پر حملے کو انہوں نے ڈراما قرار دیا تھا۔
سن دو ہزار بارہ میں انہوں نے نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کی بھی سخت مخالفت کی جو ان کی پالیسی میں، ایک بار پھر زیادہ سخت موقف کی طرف پلٹنے کا واضح اشارہ ہے۔
انگریزی سے اُردو ترجمہ: مختار آزاد