عمران کے منصوبے، قومی اسمبلی میں پُراسرار خاموشی

شائع December 2, 2014

اسلام آباد: تحریک انصاف کی جانب سے پلان سی منظر عام پر لائے جانے کے بعد قومی اسمبلی میں پیر کا دن انتہائی اہمیت اختیار کر گیا تھا لیکن حیران کن طور پر ایوان زیریں میں اس حوالے سے خاموشی چھائی رہی۔

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو اسلام آباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پلان سی منظر عام پر لاتے ہوئے ملک کے تین بڑے شہروں اور پھر پاکستان کو بند کرنیکا اعلان کیا تھا۔

پیر کو قومی اسمبلی میں وزیر اعظم تو موجود نہ تھے لیکن وزیر داخلہ اور مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار سمیت متعدد کابینہ اراکین ایوان میں موجود تھے لیکن ایسا محسوس ہوا کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے ہونٹ سی لیے تھے حالانکہ پارلیمنٹ کی راہداری سمیت ملک بھر میں یہ موضوع زیر بحث رہا۔

یہ بات تو واضح نہیں ہو سکی کہ آیا پارٹی کی مرکزی قیادت کی وجہ عدم موجودگی کی وجہ حکمران جماعت کے رہنماؤں نے عدم دلچسپی کے منصوبے پر عمل کیا یا معاملہ کچھ اور تھا لیکن ساتھ ساتھ حزب اختلاف کی جماعتوں نے خان صاحب کے پلان سی کے حوالے سے کچھ کہنے سے گریز کیا۔

تاہم دن کے اختتام پر ایوان کی پچھلی نشستوں پر بیٹھنی والی مسلم لیگ کی رکن اور اہم رہنما ماروی میمن نے پی ٹی آئی چیئرمین کے پلان سی اور ڈی کو تنقید کا نشانہ بنایا جہاں عمران خان کے مطابق حکومت کے لیے اس سے نمٹنا انتہائی مشکل ہے۔

صدر ممنون حسین کے دو جون کو قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے کیے گئے خطاب پر کی جانے والی بحث کے دوران ماروی میمن نے حریف جماعت پر تنقید کرنے کے ساتھ ساتھ امید ظاہر کی کہ تحریک انصاف کے اراکین ایوان میں واپس آ جائیں گے جہاں تحریک انصاف نے اگست سے قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کرتے ہوئے 30 سے زائد اراکین کے استعفے بھجوا دیے تھے۔

اس موقع پر ماروی نے عمران کے منصوبوں کو ملک کے لیے تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہو گا اور تجویز پیش کی کہ دونوں فریقین کو مسائل بات چیت سے حل کرنے چاہئیں۔

پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث میں اراکین نے سکھر میں قتل کیے جانے والے جمعیت علمائے اسلام(ف) کے رہنما خالد محمود سومرو کے قتل کی مذمت کی۔

پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ خالد سومرو کے قتل سے ثابت ہوتا ہے کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں دہشت گردوں کے حملے روکنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔

اس موقع پر انہوں نے گزشتہ سالوں میں بینظیر بھٹو، مولانا فضل الرحمان، آفتاب شیرپاؤ اور اسفند یار ولی سمیت دیگر سیاسی رہنماؤں پر کیے گئے دہشت گرد حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں چھ انٹیلی جنس ایجنسیاں موجود ہیں جنہیں ان جرائم میں ملوث عناصر کا علم ہونا چاہیے۔

’اگر انٹیلی جنس ایجنیوں کو ان کا علم نہیں تو ریاست کہاں ہے؟ اگر وہ انہیں جانتے ہیں اور شناخت نہیں کر پا رہے تو یہ زیادہ خطرناک صورتحال ہے۔

اس موقع پر ایوان نے خالد سومرو کے قتل کی مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے اسے ملکی سلامتی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ی جمہوریت جدوجہد کے خلاف گھناؤنی سازش قرار دیا۔

کارٹون

کارٹون : 15 مارچ 2026
کارٹون : 14 مارچ 2026