سلطان راہی کو گزرے 19 برس بیت گئے

شائع January 9, 2015 اپ ڈیٹ January 9, 2015 03:57pm

پاکستانی فلم انڈسٹری نے یوں تو بے شمار نامور اداکاروں کو جنم دیا لیکن اگر پنجابی فلم انڈسٹری کا ذکر ہو اور سلطان راہی کا ذکر نہ ہو تو یہ صریحاً ظلم ہوگا۔

سلطان راہی سن 1938 میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام سلطان محمد تھا انہوں نے 1956 میں فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور 1959 میں ریلیز ہونے والی فلم "باغی" سے باقاعدہ طور پر اپنے فلمی کریئر کا آغاز کیا۔

گنڈاسا تھام کر دشمن کو للکارنے کا یہ انداز سلطان راہی نے ہی فلم انڈسٹری میں متعارف کروایا ستر کی دہائی میں فلم "بشیرا" سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے اداکاری جس کی بناء پر آج بھی اُن کا نام گنیز بُک آف ورلڈ ریکارڈز میں درج ہے۔

سلطان راہی پنجابی فلموں کے وہ سپر ہٹ اداکار تھے جو ہیرو اور ولن دونوں روپ میں مقبول ہوئے 1979 میں فلم "مولا جٹ" اور پھر 1981 میں فلم "شیر خان" نے سلطان راہی کے فلمی کریئر کو چار چاند لگا دیے۔

سلطان راہی نے اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں بننے والی 750 سے زائد فلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

9 جنوری 1996 کو پاکستانی فلمی صنعت کے اس ایکشن ہیرو کو نامعلوم افراد نے قتل کردیا موت کے بے رحم پنجے نے ایک آدمی کو قتل نہیں کیا بلکہ فن کا ایک باب ختم کر دیا۔

سلطان راہی کی مشہور فلموں میں مولا جٹ، شیر خان، وحشی جٹ، شریف بدمعاش، لاہوری بادشاہ اور GOD Father سمیت متعدد فلموں کے نام شامل ہیں۔

لولی وڈ کے لیجنڈ سلطان راہی کو دنیا سے رُخصت ہوئے انیس برس بیت گئے مگر اُن کے انداز اور فلم انڈسٹری پر چھوڑے گئے اَن مِٹ نقوش مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026