سانحہ پشاور کو ایک ماہ مکمل

شائع January 16, 2015

پشاور: خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردوں کے حملے کو ایک ماہ کا بیت گیا۔

16 دسمبر 2014 کو 7 دہشت گردوں نے اسکول پر حملہ کرکے 130 سے زائد بچوں سمیت 145 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

کئی اساتذہ نے بھی ننھے بچوں کو بچاتے ہوئے اپنی جانیں دی۔

سیکیورٹی فورسز نے اسکول کو گھیرے میں لیا اور 960 بچوں اور اساتذہ کو دہشت گردوں کے چنگل سے نکالا

اس حملے کے بعد آپریشن میں تمام عسکریت پسند ہلاک ہو گئے تھے۔

سیاسی قیادت دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس کارروائی پر متفق ہوئی۔

کل جماعتی کانفرنسوں میں دہشت گردی کے خلاف ایکشن پلان مرتب کیا گیا۔

دہشت گدوں کو جلد سزائیں دینے کے لیے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں جس کے لیے آئین میں 21 ویں ترمیم بھی کی گئی۔

6 سال سے غیر اعلانیہ طور سزائے موت پر عملدر آمد پر عائد پابندی کو بھی ختم کا گیا اور پھانسی کے منتظر قیدیوں کو سولی پر لٹکایا جانے لگا جس کے بعد 21 قیدیوں کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

دوسری جانب آرمی پبلک اسکول پر حملے کے پانچ مجرموں کو افغانستان سے گرفتار کرنے کی خبر بھی ملی۔

اس سے قبل آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور آئی ایس آئی کے ڈی جی میجر جنرل رضوان اختر نے افغانستان کا دورہ کیا اور پاک افغان سرحد کے دونوں جانب کاروائیاں تیز کرنے کے لیے اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔

شمالی وزیر ستان اور خیبر ایجنسی میں جاری آپریشن مزید تیز کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچستان کے افغان سرحد کے قریب پہاڑی علاقوں اور ملک کے شہری علاقوں میں بھی خفیہ اطلاعات پر کارروائیوں کو مزید وسعت دی گئی۔

کارٹون

کارٹون : 14 مارچ 2026
کارٹون : 13 مارچ 2026