'یہ سب صرف مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہی ممکن ہے'

شائع March 6, 2015

اسلام آباد: کل اسلام آباد میں آسمان ابرآلود تھا، اور پارلیمنٹ کے اجلاس میں قانون سازی اور مباحثے پر مبنی معمول کی کارروائی نہیں ہوئی اور لیکن یہ اجلاس مفاد پرستی اور سازشی سیاست کے لحاظ سے بہترین تھا۔

کل سینیٹ کی نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے، اور پارلیمنٹ ہاؤس کے زیادہ تر اراکین اس موقع پر موجود تھے۔

یہ الیکشن مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے لیے یکساں طور پر متنازعہ بن گیا تھا، جنہوں نے اس دن کے حوالے سے ہارس ٹریڈنگ کا شور مچایا ہوا تھا۔ اور اس حوالے سے دارالحکومت میں پچھلے ایک ہفتے سے تبادلہ خیال جاری تھا، اور اب حتمی کارروائی ہونی تھی۔

اسلام آباد میں اس دوران زور شور سے سرگرمیاں جاری رہیں، جہاں پیپلزپارٹی کے لوگ چند دنوں سے اکھٹا ہوئے تھے اور ن لیگ کے وزراء شاہراہِ دستور اور صوبائی درالحکومت کے آگے پیچھے بھاگ رہے تھے، تاہم اس کے باوجود پارلیمنٹ ہاؤس جمعرات کو نسبتاً پُرسکون نظر آیا۔ اراکین قومی اسمبلی اپنے ووٹ ڈالنے انفرادی طور پر یہاں پہنچے۔

ان میں سے ہر ایک کو منتظر ٹی وی کیمروں اور رپورٹروں کی جانب سے روکا گیا، لیکن بارش کی وجہ سے چند لوگ ہی باہر ٹھہر سکے۔

وہ سب ان کیمروں کے لیے تیزی سے ایک پھڑکتا ہوا جملہ اور ایک مسکراہٹ ہی دے سکے۔

لیکن ایوان کے اندر جس کو بھی بات چیت کے لیے وقت ملا، چاہے وہ سیاستدان ہوں جو کسی چمچے کی تلاش میں تھے یا صحافی جو کسی اسٹوری کی، دونوں ہی کی گفتگو کا موضوع یکساں تھا۔

ہر ایک کی زبان پر یہ سوالات تھے کہ کون اپنی پارٹی کے خلاف ووٹ دے سکتے یا سکتی ہیں؟ کس نے کتنی رقم قبول کی تھی؟اور سینیٹ میں فتح کا تاج کس کے سر پر سجایا جائے گا؟

لیکن ہفتے کو رات گئے مسلم لیگ ن کی جانب نے صدر کے ایک آرڈر کے ذریعے سب کو حیرت زدہ کردیا۔ اس آرڈر کے ذریعے فاٹا سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کے ووٹنگ کے حق میں سخت تبدیلیاں کی گئی تھیں، جن پر نہایت گرماگرم بحث کی گئی۔

اس صدارتی آرڈیننس نے واضح طور پر ایوان کے اراکین بالخصوص وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) سے تعلق رکھنے والے اراکین قومی اسمبلی کو متاثر کرتے ہوئے مشکل میں ڈال دیا تھا۔

جمعرات کی صبح کو پارلیمنٹ کی عمارت میں یہ بات واضح ہوئی تھی۔

کوئی نہیں جانتا تھا کہ کیا ہونے جارہا ہے، اور فاٹا کے اراکین کے لیے الیکشن اب کس طرح منعقد کیا جائے گا۔

تاہم جمعرات کے سرد اور برسات سے پُر دن میں خلاف توقع امر پارلیمنٹ ہاؤس کے لوگوں کے ہی منتظر نہیں تھے۔

یہاں تک کہ صحافی بھی یہ جان کر حیران رہ گئے کہ پریس گیلری بند کردی گئی تھی اور انہیں باہر نکال دی گیا تھا۔

میڈیا کے کسی بھی فرد کو پولنگ کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں تھی۔ سینیٹ کے پچھلے دو انتخابات کے دوران سیٹ ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے کوئی پولنگ نہیں ہوئی تھی لیکن اس سے قبل پولنگ کا مشاہدہ کرنے کے لیے صحافی پریس گیلری میں اکھٹا ہوتے تھے۔

ان میں سے ایک نے کارپارکنگ کی طرف جاتے ہوئے کہا ’’میں نہیں جانتا کہ حکومت پریس گیلری کو بند کرکے کیا چھپانے کی کوشش کررہی ہے۔ مجھے کبھی اس سے پہلے کسی الیکشن کے دن واپس نہیں کیا گیا۔‘‘

تاہم میڈیا کے لوگوں کی پریشانی کا مقابلہ فاٹا کے اراکین اسمبلی کی مایوسی اور غصے سے نہیں کیاجاسکتا، جن کے الیکشن کو عملی طور پر ان سے ’چُرالیا‘ گیا تھا۔ لیکن شاید الیکشن کمیشن کے اہلکار وہاں پُرندامت نظروں کے ساتھ موجود تھے اور حکومت کی مایوس کن پینترے بازیاں دیکھ کر الجھن میں پڑ گئے تھے۔ ان کی لاعلمی بھی واضح تھی، جس کا مظاہرہ کچھ یوں ہوا کہ انہوں نے فاٹا کے اراکین اسمبلی کو جو ہدایات پکڑائی تھیں، اس میں پرانا ووٹنگ سسٹم کی وضاحت کی گئی تھی۔ ان میں سے کچھ تو اپنے انتخابی میٹیریل وہیں پر چھوڑ کر الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹرز کی جانب دوڑ گئے، تاکہ مزید تازہ ترین احکامات حاصل کرسکیں۔

فاٹا کے ووٹ کے حوالے سے پیدا ہونے والی الجھن کی وجہ سے سیاستدانوں نے باہر منتظر ٹی وی کیمروں کا رُخ کیا جہاں انہوں نے اپنے سیاسی اتحاد کی جانب سے رٹائے گئے نکتہ نظر کو پیش کیا۔ حکومت نے اس آرڈر کا دفاع کیا، جبکہ دیگر نے ن لیگ کی دھجیاں اُڑا کر رکھ دیں۔

قومی اسمبلی میں فاٹا کے اراکین اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر سید غازی گلاب جمال حیرت زدہ تھے، انہوں نے گرجتے ہوئے کہا ’’حکومت نے ہمارا آئینی حق چوری کرلیا ہے۔‘‘

انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ پنجاب کے رکن صوبائی اسمبلی کو گیارہ سینیٹروں کو ووٹ دینے کی اجازت دی گئی ہے، ’’جبکہ ہم فاٹا کے لوگ صرف ایک رکن کو ایک ووٹ دیا گیا ہے۔‘‘

ایک سینئر صحافی جو چند سیاستدانوں کا جائزہ لے رہے تھے، انہوں نے حکومت پر برستے ہوئے تبصرہ کیا، ’’اس تازہ ترین اقدام نے اس تصور کی تصدیق کردی ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکمران قیادت خود اپنے آپ کو نقصان پہنچانے میں استاد کا درجہ رکھتی ہے۔‘‘

لیکن یہاں تک کہ مسلم لیگ ن کے پچھلی نشستوں پر بیٹھنے والے اراکین اپنی حکومت کے بارے میں کیے جانے والے ایک یا دو رُسواکن تبصروں پر ناراض نہیں تھے۔

حکومتی بنچوں پر بیٹھنے والے ایک رکن تلخ لہجے میں تبصرہ کیا ’’صدر نے سارا دن لاہور میں ہارس اینڈ کیٹل شو دیکھنے میں گزارا، اور وزیراعظم سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں، جبکہ پورا ملک ایک الیکشن کی گرفت میں ہے۔ ایسا صرف مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہی ہوسکتا ہے۔‘‘

اس پریشانی کے بیچ اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر دوبارہ سینیٹ پر اکثریت حاصل کرلی، جبکہ کئی دن سے اس پر الزامات عائد کیے جارہے تھے کہ وہ ہارس ٹریڈنگ کرنے والوں میں سب سے آگے ہے۔

قائدِ حزبِ اختلاف سید خورشید شاہ نے اپنے تجزیے میں کافی مطمئن محسوس ہوئے، انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈر جاری کرکے حکومت نے اپنی ناکامی تسلیم کرلی ہے۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن اپنے اس فیصلے پر پلٹنے کی کوشش نہیں کی۔اس نے تسلیم کیا کہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔

وفاقی وزیر برائے کشمیر اور گلگت بلتستان برجیس طاہر نے اعتراف کیا کہ ہارس ٹریڈنگ کو روکنے کے لیے تمام دستیاب آپشن ختم ہونے کے بعد حکومت کو صدارتی آرڈر کی یہ کڑوی گولی نگلنی پڑی۔

تبصرے (1) بند ہیں

الیاس انصاری Mar 06, 2015 07:36pm
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے انجام گلستاں کیا ہوگا؟

کارٹون

کارٹون : 4 مارچ 2026
کارٹون : 3 مارچ 2026