• KHI: Partly Cloudy 32.5°C
  • LHR: Cloudy 40.7°C
  • ISB: Cloudy 33.9°C
  • KHI: Partly Cloudy 32.5°C
  • LHR: Cloudy 40.7°C
  • ISB: Cloudy 33.9°C

’ایران معاہدہ نہ ہوتا تو اسرائیل کو خطرہ تھا‘

شائع August 5, 2015 اپ ڈیٹ August 5, 2015 02:41pm

واشنگٹن: امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس ایرانی جوہری معاہدے میں مداخلت کرتی اور امریکا ایران پر حملہ کردیتا تو اس کے جواب میں اسرائیل میں راکٹ برسائے جاتے۔

دی ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق نیشنل جوئش ڈیموکریٹک کونسل کے چیئرمین برگ روزین باگ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر باراک اوباما نے منگل کو ہونے والی دو گھنٹے کی طویل ملاقات میں یہودی رہنماؤں کو بتایا ہے کہ یہ ممکن تھا کہ قانون ساز اس معاہدے کی مخالفت کرتے اور معاہدے کے فوائد سے زیادہ ذاتی حیثیت پر بات چیت کی جارہی تھی۔

ایرانی جوہری معاہدے کے حوالے سے یہودیوں کی مکمل حمایت حاصل کرنے کے لیے امریکی صدر اوباما اور نائب صدر جیو بیڈن نے تمام سیاسی اور مذہبی طبقوں سے تعلق رکھنے والے 20 یہودی رہنماؤں کو وائٹ ہاؤس کے کیبنٹ روم میں مدعوں کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان جوہری معاہدہ طے

برگ روین باگ نے اجلاس کے بعد اسرائیلی ڈپلومیٹک ایسوسی ایشن کو بتایا کہ اوباما محتاط طریقے سے ایرانی جوہری معاہدے کی لیے دلائل دینے کی کوشش کررہے ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی کہ ’معاہدہ کسی بھی صورت میں بہتر نہیں ہے۔‘

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ویڈیو پیغام کے بعد اس ملاقات کا انعقاد کیا گیا تھا، جس میں زور دیا گیا تھا کہ شمالی امریکا کے جوئش فیڈریشن کے ممبران اس معاہدے کی مخالفت کرنے کے لیے میدان میں آجائے۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026