17ویں صدی، بکھرتی مغل سلطنت اور نیکولاؤ منوچی (پہلا حصہ)

تاریخ کے گزرے زمانوں کو سمجھنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ تقابلی جائزوں کے ذریعے ان زمانوں کے مختلف منظرنامے پڑھنے والے کے سامنے رکھیں۔ یعنی ہم جس مقام کی تاریخ بیان کررہے ہوں بالکل ان دنوں میں دوسرے مقامات پر جو کچھ ہو رہا تھا وہ بھی پیش کرسکیں تو تاریخ کو سمجھنے کی یہ ایک اچھی کوشش ہوگی۔

میں آپ کو برطانیہ کے جزیروں اور وہاں کی سیاسی اتھل پتھل سے متعلق ایک مختصر سی حقیقت سنانے والا ہوں۔ یہ وہ وقت ہے جب ہند میں مغل سلطنت کی داغ بیل پڑ رہی تھی۔

روم کے جولیس سیزر (جنم: 100 ق م، موت: 44 ق م) کا 300 برس تک جنوبی برطانیہ کے جزائر پر قبضہ رہا۔ سلطنت روما کے کمزور ہونے کے بعد 5ویں صدی عیسوی میں رومیوں نے ان جزائر سے واپسی کی، جس کے بعد شمالی جرمن قبائل نے برطانیہ کا رُخ کیا اور بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ان جزائر پر قبضہ کرلیا۔ جوٹس، اینگلز اور سکینز قبیلوں نے سارے برطانیہ پر قبضہ جمالیا اور آگے چل کر ان تینوں قبیلوں کو ایک نام ’اینگلز‘ سے پکارا گیا۔ اس نسبت سے برطانیہ کا نام انگلینڈ (انگلستان) مشہور ہوا۔

برطانیہ پر ’ٹیوڈر خاندان‘ (1485ء تا 1603ء) کی حکومت تھی اور سیاسی و تجارتی حوالے سے اُدھم مچا ہوا تھا۔ ہنری ہفتم نے پارلیمنٹ کے سہارے ایک مضبوط حکومت قائم کی اور ایک قانون بناکر جاگیرداروں کی طاقت کو کچل دیا۔ اسی زمانے میں نئے نئے سمندری راستوں کی کھوج ہوئی جو آگے چل کر بیوپار کے راستے بنے۔

مشہور کتاب ’کمپنی کی حکومت‘ کے مصنف باری علیگ لکھتے ہیں کہ ’ہنری ہشتم نہ کیتھولک تھا اور نہ پروٹسٹنٹ، وہ پروٹسٹنٹ کو بے دینی کے الزام میں اور کیتھولک کو یورپ کے تابع ہونے کے الزام میں قتل کرواتا۔ ہنری نے اپنے وزیرِاعظم کو اس لیے موت کی سزا دی کہ جب ہنری نے اس سے سوال کیا کہ انگلستان کے کلیسا کا حاکم اعلیٰ کون ہے؟ تو مور ’پوپ‘ کا نام لینے کی وجہ سے مارا گیا۔ 2 عشرے کے بعد ’تھامس کرامویل‘ کا بھی یہی حشر ہوا۔ ہنری کے بعد ’میری ٹیڈر‘ اور پھر اس کی بہن ’الزبیتھ‘ تخت نشین ہوئیں اور یہاں اکبر بادشاہ حکومت کے تخت پر بیٹھا۔ اکبر نے 1605ء میں یہ جہاں چھوڑا جبکہ ملکہ الزبیتھ مارچ 1603ء میں وفات پاچکی تھیں۔ ملکہ کے زمانے میں انگریز تاجروں نے ہندوستان سے تجارت کرنے کی کوشش کی اور ملکہ نے کمپنی کو 15 برس کے لیے ہندوستان سے تجارت کرنے کا اجازت نامہ جاری کیا۔ ان کے زمانے میں ہسپانیہ کے ’آرمیدہ‘ کی شکست نے انگلستان میں کیتھولک مذہب کو شکست دی جبکہ اس کے بعد انگریز ملاحوں کے لیے سمندر کے راستے کھل گئے اور ساتھ میں آرمیدہ کی شکست کے بعد انگلستان نے اپنی بحری طاقت کو بہت زیادہ مضبوط کیا اور انگلستان اور اسکاٹ لینڈ کی طویل کشمکش کا خاتمہ ہوا۔

’ملکہ الزبیتھ کے بعد جیمز اوّل کے زمانے میں کمپنی نے ’طامس رو‘ کو جہانگیر کے زمانے میں سفیر بناکر بھیجا اور اس کو سورت میں فیکٹری قائم کرنے کی اجازت ملی جبکہ جہانگیر نے اپنے دوسرے فرمان میں کمپنی کو اپنی سلطنت میں تجارت کرنے کی اجازت دے دی۔ اسی زمانے میں آگرہ، احمد آباد اور بھڑوچ میں کمپنی کی تجارتی کوٹھیاں قائم ہوئیں۔ جیمز کے بعد چارلس اوّل حکومت میں آیا جس کی اپنی حرکتوں کی وجہ سے پارلیمنٹ نے اس پر ظالم اور ملک دشمن ہونے کا الزام لگاکر اسے وائٹ ہال میں قتل کردیا۔

’اس کے بعد انگلستان میں آمرانہ جمہوریت کا زمانہ آیا۔ کرامویل انگلستان کا آمر تھا، یہ دور کچھ زیادہ عرصہ تک نہیں چل سکا۔ کرامویل کی موت (1658ء) کے بعد، چارلس اوّل کا بیٹا جو غیر ملکوں میں پناہ گزین تھا وہ انگلستان آیا اور تخت پر چارلس دوم کے نام سے بیٹھا۔ چارلس دوم 1649ء سے 1651ء تک اسکاٹ لینڈ کا بادشاہ رہا اور 1660ء میں بادشاہت کی بحالی سے لے کر 1685ء تک، انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کا بادشاہ رہا۔‘

اب ہمارے سفر کی ابتدا ہوتی ہے یورپ کے شہر وینس سے جو موسیقاروں کے حوالے سے مشہور شہر رہا ہے۔ یہ آج سے تقریباً 370 برس پہلے 1651ء کے ٹھنڈے نومبر کا ذکر ہے جب ایک 14 سال کا چھوٹے قد کا لڑکا وینس جیسے خوبصورت شہر کی گلیوں سے ہوتا ہوا بندرگاہ کی طرف جا رہا ہے۔ اس کا باپ خشک مصالحوں کا کاروبار کرتا ہے اور اسے وہ کاروبار پسند نہیں ہے اس لیے وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر چپکے سے ایک پانی کے جہاز پر سوار ہوجاتا ہے جو وینس کے جزیرے کے کنارے کو چھوڑنے والا ہے۔

بادشاہ چارلس دوم
بادشاہ چارلس دوم

وینس شہر، 1797ء
وینس شہر، 1797ء

وینس کا سان مارکو بیسن، 1997ء، مصور: گیسپر وان وٹل
وینس کا سان مارکو بیسن، 1997ء، مصور: گیسپر وان وٹل

یہ لڑکا نیکولاؤ منوچی ہے۔ اس کے نصیب شاید اچھے تھے کہ وہ جس جہاز پر سوار ہوا تھا وہ لارڈ بیلومانٹ کا تھا جو انگلستان سے آمر کرامویل کے ہاتھوں سے بچنے کے لیے نکلا ہوا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ چارلس دوم کا حامی تھا جو ان دنوں فرانس میں تھا اور اس کو قتل کرنے کے احکامات تھے۔ لارڈ بیلومانٹ نے اس لڑکے کو اپنے چھوٹے سے جہاز پر کھلے دل سے خوش آمدید کہا۔ جب منوچی نے اس سے پوچھا کہ یہ جہاز کہاں جائے گا؟ تو لارڈ نے جواب دیا کہ ’روم، فارس اور ہندوستان‘۔ یہ جواب سن کر لڑکا بہت خوش ہوا۔

یہ قافلہ سمرنا، برکا، روم، تبریز، قزوین اور اصفہان سے ہوتا ہوا بندر عباس پہنچا۔ ان کا یہ طویل سفر کبھی خشکی پر اور زیادہ سمندر کی سطح پر ہوا۔ بندر عباس کے بعد سخت سردیوں کے موسم میں وہ 15 دسمبر 1655ء کو سندھ کے مشہور 'لاڑی' (لاھڑی) بندر پہنچے۔ مانوچی اس کو سندھی کے نام سے بلاتا ہے۔ جہاز نے وہاں لنگر ڈالا اور یہ دریا کے بہاؤ کے کنارے رات بھر چل کر ایک آبادی میں پہنچے۔

مانوچی لکھتا ہے کہ ’12 گھنٹوں کی مسافت کے بعد ہم آباد جگہ پر پہنچے (لاھری بندر اور ننگر ٹھٹہ کے درمیان میں آباد بستی کی صورت میں ہمیں تاریخ میں ایک سرائے کا ذکر ملتا ہے۔ ممکن ہے جہاز کے کپتان کو وہاں کوئی کام ہو کیونکہ یہ 15 دسمبر کو پہنچے تھے اور تقریباً 20 دن یہاں رہے۔ چونکہ شمال کی ہواؤں کی وجہ سے سورت کا سفر ان کے لیے آسان رہا ہوگا اور 8 سے 10 دنوں میں وہ سورت پہنچ گئے ہوں گے) ہم نے بندرگاہ پر کئی عربی اور فارسی کشتیوں کو دیکھا جن کے ذریعے کھجوریں، گھوڑے، جواہرات، موتی، خوشبو، گوند، برگ سنا (سنا مکی)، حجر الیہود اور دوسری اشیا مکہ وغیرہ سے لائی جاتی ہیں۔ ان کے تبادلے میں شکر سیاہ و سفید، گھی، زیتون کا تیل، ناریل وغیرہ اور دوسری اشیا کے علاوہ یہ لوگ سفید ململ اور چھینٹ وغیرہ بھی لے جاتے ہیں جو اس علاقہ میں تیار ہوتی ہے۔

'شہر میں 3 چھوٹے چھوٹے کارخانے تھے۔ ایک انگریزوں کا، دوسرا ولندیزوں کا اور تیسرا پرتگالی لوگوں کا۔ یہاں ایک برہنہ پادری بھی ایک چھوٹی سی کٹیا میں رہائش رکھتا تھا مگر آج کل (1699ء) ان یورپین میں سے کوئی نہیں ہے (اس کا مطلب یہ ہوا کہ 1699ء میں بھی منوچی ’لاڑی بندر‘ میں آیا تھا)۔ سندھ کا دارالسطنت (جنوبی) ٹھٹھہ جہاں پر اس صوبے کا حاکم رہتا ہے جو یہاں سے 12 فرسنگ (ایک فرسنگ سوا 3 میل کے لگ بھگ) اندرون ملک میں آباد ہے۔ جس وقت وہ کام ہوچکا جس کے لیے کپتان نے لنگر ڈالا تھا تو ہم شہر سے چل پڑے اور جہاز کا سفر شروع ہوا۔ ہم 12 جنوری 1656ء کو سورت کی بندرگاہ میں لنگر انداز ہوئے۔‘

نیکولاؤ منوچی کے ساتھ ہم آگے سفر پر نکلیں، اس سے پہلے یہ بہتر ہوگا کہ یہاں کے جو سیاسی حالات تھے ان پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ گزری کچھ صدیوں میں مغل شہنشاہوں نے اپنے تاجوں میں لگی کلغیوں کے سحر میں جو غلطیاں کی تھیں ان غلطیوں اور بیوقوفیوں کے درختوں میں نتائج کا میوہ لگنا شروع ہوچکا تھا اور یہ صدی اس میوے کے پکنے کا زمانہ تھا۔

نیکولاؤ منوچی
نیکولاؤ منوچی

لاڑی بندر کے آثار
لاڑی بندر کے آثار

لاڑی یا لاھڑی بندر کے آثار
لاڑی یا لاھڑی بندر کے آثار

لاڑی بندر کے آثار
لاڑی بندر کے آثار

سورت کی بندرگاہ
سورت کی بندرگاہ

یہ ممکن ہے کہ شہنشاہوں کی سرور بھری آنکھوں کو آگرے، دہلی، لاہور اور ملتان کے شاہی محلوں کی رنگینیوں اور خوشبووں کے گاڑھے دھویں میں، زوال کی شام کی پرچھائیاں نظر نہ آئی ہوں۔ مگر یہ حقیقت تھی کہ کمال کا نکلا سورج ڈھلنے لگا تھا۔

کچھ تحریر کرنے والے یہ بھی تحریر کرتے ہیں کہ مغلیہ سلطنت کی دوپہر، شام میں اس دن بدلی جب شہزادے سلیم نے آنکھیں موندیں۔ کہتے ہیں کہ بیرم قلعہ جس کو ’سجان رائے‘ نے ’بیرم کلہ‘ تحریر کیا ہے، کے پاس ایک آبشار ہے جو نورجہاں کے نام کی غایت سے ’نوری چھم‘ کہلاتی ہے۔ اسی جگہ پر ہرنوں کا شکار کرتے جہانگیر کی طبیعت بگڑی، وہاں سے گزر کر راجوری میں منزل کی، وہاں سے تیسرے پہر روانگی ہوئی، راہ میں پیالہ مانگا، پینا چاہا لیکن بدذائقہ لگا۔ چکرہتی کی منزل تک پہنچتے پہنچتے حالت غیر ہونے لگی اور اسی طرح 23 برس حکومت کرنے کے بعد 58 برس کی عمر میں 1627ء میں کشمیر سے لوٹتے وقت، نورجہاں کے سلیم نے ہمیشہ کے لیے آنکھیں موندلیں۔

جب 4 فروری 1628ء میں شاہجہان مغلوں کی روایتی شان و شوکت کے ساتھ آگرہ میں تخت نشین ہوا تو اس کے ہاتھ رشتے داروں کے خون سے رنگے ہوئے تھے۔ اس نے جہانگیر کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے ابوالمظفر شہاب الدین محمد صاحبقران ثانی شاہجہان بادشاہ غازی کا لقب اختیار کیا۔ تاریخ کے اوراق میں ہے کہ شاہجہان نے اپنی تاج پوشی کے موقع پر، ایک کروڑ 70 لاکھ روپے خرچ کر ڈالے تھے اور کیوں نہ کرتا کہ آخر راجہ ادھے سنگھ کی بیٹی اور جودھپور کے شاہی گھرانے میں پیدا ہونے والی پیار سے پلی ’جگت گوسائیں‘ کا بیٹا جو تھا۔ پیسے کی اہمیت وہ جانتے ہیں جو پسینہ بہاکر کماتے ہیں، جن کو پیسے شہنشاہیت کے خوف کی وجہ سے مفت میں ملیں ان کے سامنے ہزاروں کیا، لاکھوں کیا اور کروڑوں کیا۔

شاہجہان نے نورجہاں کے لیے سالانہ 2 لاکھ روپیوں کی پینشن مقرر کی تھی۔ رام پرساد ترپاٹھی رقم طراز ہیں کہ ’شاہجہان نے جو ازراہ مہربانی یہ پینشن مقرر کی اس کے متعلق واضح نہیں ہے کہ یہ رقم نورجہان کی عنایات کے صلے میں تھی جو اس نے شاہجہان سے اعتمادالدولہ کے زمانے میں کی تھیں یا اپنے ضمیر کو تسلی دینے کے لیے کی تھی تاکہ اس نے جو سیاسی چالیں نورجہاں کے خلاف چلی تھیں اور اس سلسلے میں اس خاتون پر جو گستاخانہ الزام لگائے تھے ان کی تلافی کی جاسکے'۔

جہانگیر کے بعد، نورجہاں نے عملی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کی اور یہی بہتر فیصلہ تھا کیونکہ اس کی ایک بیٹی کے سوا اور کوئی اولاد نہیں تھی اور وہ بیوہ بیٹی اس کے آخری 15 برس کی ویران زندگی کا سہارا تھی۔ نورجہاں کی سانس کی ڈوری 1645ء میں ٹوٹی اور لاہور میں اس کو اپنے شوہر کے قریب دفن کیا گیا۔ شاہجہان کے دل کی ملکہ ارجمند بانو بیگم ممتاز محل 7ویں بچے کو جنم دیتے ہوئے، جون کے گرم مہینے میں 1631ء کو یہ دنیا چھوڑ چکی تھی۔ دوسرے بادشاہوں کی طرح شاہجہان کے دل و دماغ میں بھی اس تمنا کی کونپل پھوٹ پڑی کہ افغانستان اس کی سلطنت کا حصہ ہو، اس لیے 50 ہزار سواروں کی فوج لے کر 1639ء میں وہ افغانستان پہنچا۔ حالات کا تجرباتی اور تجزیاتی آنکھوں سے جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ شیبانیوں سے جنگ نہیں چھیڑنی چاہیے اور تمنا کی کونپل کو امید کا پانی دیے بغیر وہ ہندوستان لوٹ آیا۔

1641ء میں سمرقند کے حاکم ’امام قلی خان‘ کو اس کے جاہ طلب اور چنچل بھائی نظر محمد نے بغاوت کرکے تخت سے اتار دیا، جو بلخ کا گورنر تھا۔ اس عمل کے نتیجے میں بغاوت پھوٹ پڑی اور یہاں تک کہ نظر محمد کے لڑکے بھی اس بغاوت میں شامل ہوگئے۔ اس کے ایک لڑکے ’عبدالعزیز‘ نے خود کو بخارا کا گورنر ہونے کا اعلان کردیا اور اپنی حکومت کو وسعت دینے کے لیے آس پاس کے علاقوں پر حملہ کرکے ان کو زیرِ دست کرنے لگا۔ جب نظر محمد نے خود کو کمزور حالت میں پایا تو شاہجہان سے مدد کی اپیل کی۔ شاہجہان اس کو کیسے انکار کرسکتا تھا کہ اس کی تمناؤں کے آسمان پر ہندوستان سے شمال اور مشرق کی طرف اپنی سلطنت کو وسعت دینے کا ہلال نظر آنے لگا تھا۔ چنانچہ اس نے 1646ء میں شہزادہ مراد اور علی مردان خان کی سرکردگی میں ایک بڑی فوج کی تیاری کا حکم دیا۔ جولائی 1646ء کو مغل فوج نے، قندوز، خوست، بدخشاں اور بلخ پر قبضہ کرلیا۔ اس فوج کشی، جنگ اور فتح کے دوران، شاہجان کابل میں رہا۔ اس سارے منظرنامے نے وسط ایشیا کے لوگوں میں ایک خوف کی کیفیت کو جنم دیا کیونکہ مغل فوج نے لوٹ مار میں ایسا بازار گرم کیا کہ خود نظر محمد کے ساتھیوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔

مغل بادشاہ جہانگیر
مغل بادشاہ جہانگیر

ملکہ نور جہاں
ملکہ نور جہاں

ملکہ ممتاز محل
ملکہ ممتاز محل

امام قلی خان
امام قلی خان

شاہجہان نے بلخ کی گورنری اورنگزیب کو سونپی اور پشاور سے کابل تک والے راستے پر فوج کی ایک بڑی تعداد جمع کرکے رکھی کہ کل کلاں حالات رُخ تبدیل کریں تو فوج کو اس طرف بھیجا جائے۔ مئی 1647ء میں جب اورنگزیب وہاں میدانِ جنگ میں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اہم فوجی مقامات کے استحکام اور بچاؤ کے لیے اس کو جو فوج ملی ہے وہ شہزادہ مراد کی فوج سے صرف آدھی ہے۔

مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال کے مصنف رام پرساد ترپاٹھی لکھتے ہیں کہ ’بھائیوں کی ایک دوسرے سے نااتفاقی نے اس قبضے کو جڑیں پکڑنے نہیں دی'۔ ساتھ میں یہ بھی حقیقت تھی کہ ایران کبھی نہیں چاہتا تھا کہ مغل سلطنت کی سرحدیں افغانستان تک آجائیں۔ بہرحال اسباب جو بھی رہے ہوں 1647ء میں مغل فوج واپس لوٹ آئی۔ بلخ کی اس جنگ میں شاہجہان کے 4 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ یہ رقم دہلی اور آگرہ کی ایک برس کی آمدنی سے کچھ کم تھی۔

1652ء میں پھر غلط معلومات کی بنیاد پر، شاہجہان نے سعد اللہ خان کو 50 ہزار سوار، 10 ہزار بندوقچی، 8 بھاری اور 20 ہلکی توپیں دے کر، کابل اور غزنی کے راستے بھیجا اور دوسری طرف ملتان سے اورنگزیب قندھار کی طرف روانہ ہوا۔ جنگ شروع ہوئی اور مغل فوج نے اپنی بھرپور طاقت کا استعمال کیا مگر یہ طاقت اور حکمتِ عملی کچھ کام نہ آئی۔ 2 ماہ 8 دن کی کوششوں کے بعد بھی قندھار کا قلعہ فتح نہ ہوا اور ایک بار پھر مغل فوج کو ناکام واپس لوٹنا پڑا۔ یہ ناکامی اگر شاہجہان کو جوانی میں ملتی تو شاید اس ناکامی کا اثر اتنا گہرا نہیں ہوتا۔ مگر 60 برس کی عمر میں اس ناکامی نے اسے غضب ناک کردیا اور اس غصے کی وجہ سے اس نے اورنگزیب کو دکن بھیج دیا جبکہ ملتان اور کابل کے صوبے بڑے بیٹے دارا کو دے دیے اور اس سے قندھار کو فتح کرنے کی امید رکھی۔

اپریل 1653ء میں دارا ملتان کے راستے قندھار پہنچا۔ اس کے ساتھ 70 ہزار سپاہی اور 47 کے قریب توپیں تھیں۔ محاصرے کی ابتدا ہوئی مگر ایرانیوں کو اس حملے کی توقع پہلے سے تھی اس لیے انہوں نے ہر حوالے سے قلعے کو محفوظ رکھا۔ محاصرہ 50 ماہ تک چلتا رہا جس سے سوچا جاسکتا ہے کے قلعہ کے اندر کس حساب سے خوراک اور پانی وغیرہ کا انتظام کیا گیا ہوگا۔ میں مغل فوج کی خوراک اور بارود کی مختصر تفصیل پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لیے تحریر کر رہا ہوں، جو ’شاہجہان نامہ‘ میں درج ہے۔ اس میں 14 ہزار بان، 30 ہزار چھوٹے بڑے گولے، 5 ہزار من بارود اور ڈیڑھ ہزار من سیسہ شامل تھا۔ جب یہ ختم ہونے لگا تو مایوسی اور تھکان نے ان کے ذہنوں اور جسموں کو آکاس بیل کی طرح جکڑ لیا اور سونے پہ سہاگہ سردی کے موسم کی آمد تھی۔ مجبوراً محاصرہ اٹھالیا گیا اور دارا انہی راستوں سے ناکام ہوکر لوٹا جن پر سے فتح کے خواب دیکھتا ہوا گیا تھا۔

ناکامی کی صورت میں حساب کتاب بڑے یاد آتے ہیں۔ بلخ اور قندھار کے حملوں پر اندازاً 11 کروڑ روپے تک کا خرچہ ہوا اور شاہجہان نے دکن کے وائسرائے اورنگزیب پر دباؤ ڈالا کہ مفتوحہ علاقوں سے خراج وصول کرنے میں سختی کی جائے اور کچھ رقم ضرور شاہی خزانے کے لیے بھیج دی جائے۔

ترپاٹھی لکھتے ہیں کہ ’مگر شہزادہ خود بھی بے حد ضرورت مند تھا، اس بات کی مشکل سے ہی توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ مرکز کو روپیہ بھیجے گا'۔ یہ اس حوالے سے بھی کچھ ناممکن نظر آتا تھا کہ اگر آپ شاہجہان نامہ کا ان برسوں میں مطالعہ کریں تو، دارا شکوہ کی قندھار کی ناکامی بادشاہ کی طبیعت پر گراں نہیں گزری، اور 1653ء سے 1655ء تک آپ کو شاہجہان جشن مناتے نظر آئیں گے۔ کبھی جلوس کے سال کا جشن، کبھی شمسی عمر بڑھنے کا جشن، کبھی قمری عمر کا جشن۔ کبھی لاکھوں روپے سے تعمیر شکار گاہوں کے جشن، کبھی آگرہ سے دہلی پہنچنے کا جشن، دہلی سے لاہور اور پھر لاہور سے آگرہ پہنچنے کا جشن۔ مطلب جشن ہی جشن۔ ان جشنوں میں سب سے زیادہ تحفے تحائف اور قیمتی ہیرے جواہرات کے تحفے بادشاہ، دارا شکوہ کو دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

جب وہ قندھار کی مہم سے ناکام لوٹا تو شاہجہان نامہ کے مصنف محمد صالح کمبوہ کے مطابق 'شاہجہان بہت عرصے کے بعد 1653ء کے آخر میں آگرہ گئے تھے جہاں اس نے قلعہ میں سنگِ مرمر کی مسجد کا افتتاح کیا جس کا کام 7 برس سے چل رہا تھا۔ جبکہ سمو گڑھ سے نصف کوس دُور، دریائے جمنا کے کنارے 80 ہزار روپوں کی لاگت سے بادشاہی شکار گاہ کا نیا احاطہ تعمیر گیا تھا وہاں شکار کرنے گئے اور ایک رات وہاں گزارنے کے بعد 20 دسمبر 1653ء کو دہلی کے لیے روانہ ہوئے اور 4 جنوری 1654ء کو دارالخلافہ دہلی میں داخل ہوئے۔ اسی روز شہزادہ دارا شکوہ، قندھار سے واپس آنے پر بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ان پر عنایات خاص فرمائیں، فرط الفت کے سبب دیر تک سینے سے لگائے رکھا اور پیشانی چومی۔ 16 جنوری کو بادشاہ کے 63ویں شمسی سال میں پہنچنے کا جشن منایا گیا۔ اس جشن میں بادشاہ کے بیٹھنے کے لیے جو تخت بنوایا گیا تھا اس پر فقط 5 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اتنے ہی پیسے غریبوں میں بھی بانٹے گئے۔ شاہزادہ دارا شکوہ کو 4 لاکھ روپے کے جواہرات و مرصع آلات اور ایک ہتھنی بھی مرحمت فرمائی۔ جبکہ 19 فروری کو بادشاہ کا 65ویں قمری سال کا جشن جمعرات کے دن دھوم دھام سے منایا گیا‘۔

قلعہ قندھار کے آثار
قلعہ قندھار کے آثار

دارا شکوہ
دارا شکوہ

دارا شکوہ قندھار سے واپسی پر بادشاہ سے ملتے ہوئے
دارا شکوہ قندھار سے واپسی پر بادشاہ سے ملتے ہوئے

یہ وہ منظرنامہ ہے جو ہمیں مختلف تاریخوں کے صفحات میں نظر آتا ہے۔ بلکہ زیادہ معلومات کا وسیلہ ہمارے سامنے شاہجہان نامہ ہے۔ مگر چونکہ وہ بادشاہ کی طرف سے تحریر ہے تو ضرور حقائق میں اُلٹ پھیر تو ہوگی۔ مگر ہمارے پاس اس زمانے کے 2 اہم یورپی مصنفوں کی تصنیفات موجود ہیں جن میں ایک فرانسس برنیئر ہے اور دوسرا نیکولاؤ منوچی ہے جو یہاں آیا تو یہاں کا ہوکر رہ گیا۔ برنیئر تو کچھ برس رہنے کے بعد واپس فرانس چلا گیا مگر منوچی مدراس میں دفن ہوا۔ چونکہ وہ بادشاہوں کے قریب رہا اس لیے ہمیں 17ویں صدی کا آنکھوں دیکھا احوال اچھی تحریر میں پڑھنے کو مل جاتا ہے۔ منوچی سورت پہنچ چکا ہے اور اب وہ برہان پور اور آگرہ جانے کی تیاری میں ہے کہ اس کے ساتھ میں لارڈ بیلومانٹ بھی ہے۔ مگر ہمیں لگتا ہے کہ اس بیچارے لارڈ کے پاس حیات کے کچھ زیادہ دن نہیں بچے ہیں!


حوالہ جات

۔ ’ہندوستان عہد مُغلیہ میں‘۔ نیکولاؤ منوچی۔ ملک راج شرما۔ لاہور

۔ ’خلاصتہ التواریخ‘۔ سُجان رائے بٹالوی۔ 1966ء۔ مرکزی اردو بورڈ، لاہور

۔ ’تاریخ کے مسافر‘۔ ابوبکر شیخ۔ 2020ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور

۔ ’مغلیہ سلطنت کا عروج و زوال‘۔ رام پرساد ترپاٹھی۔ 2018ء۔ کتاب میلہ، لاہور

۔ ’شاہجہان نامہ‘۔ ملا محمد صالح کمبوہ۔ 2013ء۔ سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور


ابوبکر شیخ آرکیولاجی اور ماحولیات پر لکھتے ہیں۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر کے لیے فوٹوگرافی اور ریسرچ اسٹڈیز بھی کر چکے ہیں۔ ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے۔


ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دیے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔