• KHI: Clear 29.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 29.4°C
  • KHI: Clear 29.7°C
  • LHR: Partly Cloudy 34.8°C
  • ISB: Partly Cloudy 29.4°C

وہ پولیس افسر جو ناول نگار بن گیا

شائع August 7, 2015 اپ ڈیٹ August 7, 2015 09:56am

اسلام آباد: عمر حامد نے اپنے والد کے قتل کے بعد ان کے قاتل سے بدلہ لینے کے لیے پولیس میں شمولیت اختیار کی۔ 12 سال بعد فورس کو چھوڑا اور اور جس شخص نے ان کے والد کے قاتل کو گرفتار کیا وہ ان کا بہترین دوست بن گیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عمر نے کراچی جیسے شہر میں انسداد دہشت گردی کے پولیس افسر اور انڈزورلڈ کے متعدد لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد دو زبردست ناول لکھے۔

طالبان عسکریت پسندوں، منشیات کی اسمگلنگ، اور مافیا سے بھرے اس شہر میں عمر حامد کراچی کرائم انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیڈ بنے۔ ان کا نیا ناول ’دی اسپنرز‘ وال سٹریٹ جرنل کے رپورٹر ڈینیئل پرل کا سر قلم کرنے والے برطانوی نژاد گریجویٹ عمر سعید شیخ پر مبنی ہے، اس دور میں حامد پولیس میں نئے نئے بھرتی ہوئے تھے۔

حامد نے عسکریت پسندی کی جانب سے بہکائے جانے والے کئی تعلیم یافتہ، نوجوان، متوسط طبقے کے افراد کو گرفتار کیا۔

حامد کا کہنا ہے کہ وہ تمام لوگ بہت باصلاحیت اور تعلیم یافتہ تھے جنہیں معاشرے کی جانب سے ان کا حصہ نہیں مل سکا۔

وہ شدت سے کسی ایسی چیز کا حصہ بننا چاہتے تھے جو ان سے بھی بڑا ہو، جہاد کو ایک کینوس کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے جس کو استعمال کرتے ہوئے وہ خود کو پیش کرنا چاہتے تھے۔

یہ کہانی دو ایسے دوستوں پر بنائی گئی ہے جو اسکول میں ایک ساتھ تھے اور کرکٹ کے کھیل میں دلچسپی رکھتے تھے۔ البتہ ان کا راستہ اس وقت الگ ہوا جب ایک نے خود کو مغربی ثقافت میں ڈھال لیا جبکہ دوسرا اس کو تباہ کرنے کے راستے پر چل پڑا۔

حامد کا کہنا تھا کہ اسے اپنی تقسیم ہوتی وفاداری کا بھی اس وقت سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے ایک نوجوان عسکریت پسند کوگرفتار کیا۔ اس مشتبہ شخص نے حامد کی ایمانداری پر سوال اٹھاتے ہوئے نظام انصاف کا مذاق اڑایا۔

حامد کا پہلا ناول ’دی پرزنر‘ تھا جو کہ سڑکوں پر سالوں گزارنے کے بعد انہوں نے لکھا۔

حامد کے مطابق فورس میں شامل ہونے کے بعد دہشت گردوں کو گرفتار کرنا ان کے لیے ایک جنون جیسا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026