ہندوستان: ہندوؤں کی تعداد میں کمی، مسلمانوں میں اضافہ
نئی دہلی: ہندوستان میں مسلمانوں کی آبادی میں اضافے کے باعث 1947 میں آزادی کے بعد پہلی مرتبہ یہاں ہندوؤں کی آبادی 80 فیصد سے کم ہوگئی ہے.
گذشتہ برس اقتدار میں آنے والی ہندوستانی وزیراعظم نریندرا مودی کی ہندو قوم پرست حکمران جماعت نے ملک میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے.
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اعداد وشمار اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ 2011 میں 1.2 بلین آبادی کے اس ملک میں ہندوؤں کی تعداد 79.8 فیصد تک رہ گئی، جو ایک عشرے قبل 80.5 فیصد تھی.
جبکہ 2001 میں مسلمانوں کی تعداد 13.4 فیصد تھی جو بڑھ کر 14.2 فیصد تک جاپہچی، مسیحی افراد کی تعداد 2.3 فیصد رہی جبکہ سکھ مت کےماننے والوں کی تعداد 1.9 فیصد سے کم ہوکر 1.7 فیصد رہ گئی۔
گذشتہ دنوں ہندوستانی سیاستدان ساکشی مہاراج نے ہندو خواتین کو مشورہ دیا تھا کہ انھیں اپنے مذہب کو بچانے کے لیے 4 بچوں کو جنم دینا چاہیے۔
1947 میں تقسیم ہند کے بعد مرتب کیے جانے والے پہلے اعداد شمار کے مطابق ہندو، انڈیا کی آبادی کا 84.1 فیصد تھے۔
اگرچہ تمام مذاہب میں آبادی بڑھنے کی شرح میں کمی ہورہی ہے تاہم اقوام متحدہ کے مطابق 2022 تک ہندوستان، چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔











لائیو ٹی وی
تبصرے (3) بند ہیں