بلدیاتی الیکشن کے غیر سرکاری ، غیر حتمی نتائج

شائع November 20, 2015 اپ ڈیٹ November 20, 2015 09:24am

لاہور/کراچی: بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) نے سب زیادہ نسشتیں حاصل کیں جبکہ سندھ کے بیشتر اضلاع میں پیپلز پارٹی کے اُمیدوار ناقابل شکست رہے، حیدرآباد میں متحدہ قومی موومنٹ نے کامیابی حاصل کی اور بدین میں ذوالفقار مرزا اور پی پی پی کے اُمیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔

پنجاب

بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پنجاب کے 12 اضلاع میں سے بیشتر پر مسلم لیگ نواز نے پاکستان تحریک انصاف کے اُمیدواروں پر سبقت حاصل کی۔

صوبے میں بڑی تعداد میں آزاد اُمیدواروں نے بھی کامیابی حاصل کی ہے، جن کو تحریک انصاف کے خلاف حکمران جماعت کی حمایت حاصل تھی۔

گذشتہ رات دیر گئے تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ نے 600 سے زائد نشستوں جبکہ آزاد اُمیداروں نے 455 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، تاہم تحریک انصاف کے اُمیدوار صرف 199 نشستیں لینے میں کامیاب ہوسکے۔

واضح رہے کہ انتخابات کے موقع پر کسی بھی قسم کے تشویشناک واقعے کی رپورٹ سامنے نہیں آئی، تاہم دن بھر مختلف مقامات پر حریف گروپوں کے کارکنوں میں معمولی تصادم ہوتے رہے، جن میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

پولنگ کے دوران حریف گروپوں میں تصادم کے باعث 25 افراد کے زخمی ہونے کی رپورٹس ہیں جبکہ چنیوٹ میں پولیس نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر کامیابی حاصل کرنے والے 3 آُمیدواروں کو گرفتار کیا۔

پولنگ کے دوران پیش آنے والے پُرتشدد واقعات اکثر ضلع گجرانوالہ، شیخو پورہ، حافظ آباد اور میاں والی میں پیش آئے جو حکومت کی جانب سے پہلے ہی انتہائی حساس قرار جاچکے تھے۔

دیگر 8 اضلاع میں ضلع چنیوٹ، سرگودھا، ساہیوال، خانیوال، منڈی بہاالدین، جہلم، چکوال اور اٹک شامل ہیں۔

پنجاب کے ان 12 اضلاع میں ایک کروڑ ستر لاکھ افراد، جن میں 64 لاکھ خواتین بھی شامل تھیں، نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا اور یہاں ووٹر ٹرن آؤٹ بہت ہی اچھا رہا۔

پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کی مانیڑننگ کرنے والی تنظیم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) نے دعویٰ کیا ہے کہ بیشتر پولنگ اسٹیشنز پر خواتین کو ووٹ ڈالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کمیشن کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ ’اُمیدواروں کی رضا مندی کے باعث ضلع سرگودھا اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی ایک، ایک یونین کونسل میں خواتین کے ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد تھی۔‘

دوسری جانب میاں والی میں جرگے کے فیصلے کے باوجود اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کی جانب سے ای سی پی کو خواتین کے ووٹ ڈالنے میں رکاوٹ کے حوالے سے آغاز کرنے کے بعد بڑی تعداد میں خواتین ووٹروں نے یہاں اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے میں کامیابی حاصل کی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان کو میاں والی، سرگودھا، چنیوٹ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کی مختلف یونین کونسلز سے انتخابات کے دوران بے ضابطگیوں اور بدانتظامی کے حوالے سے متعدد شکایات موصول ہوئیں۔

ادھر بعض اُمیدواروں اور پولنگ عملے کی جانب سے میڈیا کو انتخابات کی کوریج کرنے سے بھی روکا گیا۔

پولیس نے سرگودھا کی یوسی 140 سے خود کو ای سی پی کا افسر ظاہر کرنے والے 3 جعل سازوں کو بھی گرفتار کیا۔

سندھ

سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں صوبے کے 14 اضلاع میں ہونے والی پولنگ میں ٹرن آؤٹ 50 فیصد رہا اور یہاں 5100 نشستوں کے لیے 14000 اُمیدوار مد مقابل تھے۔

بلدیاتی الیکشن کے دن رات دیر گئے تک آنے والے والے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق صوبے کے 12 اضلاع میں پیپلز پارٹی نے میدان مار لیا جبکہ سابق صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے اُمیدواروں نے بدین اور متحدہ قومی موومنٹ نے حیدرآباد میں وائٹ واش کیا۔

بنیادی طور پر سندھ کے 15 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہونا تھے تاہم سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ضلع سانگھڑ میں انتخابات ملتوی کردیئے گیے۔

اس کے علاوہ بلدیاتی انتخابات کے انعقاد سے ایک روز قبل الیکشن کمیشن کی جانب سے حد بندیوں کے مسئلے کے پیش نظر دیگر 76 یونین کونسلز میں بھی انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان کیا گیا۔

مجموعی طور پر صوبے بھر میں انتخابات انتہائی پرسکون ماحول میں ہوئے تاہم کچھ علاقوں میں پیپلز پارٹی اور اس کے حریف گروپوں کے درمیان تصادم کی رپورٹس سامنے آئیں۔

پیپلز پارٹی کے اُمیدواروں کو ضلع بدین میں ذوالفقار مرزا کے اُمیدواروں سے سخت مقابلے کا سامنا رہا جبکہ حیدرآباد میں ایم کیو ایم نے کامیابی حاصل کی۔

تبصرے (1) بند ہیں

حسین احمد کانجو Nov 20, 2015 10:55am
بلدیاتی انتخابات کی بھترین صحیح کوریج پر مبارک ھو

کارٹون

کارٹون : 24 اپریل 2026
کارٹون : 23 اپریل 2026