نابینا نوجوان 50 کروڑ مالیت کی کمپنی کا مالک
حیدرآباد: جب سری کانتھ بولا اس دنیا میں آئے تو ان کے پڑوسیوں نے ان کے والدین کو ان سے چھٹکارا پانے کا مشورہ دیا کیونکہ وہ پیدائشی طور پر بینائی سے محروم تھے۔
لیکن ان کے والدین کو کچھ اور ہی مقصود تھا۔ انہوں نے اپنی تمام کوششیں سری کانتھ کو پڑھانے میں صرف کردیں، جس کا پھل یہ ملا کہ آج سری کانتھ ہندوستانی ریاست تلنگانہ کے شہر حیدرآباد میں 50 کروڑ روپے مالیت کی کمپنی کے سربراہ ہیں۔
ہنوستانی اخبار انڈیا ٹائمز کے مطابق سری کانتھ کی کمپنی معذور اور اَن پڑھ لوگوں کو ملازمت دیتی ہے، وہ ایک ماحول دوست پیکیجنگ بنانے والی کمپنی کے سربراہ ہیں، جسے بنانے میں قدرتی پتوں اور کاغذ کا استعمال کیا جاتا ہے۔
لیکن اتنے بڑے عہدے پر پہنچنا ایک آسان کام نہیں تھا۔
ابتداء میں سری کانتھ کو متعدد بار مسترد کیے جانے کا سامنا کرنا پڑا۔ بعدازاں انہیں خصوصی بچوں کے اسکول میں داخل کروا دیا گیا جہاں انہوں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کرنا شروع کیا اور ساتھ ساتھ چیس اور کرکٹ بھی کھیلا۔

دسویں جماعت میں 90 فیصد مارکس آنے کے باوجود انہیں سائنس میں داخلے کے لیے 6 مہینے کی جدوجہد کرنی پڑی۔
اپنے ایک استاد کی مدد سے، جو انہیں لیکچرز کو صوتی طرز پر بنا کر دیتے تھے، سری کانتھ نے امتحانات میں 98 فیصد مارکس حاصل کیے۔
اس کارکردگی کے بعد سری کانتھ کو میسی چوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) میں داخلہ ملا جہاں سے انہوں نے 2012 میں گریجویشن کی۔
بعد ازاں انہوں نے بولانٹ انڈسٹری کی شروعات کی جس میں آج 450 افراد کام کررہے ہیں۔
سری کانتھ نے ہندوستان کے سابق صدر، اے پی جی عبدل کلام کے ساتھ مل کر 'لیڈ انڈیا پراجیکٹ' میں کام کیا، یہ ایک ایسی تحریک ہے جو نوجوانوں کو معیاری تعلیم کے ذریعے با اختیار بناتی ہے۔
آپ موبائل فون صارف ہیں؟ تو باخبر رہنے کیلئے ڈان نیوز کی فری انڈرائیڈ ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔












لائیو ٹی وی
تبصرے (1) بند ہیں