نائیجیریا میں خاتون کا خود کش حملہ، 8 افراد ہلاک
مایدوغوری: نائیجیریا کے شمال مشرقی علاقے میں ایک خاتون خود کش بمبار نے ٹیکسی میں موجود دھماکا خیز مواد کو ایک مکان کے قریب زور دار دھماکے سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک ہوگئے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا تھا کہ شمال مشرقی ریاست بورنو کے دارالحکومت مایدوغوری میں ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں مبینہ خاتون خود کش بمبار بھی شامل ہے۔
نائیجیریا کے نیشنل ایمرجنسی مینجمنٹ ایجنسی (این سی ایم اے) نے ایک جاری بیان میں بتایا کہ خود کش دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔
واضح رہے کہ یہ دھماکا اس عمارت کے قریب ہوا ہے جہاں ہزاروں مہاجرین رہائش پذیر ہیں جو بوکو حرام کے حملوں کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے تھے۔
یاد رہے کہ فوری طور پر اس دھماکے کی ذمہ داری کسی بھی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے تاہم نائیجیریا سمیت دیگر افریقی ممالک میں بوکو حرام نامی عسکریت پسند تنظیم دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہی ہے۔
بوکو حرام کی جانب سے حالیہ کچھ ماہ میں نائیجیریا سمیت دیگر افریقی ممالک میں حملوں میں تیزی آئی ہے۔
گذشتہ ہفتے نیگر کے علاقے میں بوکو حرام کے حملے میں 22 فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
گذشتہ ماہ بورنو کی ریاست میں جلع صاندا میں فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں 6 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
رواں سال کے آغاز میں مایدوغوری کے علاقے میں اقوام متحدہ کے امدادی قافلے پر حملہ کیا گیا تھا۔
افریقی ممالک نائیجیریا، نیگر، چاد اور کیمرون میں گذشتہ 7 سال سے جاری مسلح تنازع میں اب تک کم سے کم 20000 افراد ہلاک جبکہ 26 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں۔











لائیو ٹی وی